نثار جیتا تو اور رفعتیں پاتا: تحریر: عالیان یوسف

اتوار 2 اگست, 2015

بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آپ کی ملاقات کسی ایسے شخص سے ہو جسکا ظاہر و باطن خوبصورت ہو. ایک مکمل انسان بننے کی خواہش جس کے اندر پنپ رہی ہو. جو نہ صرف اپنے ہمعصروں بلکہ عمر میں اپنے سے بڑوں سے بھی آگے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہو. بلوچوں میں ایسے لوگوں کے لیے جو پہلی ملاقات میں اپنائیت کا احساس دلائے ” میٹھے لہو” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے. قد و قامت، دروشم، سنجیدگی، بردباری سمیت ہر وہ مثبت صلاحیت ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے جو ایک خوبصورت انسان میں پایا جانا ممکن ہے. ایسے لوگ اگر کسی فکر و نظریے سے نسبت رکھیں تو ایک آزاد خوشحال اور تمام تر انسانی صلاحیتوں کے لیے بہتر تخلیقی مواقع پیدا کرنے والے سماج کے تشکیل کے لئے نہایت جرآت مندی سے اپنی جان داؤ پر لگا دیتے ہیں اس لیے نہیں کہ مہم جوئی ان کے خمیر میں شامل ہوتی ہے بلکہ فکر و نظریہ اور پروگرام سے نسبت ان کے صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے. صلاحیتوں کے نکھرنے کے بعد نظریاتی جدوجہد کے دوڑ میں شامل ایسے لوگ نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں. اپنے ہمراہوں اور ہمسفروں میں ان کا مقام بلند ہو جاتا ہے. ایسا بلند مقام کہ دوسرے ساتھی اس مثالی مقام کی تمنا کرنے لگیں. بلوچ جدوجہد آزادی میں نثار جان( عبدالحئی زہری ) کو اسی طرح کے مثالی مقام کے حامل شخصیات میں شمار کیا جاسکتا ہے. اس نے زندگی کی بائیس تیئیس بہاریں دیکھی ہونگی. بہاریں میں محاورتاً کہہ رہا ہوں ورنہ غلامی کی زندگی میں کیا بہاروں کا شمار اور کیا خزاں کا حساب. نثار اتنی صلاحیتوں اور خوبیوں کے مالک تھے کہ اگر گنتی شروع کی جائے تو مبالغہ آرائی کی حد تک بے حساب ہوں. تعلیم انتہائی واجبی تھی مگر پڑھے لکھے اور ڈگری ہولڈر جاہلوں کی طرح نہیں تھے. ان کو دیکھ کر یقین آجاتا کہ نصابی علم پر مشاہداتی علم کو فوقیت حاصل ہے. زہری آبائی علاقہ مگر پرورش خضدار میں ہوئی. سکول پہ سکول بدلتے رہے لیکن جم کر نصابی علم حاصل کرنے کی نہ خواہش تھی نہ پوری ہوئی. شھید والد ( حاجی رمضان زہری ) نے تعلیمی میدان میں نثار جان کی حسب خواہش مقام نہ پانے پر دلبرداشتہ ( شاید یہ مناسب لفظ نہیں ) ہوکر مزید تجربات کرنے سے گریز کیا اور نثار جان کو آزاد چھوڑ دیا گیا. ( میں شھید عبدالحئی کے عرفی نام نثار لکھوں گا ) نثار کی بچپن کیسی گزری؟ خاندان کا شرارتی بچہ، محلے کا دادا، گلی کا بدمعاش یہ نثار کا بچپن ہے. تو اس میں انوکھا پن کیا کہ ضبط تحریر میں آئے. نہیں بہت ساری باتیں ہیں جن کو تحریر میں لانا چاہیے مثلاً مزاجاً مہم جو نثار کا زکر صرف اسی انداز میں کیا جائے تو اس کی نظریاتی حساسیت اور پختگی والی حیثیت سے بے انصافی ہوگی. بچپن کے شرارتی اژو سے جوانی کے منظم، فعال، مہذب بردبار اور بیرگیر سردار نثار تک کے فاصلے کا علمی تجزیہ لازمی ہے۔ چیک مجاہد جولیئس فیؤچک کہتے ہیں کہ آپ میں سے جو لوگ تاریخ کے اس دور میں رہنے کے بعد بھی زندہ رہے ان سے ایک بات کہوں گا کہ ان لوگوں کو کبھی نہ بھولیے جو اس جدوجھد میں حصہ لے رہے ہیں. ان کے متعلق جتنی یادداشتیں ممکن ہوں رقم کیجیے وہ جن کے پورے خاندان مثل کردیے گئے ان میں سے کسی ایک کو منتخب کر لیجیے. ان سے اپنے اولاد کی طرح محبت کیجیے، ان پر فخر کیجیے جیسے کسی بڑے انسان پر فخر کیا جاتا ہے. تو نثار جان جیسے قابل فخر سپوت خالصتاً جنگجو نہیں ہوتے. ان کی زندگی کی تمام گوشوں کو بلوچ نوجوانوں کے لئے سرِعام ہونا چاہیے. کسی دوست نے بالواسطہ کہا کہ شہیدوں سے قربت، نام نہاد جذباتیت اور لفاظی ہیں میرے خیال میں یہ نقطہ نظر سطحیت پر مبنی ہے. نثار جیسے کرداروں کے جذباتی پہلو پہ لکھنا چاہیے وہ کم ہے. یہ تو تزئینِ گلشن کے لیے کھلنے والے پھول ہیں ان کی خوشبو کسی کی زاتی جاگیر نہیں اور چاہنے کے باوجود ایسی خوشبوؤں کو محسوس کیا جاسکتا ہے. دامن میں سمیٹنا اور پھیلنے سے روک کر زاتی ملکیت بنانا کس کے بس کی بات ہے. میں بلوچ ہوں نثار میرے لیے جان سے گزر گیا. تو نثار کی ہر ادا ، ہر خصلت ہر خوبی میرے لیے مقدس ہے. اگر کرسکوں تو ان کی ہر خوبی کو قانون کی طرح اپنے اوپر نافذ کرنے کی کوشش کروں. ہر خوشبو سے اپنائیت جتاؤں. ہر ادا پر قربان ہو جاؤں. اس جدوجھد آزادی میں اپنی ہر اٹھنے والے قدم کو اس کے نقشِ پا پہ ثبت کروں. نثار جیسے انمول ہیرے تراشنے والے ماہر نگینہ تراش لائق تحسین ہیں جنہوں نے ان کو تراشا اور تربیت کی اور آزادی و انقلاب کی راہ پر گامزن کیا. باقی تنظیمی مراحل اس نے خود بڑی پختگی سے طے کیے اور ثابت کیا کہ ہنر کاروں کا نگاہِ انتخاب نامناسب جگہ پہ جاکے نہیں ٹھہرا. ایک دفعہ تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر سزا ہوئی تو خندہ پیشانی سے قبول کیا. ایک سرگرم رکن کی حیثیت سے ان کے فعال کردار میں کمی نہیں آئی بلکہ بہت بعد میں بھی جب چھوٹے بھائی شھید مجید زہری کے بعد والد حاجی رمضان کی شہادت ہوئی تو بھی اس نے احسان جتانے کا ہلکا سا تاثر نہیں دیا. ورنہ ہمارے جیسے پسماندہ معاشرے کا المیہ ہے کہ جدوجہد میں قربانیاں دینے والے لوگ ہمیشہ اپنے احسانات کے بارِ گراں کے تلے دبائے رکھتے ہیں. ہم سب میں طاقت اور کمزوری، بہادری اور بزدلی اور پختگی اور کچھا پن سبھی کچھ ہوتا ہے نثار میں اول الذکر خوبیوں کا تناسب زیادہ تھا. مثلاً آپسی رویئوں میں تلخی آنے تک بھی اس کے عزت و احترام اور خلوص میں کمی کا ہلکا سا جھلک بھی دیکھنے میں نہیں آیا. ورنہ ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے؟ یقیناً نثار جیسے لوگوں کو تاریخ پہ لگنے والی کالک کو اپنے لہو سے دھو ڈالنے اور ایک اہم باب رقم کرنے کا ہنر آتا ہے. ورنہ جھالاوان جو نثار جان جیسے ہستیؤں کو جنم دینے کا اعزاز رکھتا ہے کے بارے میں قبضہ گیر ریاست کے ادنی’ ایجنٹ سرداروں اور بوسیدہ نظام کے کرتا دھرتاؤں نے اس کو صدیوں سے اپنی جاگیر سمجھ کر کیسے کیسے دعوے کیے جو نہ صرف وفا نہ ہوسکے بلکہ آج یہی لوگ دشمن کے ساتھ انہی صفحوں میں کھڑے نظر آتے ہیں. تاریخ، روایات اور تہزیب انہی لوگوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر آکھڑے تھے اسی تاریخ کی مسخ شدہ شکل سے نکل آنے اور ایک آزاد وطن کی فضاء میسر کرنے کے لیے نثار جیسے لوگ جنم لیتے رہیں گے اور قربانیوں کی تاریخ رقم کرتے رہیں گے. نثار نہ سلمانجو، نہ زہری، نہ جھالاوان بلکہ مستند اور فعال بلوچ انقلابی کارکن تھا، زندہ رہتا تو اس کے پختہ فکر کی خوشبو سرحدوں کی پابند نہ ہوتا. آج انقلابی دوستوں کے درمیان شہداء قبرستان میں خیر بخش مری کے پہلو میں آسودہ خاک ہے

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0