مہران مری براہ راست جہد کارساتھیوں کو قتل کروانے کی سازش میں ملوث ہے۔ اسلم بلوچ

ہفتہ 18 اکتوبر, 2014

مہران مری براہ راست جہد کارساتھیوں کو قتل کروانے کی سازش میں ملوث ہے۔ اسلم بلوچ
سنگت حیربیار مری کی مخلصانہ محنت اور کارکردگی پر شب خون مار کر ذاتی ملکیت قرار دینے کی جوسرتوڑ کوششیں جاری ہے ۔
استاد واحدقمبر اور ڈاکٹر اللہ نذر کو تمام صورتحال سے آگاہ رکھا گیا تاکہ وہ کوئی بہتر کردار ادا کرسکیں مگران کا کردار مایوس کن رہا
مہران مری اپنی نااہلی اور بری عادتوں کی پردہ پوشی کے لیے مرحوم نواب خیربخش مری کا نام لے رہا ہے
کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ قومی آزادی کے مسلح جہد کار اسلم بلوچ نے گذشتہ روز مہران مری کے بی یو سی انٹرویو اور بیان کے متعلق کہا کہ مہران نے حقائق سے جان چھڑانے کیلئے اپنی مبہم موقف ، کمزور سوچ اور بچگانہ خیالات کا اظہار کرکے پیپاپوتی کا سہارا لیا اور بی ایل اے کی پیدا کردہ قومی مڈی کے حوالے سے ذاتی ملکیت کی طرف اشارہ کیا ہے یعنی مہران مری شاہد نہ چاہتے ہوئے بھی یہ کہہ گیا کہ یہ نواب صاحب کی ذاتی ملکیت ہے کیونکہ دوسری طرف قومی سیاست اور اجتماعی سوچ کے حوالے سے زامران مری کے پاس کوئی بھی سیاسی یا اخلاقی مضبوط جواز تھا ہی نہیں جس کو وہ پیش کرتے اور اسی جواز کی بنیاد پر مڈی پر قبضے کو جائز قرار دیتے ماسوائے اس کے کہ خودساختہ نواب مری کے دعوے کے بعد وہ یعنی زامران نواب مری کے ذاتی ملکیت کے وارث اور حقدار ٹہرتے ہیں اور اپنے ناجائز اور بے بنیاد حق وراثت کو جائز قراردینے کیلئے اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نواب خیربخش مری کی زندگی میں کیوں مڈی کیلئے دعوٰی نہیں کیا گیا نواب مری کے رخصت ہونے کے بعد دعوٰی کیا جارہا ہے یعنی یہ تاثر دینے کی کوشیش کی گئی کہ حقیقی مالک جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اس کے وارث کو لوٹنے کی کوشش ہورہی ہے یہاں اس بات کا خلاصہ ضروری ہوجاتا ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے اور اس کے بارے میں بنیادی تصور کیا تھا اور ہے دراصل حقیقت یہ ہے کہ مڈی دوست صرف اورصرف جنگی سازوسامان کو کہتے ہیں جنگی سازوسامان کو جمع کرنے کا بنیادی تصور یا فکر شروع سے ہی صرف اورصرف قومی آزادی کی جنگ میں انکو کام میں لانا تھا تقسیم کرتے وقت یہ ہدایت کہ ان کا استعمال دشمن کے خلاف ہوگا ذاتی مسئلوں یا قبائلی جھگڑوں میں ان کا استعمال جرم تصور ہوگا اس حالیہ جنگی لہر میں اس مڈی کا استعمال اور تقسیم مکمل قومی اور اجتماعی سوچ کے بنیاد پر ہوا جس کے لیے سب سے بڑا ثبوت بی ایل ایف اور استاد قمبر ہیں (2010 کے بعد کے حالات اجتماعی مفادات کے خلاف اقدامات کے خلاف بی ایل اے کا مشروط جدوجہد کا اعلان زیر بحث نہیں )یہ مڈی کیسے اور کہاں سے آیا یہ بھی ایک اہم سوال بن چکا ہے کیونکہ اس قومی مڈی کو ذاتی ملکیت قرار دے کر اس پر قبضہ کیا جاچکا ہے اور آج یہ بلوچ جہد کاروں کے خلاف استعمال بھی ہوچکا ہے ایک خیال یہ ہے کہ یہ مڈی افغانستان سے جلاوطنی ختم کرنے کے بعد لایا گیا تھا لیکن افغانستان سے واپسی پر لائے جانے والی مڈی کی حقیقت یہ تھی کہ وہ دو بڑے گوریلا کیمپوں کی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتے تھے 1992 سے لیکر 2000 تک خاص کر دور وزارت میں قومی سوچ کے تحت جنگی بنیادوں پر سنگت حیربیارمری کے زیرنگرانی انکو جمع کیا گیا دوروزارت کے بعد وسائل کی کمی کو مدنظر رکھ کر صرف چند دوستوں