نوابزادہ براہمدغ بگٹی کا بیان ان کی سرداری اورشاہانہ ذہنیت کا شاخسانہ ہے ،خلیل بلوچ

ہفتہ 14 نومبر, 2015

کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے بی آر پی کے سربراہ براہمدغ بگٹی کے بیان پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ نوابزادہ براہمدغ بگٹی کا بیان ان کی سرداری اورشاہانہ ذہنیت کا شاخسانہ ہے اوردشمن سے اپنے غیرمنطقی مذاکراتی عمل،قومی موقف سے واضح انحراف کے بعد بلوچ قومی ردعمل کے خوف سے ان کی اضطراری کیفیت ظاہرکرتا ہے ۔اپنے اعمال کی جواب دہی کے بجائے آزادی پسند پارٹیوں اور تنظیموں پر الزام تراشی کی آڑ میں ریاست کے ساتھ مدتوں جاری اپنے مذاکرات کوجواز بخشنے کی ناکام کوشش ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں اصول اور اقدارکو بالائے طاق رکھ کرقومی اداروں پر الزام تراشی ایک فیشن بن چکا ہے، اس میں نوابزادہ سب سے بازی لے جانے کی کوشش میں وہ سب کچھ کہہ گئے ہیں جن کا زمین میں کوئی آثار موجود نہیں۔ایک جانب دشمن سے ہاتھ ملانا اوراُسی دن آزادی پسند پارٹیوں کوعجلت اورایک مہینے کی ڈیڈ لائن میں اتحاد کی دعوت ،پوری بیان مجموعہ اضداد ہے ،جو نواب صاحب کی فرمان روایانہ سوچ کی عکاسی اورسیاسی پراسس سے ان کی رسمی تعلق کوظاہرکرتا ہے اور پورابیان لہومیں ڈوبے بلوچ قوم کی زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ۔نواب صاحب کوپاکستان سے مذاکرات کے بعد اتنی جلدی اتحا دکی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ،کیا نواب ہمیں بھی اس ناجائز مذاکراتی عمل کا حصہ بنانا چاہتے ہیں ؟بلوچ نیشنل فرنٹ بی این ایم کے قائد شہید واجہ غلام محمدبلوچ ،شہید سنگت ثناء بلوچ اور دیگر دوستوں کی پرخلوص کوششوں کا نتیجہ ہے ،بی این ایف کو بنانے میں ہماری پارٹی کا کردار سب کے سامنے ہے ،ہم نے بلوچ قوم میں آزادی کے تحریک سے منسلک پارٹی اور تنظیموں کے ساتھ اتحاد کی بات کی ہے اور آج تک اس پر قائم ہیں کہ آزادی پسند پارٹیوں میں اتحاد قوم کے لئے عظیم تحفہ ہوگا اورتحریک کے لئے انتہائی نتیجہ خیز،لیکن کبھی عجلت میں اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر کوئی ایسی کوشش نہیں کی ہے کہ جس کا خمیازہ ہمیں ایک اور تقسیم کی صورت میں بھگتنا پڑے بلکہ اتحاد کے لئے ایک انقلابی معیار کی تعین کی ضرورت ہے اور رہے گا۔نواب صاحب نے بلوچ نیشنل موومنٹ اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد)پروہی پرانے الزامات کی تکرار ہے جنہیں بی آرپی کبھی ثابت نہیں کرسکا ہے اورنہ آئندہ کرسکتا ہے۔ یہ باتیں ماضی قریب کی ہیں اگر انہیں تلاش کیا جائے تو سب کچھ روزروشن کی طرح واضح ہوگا۔بی این پی کے خلاف جس بیان کو قوائد کے خلاف قرار دے کر فرنٹ سے علیٰحدگی اختیار کی،نواب صاحب یہ بھی وضاحت کرتے کہ ایک آزادی کے لئے کوشان فرنٹ کے وہ کیسے قوائد ہیں جن میں پاکستان کی پارلیمان میں شامل پارٹی کے خلاف بات کرنا قابلِ گردن زنی ٹھہرا۔یہ کسی کی اپنی ذہنی اختراع اور آزادی کی روح سے منافی عمل ہوسکتا ہے مگر آزادی کی جدوجہد میں فرنٹ کی نہیں۔ حالانکہ اتحاد سے کسی بے بنیادی مسلئے کو بنیاد بناکر الگ ہونے کے عمل کے بارے بی آر پی کے قائدین کئی باراپنی غلطی کا اعتراف کرچکے ہیں اورآج اس طرح کی بے تکی باتیں کرکے کوئی بھی اپنی عاقبت نااندیش غلطیوں کودرست قرار نہیں دے سکتا ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آزادی پسند پارٹی کے لیڈرکہلوانے کے پاس چند سیاسی اور اخلاقی تقاضوں کی پاسداری لازمی ہے اور افسوس براہمدغ نے ان کا کسی طور لحاظ نہیں رکھا ۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے ان کی تلافی کرتے ،ہم پر کیچڑ اچھالنے سے تو نہ تو اپنی غلطیوں کی تلافی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی تاریخ کا ریکارڈ درست کیا جاسکتا ہے ۔سیاسی رویے کا یہ حال ہے کہ پاکستان سے ناجائز اور غیرمنطقی مذکراتی عمل پر تحریک کے اہم تنظیم نے تنقید کی تو بی آرپی نے نوابی کی ترنگ میں آکر اوقات دکھانے کی بات کی اوراس پر یہ ستم مستزاد کہ آج تک اپنی کوتاہ نظریوں کو دوسروں پر تونپنے پر مصر ہیں ۔جہاں تک 2010میں حیر بیار مری سے متعلق بیان کا تعلق ہے اس پر بھی نواب صاحب کے حافظے نے ساتھ نہیں دیا ہے اور اس کا مورد الزام ہمیں ٹھہرایا گیا ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ بی این ایف کی پلیٹ فارم سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں ہوا تھا اور یہ بیان اتحاد کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری وہاب بلوچ ،جس کی وابستگی BRCسے تھا ،نے یہ بیان دیا تھااوریہ ریکارڈ پر موجود ہے کہ میں بحیثیت سیکریٹری جنرل ،بی آر پی کے ڈاکٹر بشیر عظیم ،بی ایس او کے چیئرمین زاہد بلوچ کی موجودگی میں ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اتحاد کے ادارے اورقیادت کو بالائے طاق رکھ کریہ غیر ذمہ دارانہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ میں نے بحیثیت سیکریٹری جنرل تادیبی کاروائی کرکے اتحاد سے BRC کی رکنیت ختم کی تھی ۔قومی اتحاد اور قومی نمائندگی کے لئے پارٹی کی پالیسی ہمیشہ واضح رہی ہے ۔میں نے بی این ایم کے چیئرمین اور بی این ایف کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے جناب حیربیا رمری سے کہاتھا کہ آپ یا آپ کے دوستوں کی طرف سے نمائندگی کے لئے جو اظہار ہوا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ بی این ایف سے جڑے کسی پلیٹ فارم میں آجائیں اور اتحاد کی اصول و ضوابط کا حلف لیں تو ہمیں نمائندگی دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔جب ایسی پیش رفت نہ ہوسکی تو ہم نے اس کی مخالفت کی کہ کسی ایسے شخص کو اتحاد کے اختیارات کا نمائندہ نہیں بناسکتے جو پارٹی اور ادارے کی اصول و قوائد کی پابندی کے لئے تیار نہیں ۔ایسے من گھڑت بیان ،نواب صاحب کی کئی سالوں سے پردے کے پیچھے جاری مذکراتی عمل جو، اب پردے سے باہر آچکا ہے کے اثرات کو زائل کرنے ،تحریک میں کمزوریوں سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے اوردشواریوں سے دوچارقوم میں ایک اور اضافی سوال لاکھڑا کرنے کی کوششوں اور مقصدکے سو ا کچھ نہیں ۔یہ ایک قابلِ مذمت فعل ہے ،قومی موقف سے انحراف کے بعد یقیناًبلوچ کی دل میں نواب صاحب کے لئے جواحترام تھا ،وہ آزادی کے تحریک میں شامل ہونے کے لئے تھا ،آزادی کے موقف سے دست برداری کے بعد بلوچ قوم میں محض شخصی بنیادوں پر قدرومنزلت اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ اس کی خواب مجذوب کی بَڑ کے سوا کچھ نہیں۔