ناروے میں بلوچ کمیونٹی کا اجلاس منعقد،شبیر بلوچ و حسن بلوچ کا خطاب

پیر 20 اکتوبر, 2014

بین الاقومی حالات بھی اس وقت بلوچ قوم کے حق میں ہیں اگر بلوچ گروہیت اور زاتی مقصد سے نکل کر اجتماعی سوچ کو اپنانے میں کامیاب ہوئے تو بلوچ آج کے حالات سے فاہدہ اٹھا سکتا ہے۔ شبیر بلوچ۔
قومی پارٹیاں اور جہدکار اپنے نوابی اور سرداری کے ٹائٹل سے دستبردار ہوکر قومی بن جائیں۔ حسن بلوچ
ناروے(ہمگام نیوز) بلوچ کمیونٹی ناروے کے زیر اہتمام بلوچ قومی تحریک کے عنوان سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ لکھاری شبیر بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے بلوچستان پر جبرا قبضہ کیا۔بلوچ قوم نے جبری قبضے کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھا لیکن ماضی کی جہدوجہد میں لیڈر شپ کاوژن نہ ہونے اور حالات اور واقعات کا صیح طریقے سے تدراک نہ ہونے کی وجہ سے ماضی کی تمام جدوجہدناکام ہوئیں۔موجودہ جدوجہد شروع ہوئی جو کوہلو سے لیکر پورے بلوچستان میں پھیل گیاجہاں ہر مکاتب فکر کے لوگوں نے اپنی بساط کے مطابق شمولیت کی۔شروع میں سوچ فکر قومی تھا مقصد آزادی تھا پارٹیاں زرائع تھے لیکن آہستہ آہستہ زرائع مقصد بن گئے اور پھر گروہیت پارٹی بازی نمود و نمائش الگ الگ پہچان اور سرمچاروں کے بے لگام ہونے نے پوری جدوجہدکا رخ موڈ دیا۔ گروہیت اور علاقہ پرستی نے شہیدوں کو بھی تقسیم کیا۔تمام شہیدوں کا دن 13 نومبر کے بجائے ہر پارٹی  اپنی پارٹیوں کے شہدا کی برسی الگ الگ منا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقومی حالات بھی اس وقت بلوچ قوم کے حق میں ہیں اگر بلوچ گروہیت اور زاتی مقصد سے نکل کر اجتماعی سوچ کو اپنانے میں کامیاب ہوئے تو بلوچ آج کے حالات سے فاہدہ اٹھا سکتا ہے اگر بلوچ قوم نے حالات کا ادراک نہ کرتے ہوئے اس موقع کو ضائع کیا توبلوچ قوم کے لئے بہت زیادہ مشکلات ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جدوجہد تھیوری کے بجائے حقیقت پسندانہ طور پر پالیسیاں اپنانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ اور جس تحریک میں حقیقت پسندی کے بجائے Idealism کی بنیار پر قومی تحریکیں چلیں اور اپنے صورتحال کا دانش اور ادراک کئیے بغیر پالیسیاں بنائی وہ تمام جدوجہد ناکام ہوئیں۔کسی بھی آزادی کی جدوجہد میں قواعد ،نظم و نسق اور قومی آراستگی اہمیت کے حامل ہیں۔ لیکن بدقسمتی میں ہماری جدوجہدمیں آزادی کے دعویدار بھی اپنی زاتی خواہشات کے تحت جدوجہد کو چلارئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قومی لیڈر شپ کا دعوی سب کررئے ہیں ہر ایک اپنی قبائل سے چند لوگ جمع کرکے اپنی علیحدہ تنظیم بناتے ہوئے قومی لیڈر شپ کا دعوی کررہے ہیں۔ لیکن سیاست دان اور لیڈر شپ میں فرق ہوتا ہے۔ ہم سیاست دان تو ہو سکتے ہیں لیکن سیاسی مدبر نہیں، جبکہ قوموں کو سیاسی مدبر ظلم، جبر واستحصال سے نجات دلاتے ہوئے خوشحالی کی جانب گامزان کرتے ہیں۔ کیونکہ سیاست دان اپنے مفادات کے لئے ایک الیکشن سے دوسرے الیکشن کے لئے سوچتے ہیں جبکہ سیاسی مدبر ایک نسل سے دوسرے نسل کے لئے سوچتا ہے۔ جسطرح ولیم اورنچ، نیلسن منڈیلا، شان گوزماوے اور جار ج واشنگٹن جنھوں نے گروہوں اور خاص علاقے اپنے زاتی مفادات کے بجائے اپنے قوم کے لئے سوچ کر اپنی قوموں کو آزاد کرواکر خوشحال کیا۔اجلاس سے حسن بلوچ نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ ہر قبائل نے الگ سے فوج تشکیل دے کر اپنی دکانداری کے لئے بلوچ قومی جہد کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچارے ہیں۔ ایک قومی فوج اور اصول اور ڈسپلن نظم و ضبط کے پاپند ہونے کے بجائے اپنے ہی عوام پر مظالم ڈہا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی پارٹیاں اور جہدکار اپنے نوابی اور سرداری کے ٹائٹل سے دستبردار ہوکر قومی بن جائیں، کیونکہ بلوچ قوم کی اکثریت نوابی اور سرداری کے حق میں نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم فیملی پارٹی نہیں بلکہ قومی انقلابی پارٹی چاہتے ہیں۔ اجلاس میں حاضرین قبائلی سوچ کے تحت فیملی سیاست کے خاتمے اور قومی یکجہتی اور مستقبل میں بلوچستان میں پارٹیوں کی بھر مار اور سرمچاروں کی گروہوں کو کم کرنے کے حوالے سے سوالات کئے۔
اجلاس کی نظامت دانشور بلوچ نے انجام دیے۔ اجلاس میں ناروے کے بلوچوں کی ایک بڑی تعدا نے شرکت کی۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0