ناقابلِ واپسی

بدھ 8 اکتوبر, 2014

اورنگزیب خان
خان قلات کی زندگی جلاوطنی کے بعد بھی آسودہ نہیں،
رپورٹر سے فون پہ بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ”ہم یہاں کسی چھٹی پہ نہیں آئے،روزانہ کی بنیاد پہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں سے دنیا کو آگاہ کریں۔”
آج خان قلات کی خودساختہ جلاوطنی کو آٹھ سال گذرگئے ہیں ،بلوچستان میں آخری بار انھوں نے گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو انسانی حقوق کی پامالیوں کے جرم میں انصاف کے عالمی عدالت تک لیجائیں گے اور انھوں کہا تھا کہ وہ بلوچستان کہ آزادی کے بحالی کے لیئے بھی آواز اٹھائیں گے۔
خان قلات کے بابت بلوچستان اسمبلی میں پیش ہونے والے قرار داد کے بارے میں جب خود انھی سے پوچھا گیا تو وہ مسکراتے ہوئے بولے،” میں شکرگزار ہوں اپنے پشتون،ہزارہ اور بلوچوں کا جو میری واپسی چاہتے ہیں،مگریہ قرارداد کیا ٹھیک کر سکتا ہے؟ہماری جدوجہد آزادی کے لیئے ہے۔کتنے لوگ مرے جب اسکاٹ لینڈ نے برطانیہ سے علحیدگی چاہی؟کوئی بھی نہیں۔یہ جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔دنیا کا وہ حصہ جہاں ہم ہیں،حقوق مانگنے پہ 1948 سے لے کرآج تک بار بار ہم پہ بمباری کی جاتی ہے اور ہمیں قتل کیا جاتاہے۔”
خان قلات کے خاندان کے ایک رکن نے کہا ہے کہ”اپنی مدد آپ کے تحت انکے بس میں جتنا تھا انھوں نے کیا،انکے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ اپنا وکیل رکھ سکیں جسکو اربوں روپے دینے پڑتے ہیں۔”مزید کہا کہ”انھیں کوئی بچتاوا نہیں۔وہ اپنی مرضی سے گئے ہیں اور جانتے ہیں کہ واپس آنامطلب رسوائی ہے”

لگتا ہے خان کے لیئے پاکستان واپسی اب کوئی آپشن نہیں
?”ہر کسی کو گھر کی یاد آتی ہے،”خان نے کہا۔”لیکن ہم یہاں جو کچھ کر رہے ہیں ہمارے آنے والے نسلوں کے لیئے ہے۔مجھے گھر کی یاد آتی ہے مگر میرے سامنے عظیم تر مقصدبھی ہے۔”
(بشکریہ ڈان نیوز)

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0