ایسے بیانات اپنی شاہانہ اور پرتعیش زندگی کے لئے قومی تحریک کو تباہی کے دھانے پر لے جانے کی کوشش ہے اور مضبوط قومی تحریک کے کمزور اوراختتام کے قریب ہونے کی تاثر دے کر مذکراتی عمل میں پاکستان کو خو ش اور دنیا میں بلوچ کے لئے مثبت خیالات کا رخ موڑنے کی کوشش ہے ۔بلوچ قومی تحریک آج سیاسی اور فکری کارکنوں کی قربانیوں،محنت اور قوم کی آزادی کے لئے مر مٹنے کی جذبے سے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہاہے ، ،جو آزادی کی تحریک کاجزولاینفک حصہ ہیں۔قومی موقف پرمتذبذب لوگ ہمیشہ مایوسی کاشکارہوتے ہیں، مایوسی اور ناامیدی کی باتیں دراصل آزادی کی تحر یکوں کی طویل اورصبرآزماء جدوجہداور دشمن کی متوقع بربریت سے ناواقف لوگ ہی کرسکتے ہیں ۔تحریکوں میں اختلافات آتے رہتے ہیں لیکن اختلاف کی آڑ میں قومی نظریے سے دستبرداری اورانحراف ایک نرالی منطق ہے جس کی وضاحت بھی موصوف ہی کرسکتے ہیں۔جنیوا میں جاوید مینگل ،بختیار ڈومکی ،مہران مری کے ساتھ میٹنگ کے بارے میں بی این ایم پر الزام کہ ہم نے اکثریت کی رائے کا احترام نہیں کیا، یہ بات بھی وضاحت کا محتاج ہے کہ نواب کی اکثریت سے مراد کیا ہے ؟آیا کسی پریشرگروپ کو آزادی کے تحریک کی اتحاد میں کس بنیاد پر شامل کیا جاسکتا ہے ۔بلوچ قومی تحریک میں اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور اچانک اتحاد کی باتیں کون سی بصیرت ہے اور کیسے خیالا ت کی غمازی کرتا ہے۔ بلوچ قوم آج اس مقام پرہے جس میں غیرسنجیدگی کا کسی طورپر متحمل نہیں ہوسکتاہے، بلوچ نے اس مقام تک پہنچنے کے لئے چیئرمین غلام محمدبلوچ ،نواب اکبر خان بگٹی ،بالاچ خان مری ،واجہ سدّو مری،شہید ڈاکٹرخالد جیسے رہبرولیڈراور ہزاروں کارکنان کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ آج دشمن اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے حامل اتحادیوں سے مل کر بلوچ نسل کُشی میں تمام عالمی قوائد و انسانی اقدار کی بیخ کنی کررہا ہے ،ایسے حالات میں نئے اختلاف اوراختراق کی بنیادیں رکھنا بہت ہی خطرناک عزائم کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ لیکن ایسے عناصریہ نوشتہ دیوارپڑھ لیں کہ بلوچ قوم سرپر کفن باندھ کر آزادی کی پُرخار سفر کے لئے نکلا ہے ۔قربانیوں کی ایک عظیم تاریخ کے ڈاکٹر صاحب قوم کے حوصلوں کو پست کرکے اب دوبارہ اسے پاکستان کی غلامی کے لئے دھکیلنا ناممکن ہے ۔ آج بلوچ سیاسی کارکن ،بلوچ دانشور نواب براہمدغ بگٹی کی باتوں کو صداقت کی کسوٹی میں پرکھ کر دیکھیں کہ ان میں کتنی سچائی اور راستی ہے ؟ان میں راہ فرار کی کوشش کے سوا کیا ہے ؟بلکہ اس بیان میں قومی تحریک سے جڑے پارٹی اور رہنماؤں کو متنازعہ بنانے کی اوچھے ہتکھنڈے ہیں۔مذاکرات سیاست کاحصہ ہے لیکن بلوچ کے لئے مذاکرات کے شرائط یہ ہرگزنہیں ہیں جو نواب صاحب فرمارہے ہیں بلکہ بلوچ کے لئے مذاکرات کا ایک ہی ایجنڈا یعنی بلوچ قومی آزادی کی غیرمشروط طورپر اقرارہے اوروہ بھی اقوام متحدہ کی ثالثی میں ممکن ہے نہ کہ کسی جرنیل کی اختیارات کو جواز بنا کر بلوچ قومی مسئلہ حل کیا جا سکتاہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0