نے دوسرے ذرائع بھی استعمال میں لائے اور طاقت سے حاصل کیے گئے پیسوں سے بھی ہتھیار خریدے اور آنے والے سخت حالات کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کے تحت ان تمام ہتھیاروں کو ذخیرہ کیا گیا 2000 سے لیکر سنگت حیربیار مری کے گرفتاری تک یہ سلسلہ بخوبی جاری رہا سنگت حیربیار مری کے گرفتاری کے بعد یہ سلسلہ بھی زامران مری کے کرپشن کی نظرہوا اور رک گیا بطور ثبوت میں یہ بات سامنے رکھوں گا کہ زامران مری اپنی پوری زندگی میں یہ ثابت نہیں کر سکے گا کہ اس نے ایک بندوق بھی خریدی ہو بدقسمتی سے چند دوستوں خاص کرسنگت حیربیار مری کی مخلصانہ محنت اور کارکردگی پر ڈاکہ یا شب خون مار کر ذاتی ملکیت قرار دینے کی جوسرتوڑ کوششیں کی جارہی ہیں وہ آج قوم کے سامنے ہیں جہاں تک نواب خیربخش مری کی زندگی میں مڈی طلب نہ کرنے کا دعوٰی ہے تو بذات خود میں مختلف اوقات میں مڈی اور ان مسائل کے حوالے سے تین مرتبہ نواب خیربخش مری سے مل چکا تھا
قومی جہد کار اسلم بلوچ کہتے ہیں کہ پہلی ملاقات میں میں نے یہ بات محسوس کیا کہ نواب صاحب کو یہ تاثر دیاجاچکاہے کہ قادر مری سے ہتھیار واپس لیے جارہے ہیں قادر کو غیر مسلح کیا جارہا ہے میں نے بذات خود نواب صاحب کے سامنے اس بات کا خلاصہ کیا کہ قادر مری کے کیمپ کے لیے جو ہتھیار مختص کئے گئے ہیں وہ اس سے نہیں لیے جارہے ہیں بلکہ یہ تو وہ ہتھیار ہیں جو مجموعی جنگ کے لیے جمع کئے گئے ہیں جنکی ذمہ داری قادرمری اور ناڑی مراد کو دی گئی ہے اور یہ انکی ذمہ داری ہے کہ جہاں کئی باقی دوستوں کو کوئی بھی کمی ہو یہ اس کو پورا کریں اس مڈی کو جمعی مڈی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ ہتھیاروں کی خریداری اور تقسیم کار سے نواب صاحب لاعلم تھے میں نے یہ بات بھی نواب صاحب کے علم میں لانے کی کوشش کی کہ اس مڈی کا قادر کے کیمپ کے مڈی سے کوئی تعلق نہیں اس وضاحت کے باوجود جب آخری ملاقات میں میں نے نواب صاحب پر اس بات کو لیکردباؤ بڑھایا کہ دشمن نے ہمارے گرفتار ساتھیوں کا سلسلہ وار قتل شروع کر دیا ان حالات میں شہر کے ساتھیوں کے لیے ہتھیاروں کی سخت ضرورت درپیش ہے جو ہمیں نہیں دیئے جارہے ہیں یہ کیا ماجرا ہے تو نواب صاحب نے مجھے کہا کہ’’ ہتھیار میں نے روکے ہیں ‘‘اور اسی ملاقات میں نواب صاحب نے میرے سامنے حیربیارمری کے گروپ کی بات کی اور کہا کہ’’ سارا مڈی حیربیارمری کے گروپ کو جائے گا‘‘ اپنے ہاتھ کا انگوٹھا دکھاتے ہوئے کہا کہ’’ ہمارے لیے کیا رہ جائے گا یہ ۔۔۔۔۔۔‘‘مجھے اس بات پر سخت حیرت ہوا اور میں نے پوچھا کہ یہ گروپ کیسے اور کہاں بنیں اور ہم کیسے حیربیار مری کے گروپ میں آئے کل تک تو ہم ساتھ تھے اور آپ کے ہی فکر کو لیکر چل رہے تھے یہ ذاتی میراث کے مانند ہمارے مرضی کے خلاف ہمیں کس نے تقسیم کیا اس بات پر ہمارے بیچ بحث تلخی پر اختتام پذیر ہوا ان کوششوں کے ناکام ہونے کے بعد ہم نے اپنا کام بے سروسامانی میں جاری رکھا جو دستیاب تھا اسی پر کام چلایا اس دوران مختلف اوقات میں قادر مری سے بذریعہ وفد مڈی واپس کرنے مطالبہ بھی جاری رکھاگیاجس سے قادر مری مسلسل اس جواز کے ساتھ انکار کرتے رہے کہ مجھے نواب صاحب نے مڈی دینے سے منع کیا ہے جمعی مڈی نواب صاحب کے طرف سے کسی بھی فیصلے کا منتظر ہوکر ہم سے روکا گیا لیکن 2012 میں ایک موقع پر سنگت حیربیارمری کے کچھ ذاتی مڈی جو قادر مری کے پاس محفوظ تھے اس ذاتی مڈی کو واپس کرنے کاکہاگیا تاکہ دوستوں کے کام آسکے اس ذاتی مڈی کو بھی دینے سے انکار کیا گیا اس دوران اس تمام صورتحال سے استاد قمبر اور ڈاکٹر اللہ نذر کو آگاہ رکھا گیا تاکہ وہ کوئی بہتر کردار ادا کرسکیں مگر جو بھی ہوا وہ مایوس کن تھا اوربلوچ عوام سے پوشیدہ نہیں ……
