پانچ سال، پھر شاید غزہ رہنے کے قابل ہی نہ رہے، اقوام متحدہ

بدھ 2 ستمبر, 2015

غزہ(ہمگام نیوز) اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر غزہ میں موجودہ اقتصادی رجحانات حاوی رہے تو آئندہ پانچ برسوں کے اندر اندر یہ علاقہ ’ناقابل رہائش‘ ہو سکتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ تین جنگوں اور آٹھ سالہ اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے۔ اس رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ فلسطینی علاقے میں اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

یو این کے ’کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ‘ نامی ذیلی ادارے کی طرف سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے مابین گزشتہ برس ہونے والی جنگ کے نتیجے میں نصف ملین فلسطینی بے گھر ہوئے جبکہ اس جنگ کے اثرات کی وجہ سے وہاں ملازمتوں کے مواقع بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ چھ سالوں کے دوران اسرائیل اور حماس تین جنگیں لڑ چکے ہیں، جس کی وجہ سے غزہ پٹی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان جنگوں کی وجہ سے غزہ میں متوسط طبقہ تقریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے جبکہ پوری کی پوری آبادی جنگ کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں بین الاقوامی امداد پر مجبور ہو چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ غزہ میں گزشتہ برس قومی مجموعی پیداوار میں پندرہ فیصد کی کمی واقع ہوئی جبکہ بے روزگاری کی شرح چوالیس فیصد تک پہنچ گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق غزہ میں 72 فیصد گھرانے خوراک کے حوالے سے بے یقینی کا شکار بھی ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ میں ہونے والی جنگوں کی وجہ سے اس علاقے کی ایکسپورٹ اور داخلی سطح پر پیداواری طلب کو پورا کرنے کی صلاحیتوں پر بھی بہت برا اثر پڑا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس صورتحال میں فلسطینیوں کے پاس نہ تو وقت ہے اور نہ ہی وسائل کہ وہ تعمیر نو کے کام شروع کر سکیں۔

اس رپورٹ میں سن 2015ء کے دوران بھی غزہ کی اقتصادی صورتحال کے بہتر ہو جانے کے حوالے سے سوالیہ نشانات اٹھائے گئے ہیں، کیونکہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے غزہ میں عالمی امداد میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0