پارلیمانی سیاست کرنے والی پارٹیاں بلوچ عوام کے قتل عام میں برابر کے شریک ہیں۔بی ایس او آزاد

اتوار 26 جولائی, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے قابض آرمی چیف کی دورہ بلوچستان، مشکے آواران، پنجگور، ڈیرہ بگٹی کوئٹہ، پسنی سمیت بلوچستان بھر میں جاری فوجی کاروائیوں اور درجنوں نہتے نوجوانوں کو اغواء کرنے و سینکڑوں خواتین و بچوں کو شہید کرنے کی کاروائیوں کے خلاف اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ریاستی فورسز بلوچ قوم کی جذبہ آزادی اور مقصد سے شعوری وابستگی کو دیکھ کر حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ استحصالی منصوبوں کو بلوچ عوام میں کوئی پزیرائی نہ ملنے اور سرمایہ کار کمپنیوں کی اپنے سرمایہ کو ممکنہ طور پر بلوچستان سے سمیٹنے کے ڈر سے ریاستی ادارے انتہائی خوف و غصے کی صورتحال میں بلوچ عوام پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کررہے ہیں۔ چینی حکومت کی سرمایہ کاری کے معاہدات کے بعد پہلے سے جاری نسل کشی کی کاروائیوں میں شدت لائی جا چکی ہے، ہزاروں خاندانوں کو ان کے آبائی علاقوں سے نکل مکانی پر مجبور کرنے کے بعد فورسز ان کی زمینوں و وہاں پر موجود اسکولو ں پر اپنے کیمپ تعمیر کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری قومی تحریک آزادی بلوچ عوام کی تحریک ہے، جسے طاقت و مراعات کے زور پر ختم یا کمزور نہیں کیا جا سکتا۔بلوچستان بھر میں فوجی نقل و حرکت میں غیر معمولی اضافہ اور مذہبی انتہا پسندی کو ایک ہتھیار کے طور پر بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کرنے کی پالیسی بلوچ معاشرے کے ساتھ ساتھ خطے کے امن کے لئے انتہائی خطرناک ہے، چوروں، منشیات فروشوں اور سماجی برائیوں میں ملوث لوگوں کو معمولی مراعات دے کر بلوچ سیاسی کارکنوں و عوام کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاکہ بلوچ عوام کو ڈرا دھمکا کر استحصالی منصوبوں کو پائیہ تکمیل تک پہنچا یاجا سکے۔انہوں نے کہا ڈاکٹر مالک ، ثنا ء اللہ زہری اور پارلیمانی سیاست کرنے والی پارٹیاں بلوچ عوام کے قتل عام میں برابر کے شریک ہیں۔مذکورہ کردار اپنے ذاتی مفادات و کاروبار کے تحفظ کی خاطر بلوچ عوام کی خون و ہزاروں سالہ شناخت کا سودا کرکے بلوچ آبادیوں کو اقلیت میں بدلنے کی ریاستی سازشوں کو پائیہ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔بی ایس او آزاد کے ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ عوام ایک جنگی کیفیت سے گُزر رہے ہیں۔ایک آزاد بلوچ ریاست کی مرضی کے بغیر چین سمیت کسی بھی پاکستانی و بیرونی کمپنی کی سرمایہ کاری کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ کیوں کہ ان استحصالی منصوبوں کی کامیابی کو بلوچ عوام اپنی ہزاروں سالہ شناخت، زبان و آبادی پر حملہ تصور کرکے ان کے خلاف ہر محاز پر برسر پیکار ہیں۔ قابض ریاست سمیت تمام سر مایہ کار کمپنیوں کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ بلوچ عوام کی مرضی کے بغیر ہونے والی سرمایہ کاری بلوچستان میں محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ترجمان نے کہا کہ پچھلے کئی دنوں سے آواران میں جاری آپریشن اور وسیع علاقے کی ناکہ بندی کو غیر انسانی و دہشتگردانہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی آبادیوں پر فورسز کی فضائی بمباری اور متاثرہ علاقوں کی ناکہ بندی لاشوں و زخمیوں تک ایک ہفتے سے رشتہ داروں کو رسائی نہ دینے جیسے ریاستی فورسز کے اعمال کے باوجود انسانی حقوق کے تنظیموں کی خاموشی ان کی غیر جانبدار حیثیت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے دوران پسنی، آواران، کوئٹہ، ڈیرہ بگٹی، پنجگور سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے درجنوں نوجوان اغواء، خواتین و بچوں سمیت سینکڑوں فرزندان شہید جبکہ سینکڑوں دیہات فورسز کے ہاتھوں نظر آتش کیے جا چکے ہیں۔اس طرح کی غیر معمولی صورت حال میں بھی غیر جانبدار میڈیا اداروں و انسانی حقوق کی تنظیموں نے متحرک کردار ادا نہ کیا تو بلوچ عوام کی نسل کشی میں تاریخ انہیں بھی ملوث ٹہرائے گی۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0