تو مڈی کے حقیقت کو مدنظر رکھ کر آپ خود فیصلہ کریں کہ جس مقصد کے لیے یہ مڈی جمع کیا گیا تھا اسکو حاصل کرنے میں زامران مری، قادر مری اور ناڑی مراد برائے راست رکاوٹ نہیں بن چکے ہیں؟ ؟؟
ذاتی ملکیت قرار دے کر مڈی پر قبضہ اور یو بی اے کی کارکردگی بھی آج قوم کے سامنے ہے تین مرتبہ ساتھیوں کو قتل کرنے کی کوششیں بھی ہوچکی ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ زامران مری برائے راست جہد کار ساتھیوں کو قتل کروانے کی سازش میں ملوث ہے
اسلم بلوچ مزید کہتے ہیں کہ اپنے بیان میں زامران مری نے یہ تسلیم کرلیا کہ حیربیار مری نے انکو ساتھ کام کرنے کی پیش کش کی ہے اور ذمہ داری بھی دی ہے کہ اقوام متحدہ میں اپنے ذمہ داریاں نبھائے لیکن اس بات کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ میں نے انکار کیا ہے کیونکہ میں بھی بلوچ قوم کے سیاسی جدوجہد میں شریک رہوں گا اور بلوچستان میں ہونے والی سیاسی معاملات میں حصہ لوں گا اب اگر ہم سنگت حیربیارمری کے پیش کش سے انکار کے جواز پر اور زامران کے خواہش پر غور کریں تو بہت سے باتوں کا خلاصہ خود بخود ہی ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس پروپیگنڈے کی نفی بھی ہوتی ہے کہ سنگت حیربیار مری کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں اوریہاں اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا اقوام متحدہ میں بلوچ قومی سوال کو اجاگر کرنا بلوچ سیاست کا حصہ نہیں ؟؟ اگرفرض کریں بیرون ممالک سفارتی کوششوں اور اقوام متحدہ میں بلوچ قومی سوال کے اجاگر کرنے کی کوششوں کو بلوچ قومی سیاست سے الگ سمجھا جائے توقوم پرستی کے حوالے سے بلوچ گل زمین پر اگرمجموعی سیاسی ڈھانچے پر غور کیا جائے تو سیاسی پارٹیاں بی این ایم ،بی این ایم شہیدغلام محمد ،سالویشن فرنٹ اور بی آر پی اور بی ایس او پر نظر رکتی ہے جن سے زامران مری کا کسی بھی طرح کا باضابطہ تعلق نہیں رہا ہے اور ہمارے علم کے مطابق نہ تو زامران مری نے کبھی ایسی کوشش کی ہے کہ ان کے پلیٹ فارم سے کوئی کردار ادا کرے اور ایسی کوئی مثال بھی نہیں کہ زمران مری کو اسکے اس نیک خواہش کیلئے موقع فراہم نہیں کیاگیا ہو تو ایسی صورتحال میں زامران مری کی خواہش چے معنی دارد؟ دوسری طرف مسلح تنظیمیں ہیں جن میں کردار ادا کرنے کا اپنا ایک طریقہ کار ہے بیرون ملک اور اندرون ملک ڈاکٹر اللہ نذر کے بے بنیاد فلسفے سے قطع نظر پوری دنیا میں متحرک مسلح تنظیموں سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد نے محاذ جنگ سے دور بھی بہت ہی کلیدی جانداراور مثالی کردار ادا کئے ہیں اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو زامران مری سنگت حیربیارمری کی گرفتاری کے بعد ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک کرپٹ نا اہل شخص کے طور پر سامنے آچکا ہے زامران مری کو بلوچوں کی سب سے مضبوط تنظیم کی سربراہی کا موقع ملا وہ بھی اس کے عروج کے دور میں بدقسمتی سے انتظامی امور مالی امور کے ساتھ ہی ساتھ رابطہ تنظیمی معاملات کو سلجھانے انکو بڑھاوا اور ترقی دینے سب میں وہ بری طرح ناکام رہا انہی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے زامران مری نے نواب مری کا سہارا لیکر مزید مشکلات پیدا کئے اپنے