وطن کا بہادر فرزند شہید گلزار مری .; مہراب مہر

منگل 13 فروری, 2018

دنیا کے جس ملک و قوم کے تاریخ کو پلٹا جائے وہاں وطن پر مرمٹنے والے عاشقوں کی کمی نہیں جو وطن کے عشق میں ایسے گرفتار ہوتے ہیں کہ اپنی زندگی کے ہر حسین لمحے کو وطن کی آزادی کی راہ میں قربان کرنے کے ساتھ اپنی ہر اس خواہش و ہستی جو انھیں سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے اور زندگی جیسے خوبصورت و نوجوانی جیسے پُرخمار دور کو وطن کے نام کر دیتے ہیں ہر قوم کے شہیدوں میں کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جو انھیں ایک دوسرے سے ممتاز کردیتی ہیں کوئی انسان دوسرے کا نعم البدل نہیں ہو سکتا اسی طرح شہداء بھی اپنے کردار عمل کے حوالے سے ایک دوسرے سے جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ شہداء ہوں یا کہ غازی ان میں ایک ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو انھیں معاشرے کے دیگر افراد سے جداگانہ حیثیت بخشتی ہیں کیونکہ معاشرے کے دیگر افراد اپنی زندگی اپنے بال بچوں کی پرورش و انکی بہتر تعلیم و تربیت پر صرف کرتے ہیں اور ایک ہی گھر یا ایک ہی خاندان کی بہتری و بھلائی کے لیے زندہ رہتے ہیں لیکن غازی و شہداء ایک خاندان و ایک علاقہ نہیں ایک قوم کی بہتر مستقبل کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں جس میں شہادت انکا مقدر بنتی ہیں اور وہ اسی ڈگر پر ہر وقت موت کے سایہ تلے زندگی گزارتے ہیں کھبی ایک عام شخص ایسے کرداروں پر غور کیا ہے؟ کہ وہ کونسے عوامل ہیں جو ایک شخص کو اپنی زندگی کو داؤ لگانے پر مجبور کرتے ہیں. دنیا کی تاریخ میں لاکھوں لوگ جنگوں میں مارے گئے لاکھوں لوگ بیماریوں کا لقمہ اجل بنے لیکن جو مر کر بھی زندہ رہے وہ ان جنگوں کے کردار ہیں جو وطن کی دفاع میں مارے گئے اور قوموں کی پہچان وہی لوگ بنے جو مر کر بھی قوم کو زندہ رکھتے رہے اور قوم نے انھیں مرنے نہ دیا انکے مرنے بعد وہ سمبل بن کر پوری قوم کی پہچان بن گئے خان محراب خان نہیں رہے لیکن آج وہ قوم کے سمبل کے طور پر جانے جاتے ہیں اسی طرح ہڑب و جنگ گنبد و گوک پروش کی جنگیں بلوچ قومی پہچان کے انوکھے باب ہیں بلوچ خان نوشیروانی ہو یا نورا مینگل سبھی قبضہ گیر کے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انکی رند گیری کرتے ہوئے ہزاروں بلوچ آج بھی اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور ہزاروں وطن کے لیے قربان ہو چکے ہیں ایسے ہی ایک کردار گلزار مری ہے جو شہید مامو سدو مری کے بیٹے تھے شہید مامو گلزار کو مات دے دی دونوں قسمت و حالات کے پرپیچ دور میں دوڑتے رہے نہ باپ کو گمان تھا اور نہ ہی بیٹے کو. کہ اس جنگ میں پہلے کون شہادت کا نشہ آور جام نوش کرے گا. مامو سدو نے اپنی زندگی کے کئی بہاریں بلوچ وطن کی آزادی کے لیے جلاوطنی میں گزاری کئی عیدیں وہ گھر سے دور پہاڑوں میں گزاری اپنی نوجوانی کے وقت سے لیکر اپنی شہادت کے دن تک وہ پختہ عزم کے ساتھ اپنی فرائض انجام دیتے رہے لیکن گلزار مری نے باپ کو پیچھے چھوڑ دیا اور باپ سے پہلے محاذ پر شہید ہوئے شہید گلزار مری شہید مامو سدو کے بڑے بیٹے تھے بچپن جلاوطنی میں گزاری گھر میں ابتدا سے اسکی تربیت ہوتی رہی وہ اپنے باپ کو آئیڈیل بنا کر جدوجہد کا حصہ بنے تھے اور وہ موجودہ تحریک کے شروعاتی دنوں میں بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ ہوئے باپ و بیٹے مختلف کیمپوں میں اپنے قومی فرائض سرانجام دیتے رہے باپ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے کیمپ میں اپنے فرائض سرانجام دینے چلے گئے تھے اور بیٹا بلوچ لبریشن آرمی کے کیمپ میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے بیٹا بھی باپ کی طرح نظریہ سے لیس تھا اور وطن کے عشق میں دیوانہ تھا وہ کوہستان کے مختلف کیمپوں میں اپنے فرائض سر انجام دیتا رہا 14 اگست 2007 کو جب پاکستانی فورسز کاہان کے علاقے سیاہ گری کے قریب اپنے کیمپ لگا رہے تھے اور قابض پاکستانی آرمی رات کو اپنی آزادی کا دن منا رہے تھے اور شہید گلزار مری کمانڈ کی حیثیت سے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ دشمن پر حملے کے لیے نکل چکے تھے بلوچ وطن پر قبضہ گیر دشمن کی خوشی کے پروگرام پر ان پر حملے کے لیے مورچوں کا جائزہ لے رہے تھے جوں ہی تاریکی بڑھتی گئی وہ دیگر دوستوں کے ساتھ نزدیک ہوتے رہے وہ دشمن سے قریب ہو کر اپنے مورچے سنبھال لیے دشمن مست ہو کر ناچ رہے تھے شہید گلزار مری نے بندوقوں کا رخ دشمن کی طرف کر دیئے ہر گولی ایک قبضہ گیر کو موت کے آغوش میں لے جانے کے لیے بڑھ رہا تھا شہید گلزار مری مشین گن ہاتھ میں لیے دشمن پر اندھا دھند گولیاں برسا رہا تھا دشمن کے بندوقیں خاموش ہوتے اور پھر انکی دہشتناک آواز آتی شہید گلزار مری لڑتے رہے جب اس نے تسلی کرلی کہ دشمن کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے تو انھوں نے اپنے مورچے چھوڑ کر واپس اپنے کیمپ کی طرف چلنے لگے دشمن وقفے وقفے سے فائرنگ کرتا رہا شہید گلزار مری دوستوں کے حوصلے بڑھاتے ہوئے چل رہا تھا کہ اچانک دشمن کی ایک اندھی گولی اسے لگی دوست تاریکی میں چل رہے تھے شہید گلزار مری سمجھ گئے کہ اگر وہ دوستوں کو اپنے زخمی ہونے کی خبر دے گا تو اس میدانی علاقے سے نکل نہیں سکیں گے وہ اپنی زخم کی پرواہ کیے بغیر مشین گن کندھے پر لیے چلتا رہا کوئی اس دھیان میں نہیں تھا دوست آگے چل رہے تھے وہ پیچھے رہتا گیا دوست جوں ہی اسکے نزدیک آتے وہ کہتا تم لوگ چلو میں اپنی مرضی سے آرہا ہوں تین گھنٹے کے سفر کے بعد جب پہاڑی علاقہ نزدیک ہو گیا تو دوستوں کو شک ہوا کہ گلزار بہت پیچھے رہ گیا جوں دوست اسکے قریب پہنچے وہ خون سے لت پت مشین گن کاندھے پر اٹھائے آہستہ آہستہ آرہا ہے دوستوں نے بندوق اس سے لیکر اسے نزدیک پہاڑ تک پہنچاننے میں کامیاب ہوئے دشمن دیگر قریبی پہاڑوں پر اپنے مورچے بنا چکا تھا گلزار دوستوں کے ساتھ مشورہ کرکے یہی کہتا رہا صبح دشمن اس سارے علاقے کو گیھرے میں لے گا تم لوگ چلے جاؤ میں ادھر پہاڑ میں کئی چھپ جاؤنگا زندہ رہا مجھے سنبھال لینا نہ تو وطن کے سینے میں آرام کرونگا عجیب کیفیت و حالات رہے ہونگے ایک جان کو قربان کرنے کے لیے دیگر کو بچانا ہی اصول ٹھہرتا ہے دوستوں نے اسے کسی غار میں چھپا کر چلے گئے صبح دشمن نے علاقے کا گھیراؤ کر لیا لیکن وہ شہید گلزار کو نہ دیکھ سکے شام تک گلزار مری کے ساتھی اسکی زندگی کی امید لیے بے چین رہتے جب روشنی اپنی آنکھیں بند کرکے تاریکی میں جذب ہورہا تھا تو ساتھی سفر پر روانہ ہو کر گلزار مری کی طرف چلے گئے وہ شہید ہو چکے تھے وہ اپنا فرض نبھا کر امر ہو چکے تھے اور تاریخ میں اپنا نام سرخرو کر کے چلے گئے تھے وہ اپنی بہادری ذہانت سے اپنے ساتھیوں کی جان بچا کر امر ہوگئے وہ اسپر بن کر اپنے وطن کی دفاع کرتے رہے تھے وہ وطن کی دفاع و بلوچستان کی آزادی کے لیے اپنے قومی فرائض سرانجام دیتے ہوئے 14 اگست 2007 کو وطن کو اپنے خون سے گلزار کرکے ہم سے جدا ہوئے اور اسکے والد استاد ماموں سدو مری بیٹے کی شہادت کے بعد 3 دسمبر 2007 کو مکران کے پہاڑی علاقے تلار میں دشمن کے ساتھ دو بدو لڑتے ہوئے شدید زخمی حالت میں آخری گولی تک دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے وطن کے یہ عظیم کردار اپنا فرض نبھا کر ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہوئے لیکن انکی قربانیاں تاں ابد بلوچوں کے دلوں میں زندہ رہینگے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0