میں بھی چارلی ہوں ہمگام اداریہ

اتوار 11 جنوری, 2015

ہر بدھ کے روز چھپنے والا فرانسیسی طنزیہ میگزین چارلی ہیبڈو (ہفتہ وار چارلی) اپنے مخصوص طنزیہ سیاسی خاکوں ،رپورٹس اور لطیفوں کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں شہرت رکھتا ہے وہیں انتہائی بائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کی سیاست ، کیتھولک عیسائی ، صہونیت اور اسلام پر طنزیہ تنقید کرنے کی وجہ سے نفرت اور حملوں کا بھی شکار رہا ہے۔ اس میگزین کے اشاعت کا آغاز 1970 میں ہوا لیکن 1981 میں پابندی عائد ہونے کی وجہ سے گیارہ سال بند رہنے کے بعد اسکی دوبارہ اشاعت 1992میں شروع ہوئی ۔ اس کے پہلے ایڈیٹر فرانسس کوانا اور دوسرے فلپ ویل تھے جبکہ تیسرے ایڈیٹر چارب 2009 سے اس عہدے پر فائز تھے جو 2015 میں ایک دہشتگرد حملے میں مارے گئے ۔
چارلی ہیبڈو اس وقت تنازعات کا شکار ہوا جب 2006 میں میگزین نے محمد ﷺ کے خاکوں کی ڈنمارک سے اشاعت کا فیصلہ کیا ، ان خاکوں کے ردعمل میں پوری دنیا میں مظاھرے ہوئے ، اس موقع پراس وقت کے فرانسیسی صد ر یاک شراک سمیت کئی فرانسیسی وزیروں نے بھی اسکی مخالفت کی لیکن چارلی ہیبڈوں نے اسے اپنے اظہارِ رائے کی آزادی قرار دیکر فرانسیسی قوانین کے عین مطابق ثابت کیا اور کہا کہ جب کسی عمل کے بارے میں آزادی حاصل ہو تو پھر اس میں کوئی “لیکن ” نہیں آتا ، میگزین صرف اسلام پر نہیں بلکہ عیسائیت اور یہودیت پر بھی تنقید کرتی رہی ہے ، جس طرح مذہب ایک عقیدہ اور سوچ رکھتی ہے اور اسکا اظہار کرتی ہے اسی طرح ہمارا بھی ایک سوچ ہے اور ہم اسکا اظہار کرتے ہیں اور انہوں نے اپنے پینسل کو کلاشنکوف سے کم شر انگیز قراردیا ۔
میگزین کے دفتر پر پہلی بار فائر بمب سے تب حملہ ہوا جب 2011 میں دوبارہ محمد ﷺ کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت ہوئی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن گذشتہ دنوں7 جنوری 2015 کو دو نقاب پوش کلاشنکوف اور آر پی جی سے مسلح دہشت گردوں نے میگزین کے دفتر میں گھس کر حملہ کردیا اور میگیزین کے چیف ایڈیٹر اسٹیفین چارب سمیت 10 اور صحافیوں ، کارٹونسٹ اور ملازموں کو قتل اور 15 سے زائد کو زخمی کردیے اور میگزین کے دفتر سے فرار ہونے کے بعد قریب کھڑے دو غیر مسلح پولیس افسروں جن میں سے ایک احمد نام کا مسلمان تھا کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ۔
ان حملوں کے بعد پوری دنیا میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی ، اس کو اظہار رائے کی آزادی پر شدید حملہ قرار دیتے ہوئے روشن فکر مسلمانوں سمیت پوری دنیا چارلی ہیبڈو کے حق میں نکل پڑے ، فرانس میں اگلے دن سوگ منایا گیا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس نعرے  “میں بھی چارلی ہوں”کے ساتھ روڈوں پر نکل آئے ، سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس ہیش ٹیگ #JeSuisCharlie کے آغاز کے بعد اس وقت پوری دنیا میں اس نعرے کو لیکر چارلی ہیبڈو کے حق میں مظاھرے ہورہے ہیں۔ میگزین کے حق میں احتجاج کرنے والوں میں مسلمانوں کا بھی کثیر تعداد شامل ہے جو یہ موقف دے رہے ہیں کہ ضروری نہیں کہ اگر کوئی اس میگزین کے حق میں احتجاج کررہا ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ ان متنازعہ خاکوں سے اتفاق کرتا ہے ، اظہارِ رائے کی آزادی سب کا بنیادی حق ہے بھلے وہ رائے ہمارے عقیدت کے خلاف ہو لیکن قلم کو بندوق سے خاموش کرانے کی ریت کی ہم مخالفت کرتے ہیں ،کئی ممالک میں مسلمان اس فرانسیسی مسلمان پولیس آفیسر احمد کو اسلام کا اصل چہرہ گردانتے ہیں جو اس میگیزن کی حفاظت کرتے ہوئے ہلاک ہوا جہاں اسکے عقائد کے خلاف خاکے چھپے تھے ۔ اس وقت کئی سربراہان مملکت سمیت عالمی اداروں نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور اس حملے کو گذشتہ نصف صدی کے دوران فرانس میں بد ترین دہشت گردی کی کاروائی بیان کیا جارہا ہے ۔
بلوچ روشن فکر آزادی پسند حلقوں اور جماعتوں نے بھی اس حملے کو اظہارِ رائے کی آزادی پر شدید حملہ قرار دیتے ہوئے سخت الفاظوں میں اسکی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس بربریت سے فرانسیسی عوام گذرے ہیں اس سے بلوچ اچھی طرح آشنا ہیں ۔ بلوچ آزادی پسند سیاسی کارکنوں کو اپنے اظہار رائے کی آزادی کی پاداش میں روزانہ کے بنیاد پر مذہبی شدت پسند ملک پاکستان قتل اور اغواءکررہا ہے ، دہشت گرد ملک پاکستان اپنے پراکسی دہشت گرد گروہوں کی مدد سے بلوچستان کے تمام روشن فکر تعلیمی اداروں کو بند کرارہا ہے ، اساتذہ کو قتل کیا جارہا ہے اور خواتین کی تعلیم پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ آزادی پسند خواتین کے چہروں پر تیزاب پاشی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی دہشت گردی کے پیچھے پاکستان جیسے ملکوں کا ہاتھ ہے جو اپنے مفادات کی خاطر ایسے نظریات کو بھڑاوا دیتے ہیں اور ان دہشت گردوں کو پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں اور تربیت فراہم کررہے ہیں ، ہم گذشتہ ایک دہائی سے دنیا کو خبر دار کررہے ہیں کہ پاکستان مذہبی شدت پسندی کو بھڑاوہ دینے کی جو مکروہ حرکات کررہا ہے اس سے ناصرف بلوچستان اور یہ خطہ بلکہ پوری دنیا متاثر ہوگی اور آج فرانس میں جو ہورہا ہے وہ پاکستان اور اس جیسے ملکوں کی ہی کارستانیوں کا شاخسانہ ہے اور اگر مغرب جب تک ان خیالات کی بنیاد اور منبع پاکستان کی مالی امداد کرتا رہے گا تب تک مغربی ممالک اسی طرح دہشت گردی کا شکار ہوتے رہیں گے ، انہوں نے مزید کہا ہے کہ اسکا واضح ثبوت یہ ہے کہ آج پوری دنیا اور سربراہان مملکت چارلی ہیبڈو کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس عمل کی مذمت کررہے ہیں لیکن پاکستان میں ایک طرف مکمل طور پر اس مسئلے کے بابت میڈیا بلیک آوٹ ہے تو دوسری طرف پاکستان نے مذمت تو نہیں کی الٹا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے چارلی ہیبڈو کے ویب سائٹ کو ہی بلاک کردیا ہے ۔ بلوچ آزادی پسند حلقوں نے چارلی ہیبڈو پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس موقع پر فرانسیسی عوام کے دکھ درد میں شریک اور اظہارِ رائے کی آزادی کی جنگ میں دنیا کے تمام روشن فکروں کے شانہ بشانہ ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0