نااہلی اور بری عادتوں سے واقفیت رکھنے کے باوجود اس نے قومی تنظیم کو ذاتی ملکیت کی طرح تقسیم کرنیکی کوشش کی ناکامی کی صورت میں نااہل اور کرپٹ لوگوں کو ساتھ ملایا اتنا کچھ کرنے کے باوجود سنگت حیربیارمری کے پیش کش کے جواب میں آج زامران مری کے اس اظہار نے اسکے پس پردہ عزائم کو آشکار کردیاکہ وہ کسی بھی انقلابی معیار اور سیاسی واخلاقی جواز کو خاطر میں نہیں لاتے ہوئے اپنے آپ کو ایک موروثی حقدار سمجھتا ہے اور اسکے لیے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے مہران مری کی جانب سے اختلافات سے انکار کرکے سارا ملبہ نواب خیربخش مری پر گرانا بھی زامران کی خود غرضی اور موقع پرستی کیلئے بہت بڑا ثبوت ہے اگر زامران مری کے جواب پر غور کیا جائے جس میں وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے کوئی اختلاف نہیں تھا نواب مری سے ناراضگی تھی اور میں نواب صاحب سے قریب تھا اسلئے مجھ سے بھی ناراض ہو گئے حقیقت میں یہ ایک سفید جھوٹ ہے نواب صاحب اور دوستوں کے بیچ جو بھی دوریاں پیدا ہوئے اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف زامران مری ہی تھے اگر کوئی تحقیق کرنا چاہئے تو یہ ہمارے لیے خوش قسمتی کی بات ہوگی اس بات سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ چھوٹے چھوٹے ایسے ہزاروں مسائل تھے جو زیر بحث تھے زیر غور تھے جو صحیح سمت میں وقت کے ساتھ حل کی طرف جارہے تھے مگر زامران مری کے مسئلے نے سب کو پیچیدہ بنادیا آپ غور کریں اس سے زیادہ خود عرضی اور خود پرستی اور کیا ہوگا کہ آج پھر ایک اور انداز سے زامران مری اپنی نااہلی اور بری عادتوں کی پردہ پوشی کے لیے مرحوم نواب خیربخش مری کا نام لے رہا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے اپنے آپ کو معصوم ظاہر کرکے اختلافات کو نواب صاحب سے ناراضگی قرار دے کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کررہا ہے زامران مری کے نفسیات کو سمجھنا شاہد اب زیادہ مشکل نہیں اس قسم کی نفسیات رکھنے والا شخص قومی سیاست میں کتنا موزو شخص ثابت ہورہا ہے اس پر غور کرنا لازم ہوچکا ہے
سوشل میڈیا کے حوالے سے جس خیال کا ظاہر زامران مری نے کیا وہ پچھلے دو سالوں سے تواتر سے گالیوں کے تڑکا کے ساتھ مختلف آئی ڈیز سے پڑھنے کو مل رہا ہے
میں اکثروبیشتر دوستوں کو کہتا تھا یہ تمام بداخلاقی الزام تراشیاں اور جھوٹے اور بے بنیاد قصے کہانیاں جو بیان ہو رہے ہیں ان کے پیچھے اچھے خاصے ذمہ دار لوگ ہیں یہ کسی صورت بھی بلوچ سیاسی کارکن نہیں اور نہ ہی انکا جذباتی ردعمل ہے اب اگر زامران مری کے اظہار اور تسلسل سے آنے والے ڈاکٹر اللہ نذر کے اخباری بیانات پر غور کیا جائے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ سوشل میڈیا پرہونے والے تنقیدی عمل کے ذریعے اظہار رائے کو کس سطح سے اورکس گٹھیا انداز سے سبوتاژ کیا گیا جس میں غدار دشمن کے ایجنٹ کے القابات اور گالیوں کا بھی سہارا لیا گیا. جو بے بنیاد الزام تراشیاں گمنام و بدنام مختلف آئی ڈیز سے سوشل میڈیا پر ہوچکے ہیں ان میں اورآج کے زامران مری کے اظہار میں کونسی بات مشترک نہیں ؟؟؟؟؟؟
جس کی طرف میں اشارہ ضروری سمجھتا ہوں وہ زامران مری کا یہ الزام ہے کہ بہت سے جہد کاروں کے نام ظاہر کئے گئے جو گرفتار ہوئے یا جن کو شہید کیا گیا آج بھی اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے وہ سامنے آئیں الزام سے آگے ثبوت پیش کریں. دوست اپنے کسی بھی عمل کے جواب کیلئے تیار ہیں..
