نوشکی میں اہم ریاستی مخبر نصیر کو گرفتار کرلیا ہے، بلوچ لبریشن آرمی

جمعہ 4 ستمبر, 2015

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے بتایاکہ گزشتہ دنوں ہمارے سرمچاروں نے نوشکی کے علاقے پاچنان میں چھاپہ مارکربی ایل اے کومطلوب اہم مخبر نصیرکوگرفتارکیاتھا۔دوران تفتیش نصیر نے انتہائی اہم انکشافات کرتے ہوئے اعتراف کیاکہ مجھے 2007میں ایک کارروائی کے دوران فورسز نے گرفتارکیا تھا دوران گرفتاری فورسز مجھے اپنے لئے کام کرنے پرآمادہ کرتی رہی میری آمادگی کے بعد انہوں نے مجھے رہاکیا اورکچھ عرصہ بعد انہوں نے محمدبخش لیویزوالے کومیرے پاس بھیجا جس نے مجھے نوشکی میں خفیہ ادارے کے اہلکاروں سے ملایا جنہوں نے مجھے کچھ پیسے دیئے اورستارنامی دکاندارکاپتہ دیتے ہوئے کہاکہ اگرتمہیں سوداسلف کی ضرورت پڑے تواسی دکان سے لے لینا جس کے بعد انہوں نے کہا کہ تم اپنے علاقے میں بی ایل اے کے ٹھکانوں اوربندوں کے بارے میں ہمیں معلومات فراہم کرتے رہو نصیرنامی مخبرنے یہ بھی اعتراف کیاکہ وہ اللہ گل مری عرف ڈاڈا اورساتھیوں کی گرفتاری کی سازش میں شامل رہاہے مزیدانکشافات کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیاکہ2007سے لیکر آج تک پاچنان مونجرو،اژدھخول ،کوربارات اور شورپارود میں تمام کارروائیوں میں اسنے فورسز کی مدد کی ہے اورسرمچاروں کے آنے اورجانے کے راستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فورسز کواطلاعات فراہم کی بہت سے دیگراہم انکشافات کرنے کے ساتھ ساتھ نصیرنے علاقے میں موجود دیگر نیٹ ورکوں کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کی ہیں جن کو تنظیمی پالیسی کے تحت راز میں رکھاجائے گا جبکہ مناسب معلومات اورثبوتوں کو ویڈیوکے ذریعے پیش کرینگے ترجمان نے کہاکہ نصیرجیسے اہم مخبروں کے ان انکشافات کومدنظررکھ کربی ایل اے اپنی کارروائیاں شروع کرچکی ہے ہم بلوچ عوام اوران مخبروں کے خاندانوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی مخبرکی گرفتاری کے بعد واویلاکرنے کی بجائے اپنے بندوں کوچند مراعات کے عیوض ریاستی آلہ کاربننے سے روکیں بلوچ شہداء کی لازوال قربانیوں کودل میں رکھتے ہوئے ایسے بے ضمیربلوچوں کیلئے ہمارے پاس معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہم ریاستی مخبرکومعاف کرناشہداء کے خون اوروطن سے غداری کے مترادف سمجھتے ہیں شروع دن سے لیکرآج تک ہماری تنظیم نے مکمل تحقیقات کے بعد غداروں اورمخبروں کونشانہ بنایاہے جبکہ بے گناہ بلوچوں کاقتل ہمارے نزدیک گناہ عظیم تصورکیا جاتا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0