نیا عالمی معاہدہ نافذ،انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کو ہتھیار فروخت نہیں کی جائیگی

جمعرات 25 دسمبر, 2014

ہمگام نیوز۔ اقوام متحدہ کا ایک ایسا نیا عالمی معاہدہ نافذالعمل ہو گیا ہے جس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب بین الاقوامی سطح پر ایسے ملکوں کو ہتھیار فروخت نہیں کیے جا سکیں گے جہاں انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا خطرہ ہو۔

اس نئے عالمی معاہدے کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ اب حکمرانوں کے طور پر ایسے آمروں کی قیادت والی حکومتوں کو ہتھیار فروخت نہیں کیے جا سکیں گے، جن کے ہاتھوں کسی بھی صورت میں انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا خطرہ موجود ہو۔

اس معاہدے میں جن ہتھیاروں کی بات کی گئی ہے، ان سے مراد جنگی ہتھیار ہیں اور اس معاہدے کی دستاویز پر اب تک اقوام متحدہ کی رکن کل دو سو کے قریب ریاستوں میں سے 130 ملک دستخط کر چکے ہیں۔ یہ معاہدہ منگل چوبیس دسمبر سے نافذالعمل ہو گیا ہے اور اس کے رکن ملکوں میں جرمنی بھی شامل ہے۔ تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ اس پر دستخط کرنے والی ریاستوں میں ابھی تک چند ایسے ممالک شامل نہیں ہیں، جو اسلحے کی عالمی تجارت میں اپنے کردار کی وجہ سے خاص طور پر اہمیت کے حامل ہیں۔

جنگی ہتھیاروں کی عالمی تجارت کا سالانہ حجم اربوں میں ہوتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اب اس تجارت کے حوالے سے عالمگیر قوانین نافذالعمل ہو گئے ہیں۔ عالمی ادارے کے ہتھیاروں کی تجارت سے متعلق اس نئے بین الاقوامی معاہدے کے تحت اب اسلحہ برآمد کرنے والا کوئی بھی ملک ایسی ریاستوں کو کوئی جنگی ہتھیار فروخت نہیں کر سکے گا جہاں ان ہتھیاروں کے نسل کشی، جنگی جرائم ، انسانیت کے خلاف جرائم یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ ہو۔

یہ نیا عالمی معاہدہ جن روایتی ہتھیاروں کا احاطہ کرتا ہے، ان میں جنگوں میں استعمال ہو سکنے والے ٹینکوں سے لے کر جنگی بحری جہازوں اور جنگی ہیلی کاپٹروں تک ہر طرح کا عسکری ساز و سامان شامل ہے۔ لیکن اس طرح کے بڑے جنگی ساز و سامان کے ساتھ ساتھ یہی معاہدہ ایسی مشینوں اور عسکری حملوں کے لیے استعمال ہو سکنے والے ہتھیاروں کا احاطہ بھی کرتا ہے جو اصطلاحاﹰ چھوٹے ہتھیار قرار دیے جاتے ہیں لیکن بہت خطرناک ہونے کی وجہ سے اکثر مسلح تنازعات میں عام طور پر بہت زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0