میکسیکیو میں لاپتہ طلبا کی یاد میں ہزاروں افراد کا مارچ

اتوار 27 ستمبر, 2015

میکسیکو(ہمگام نیوز) میکسیکو میں ایک برس قبل لاپتہ ہونے والے 43 طلبا کو یاد کرنے کے لیے ہزاروں لوگوں نے مارچ کیا ہے جس کی قیادت گم شدہ طلبا کے والدین کر رہے تھے۔

مارچ کرنے والے بہت سے افراد کے ہاتھوں میں ان کے پیاروں کی تصاویر تھیں جو انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔

طلبا کے والدین چاہتے ہیں کہ اس معاملے کی تفتیش عالمی برادری کی نگرانی میں ایک خصوصی ادارے کو سونپی جائے۔

مارچ کرنے والے افراد میکسیکو شہر کے ’پسائیو ڈی لا ریفارما‘ کے علاقے سے ہوتے ہوئے شہر کی تاریخی زوکالو چوک پر جمع ہوئے۔

ایک طالبہ صوفیہ روجاس نے خبر رساں ادارہ اے ایف پی کو بتایا ’ ہم یہاں انصاف کے مطالبے کے لیے آئے ہیں۔ قصورواروں کو قطعی بخشا نہیں جانا چاہیے۔ ان 43 کے پیچھے ہزاروں دیگر افراد بھی گم ہوگئے ہیں۔‘

طلبا کے اہل خانہ ان طلبا کی گمشدگی میں ممکنہ طور پر فوج کے کردار سے متعلق بھی تفتیش کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وہ حکومت کے اس موقف کو مسترد کرتے ہیں کہ طلبا کو پولیس نے اگیوالا کے شہر میں جرائم پیشہ افراد کے ایک گینگ کے حوالے کیا تھا، جس نے انھیں قتل کر دیا ہے۔

ایک دوسرے آزاد گروپ کا کہنا ہے کہ ان طلبا کو اس لیے قتل کیا گيا کیونکہ انھوں نے نا دانستہ طور پر غیر قانونی ڈرگ لے جانے والی ایک بس پر قبضہ کر لیا تھا اور حکوت نے ان کے تحفظ کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔

اس دوران صدر اینرق پینا نیٹو نے اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک خصوصی ٹیم کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

طلبا 26 ستمبر 2014 کو جنوبی صوبے گوریرو کے اگیوالا شہر سے لا پتہ ہوگئے تھے۔

لاپتہ طلبا زیرِ تربیت اساتذہ تھے جو غیر منصفانہ بھرتیوں کے خلاف احتجاج کرنے اور اپنے کالج کے لیے چندہ کرنے کے لیے اگیوالا گئے تھے لیکن پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد غائب ہو گئے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0