غور طلب بات یہ ہے جس کی طرف میں اشارہ کرنا چاوں گا کہ زامران مری ایک ہی سانس میں دوستوں پر یہ الزام لگاتے ہیں اور دوسری سانس میں کبیر مری کو بالاچ مری کی جگہ کمانڈر ظاہر کرکے بطور اہم کمانڈر اس کی نشاندہی اور مخبری کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شروع دن سے لیکر آج تک بی ایل اے کے کمانڈ سسٹم کا کسی کو کوئی بھی اندازہ نہیں اور نہ ہی کبھی تنظیم نے ایسی پالیسی سامنے لائی ہے اور نہ ہی اپنے کسی سطح کے کمانڈر کا اعلان کیاہے تو ایسی صورت حال میں شہید بالاچ مری جیسے اہم کمانڈر کی جگہ کسی بھی ساتھی کا نام لینا وہ بھی اخباری انٹرویو میں یہ کس زمرے میں آتا ہے میرے خیال سے بات وہی ہے چور مچائے شور دراصل حیربیار مری کے گرفتاری کے بعد جب زامران مری کے نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے مشکلات زیادہ ہوئے تو دوستوں نے یہ اندازہ لگایا کہ شاہد زامران مری کو تنظیمی ڈھانچے کا صحیح اندازہ نہیں اس لیے زامران مری کو دوستوں سے صحیح اور بروقت رابطے میں مشکلات پیش آرہے ہیں اسی سلسلے میں نواب خیربخش مری سے صلح مشورے کے بعد جس میں بذات خود موجود تھا کبیر مری کا نام نامزد کیا گیا تاکہ کبیر مری کو بطور مشیر زامران مری کے پاس بھیجا جائے تاکہ زامران مری کو تنظیمی معاملات چلانے میں آسانی ہو لیکن کبیر مری کو روانہ کرنے کے بعد بھی تنظیمی معاملات چلانے میں زامران مری ویسے کے ویسے ہی رہے سنگت حیربیار مری کی رہائی کے بعد کبیر مری نے ان تمام کمزوریوں کے وجوہات دوستوں کے سامنے رکھے جن میں سب سے زیادہ عمل دخل زامران مری کے عیاش طبیعت کا تھا ان تمام باتوں کو دوستوں کے سامنے لانے کی پاداش میں زامران مری نے کسی بھی طرح کبیر مری کو واپس بھجوا دیا حالیہ انٹرویو میں اس طرح سے کبیر مری کا نام لینا اپنے دوستی کا حق ادا کرنا تھا جو زامران مری نے سوچ سمجھ کر ادا کردیا اب فیصلہ پڑھنے والے کریں کہ مخبری سے لیکر ماں بہن کی گالیوں تک اور بے بنیاد قصے کہانیوں تک یہ گندگی کرنے والے اور اس کا الزام دوستوں پر لگانے والے کون ہیں ہر وہ عمل جو بلوچوں کے اجتماعی مفادات سے متضاد ہوگا اس کی مذمت اور ضرورت پڑنے پر اسکے خلاف مزاحمت ہر مخلص بلوچ جہد کار کا قومی فرض بنتا ہے تو میرے خیال سے ہمارے ہاں بھی اولیت اسی قومی فرض کو دی جائے گی ایسی صورتحال میں روایت پسندی موقع پرستی مفاد پرستی خود غرضی کیسے آڑے نہیں آئینگے. بشرطیکہ کسی کو انکی پہچان ہو ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0