پاکستانی جنگی جرائم کے ثبوت و شواہد اور عالمی اداروں کی خاموشی ہمگام اداریہ

اتوار 6 ستمبر, 2015

مقبوضہ بلوچستان میں حالیہ آزادی کے تحریک کے شدت پکڑنے کے بعد پاکستان گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے ایک مذموم منصوبے کے تحت بلوچ قوم پرست سیاسی کارکنان ، بلوچ تعلیم یافتہ طبقے اور تحریک آزادی کے فکری ہمدردوں کو ’’ مائنس‘‘ کرنے اور اس خلاء کو جی ایچ کیو کے پیدا کردہ مذہبی شدت پسندوں ، ریاستی کاسہ لیس قبائلی موتبروں اور ریاستی سرپرستی میں پلنے والے جرائم پیشہ افراد سے پُر کرنے کی سعی کررہا ہے، تاکہ بلوچ عوام کے آزادی کے امنگوں کو ریاست کے اس پیدا کردہ طبقے کے ذریعے دبایا جاسکے ۔ اپنے ان مذموم مقاصد کے حصول کیلئے قابض ایک طرف اس کاسہ لیس طبقے کو سہولیات اور مراعات سے نواز رہا ہے تو دوسری طرف قابض کے ان عزائم کے سامنے رکاوٹ بلوچ سیاسی کارکنان ، تحریک کے ہمدردان اور بلوچ باشعور تعلیم یافتہ طبقے کو کچلنے کیلئے ان کے جبری اغواء اور حراستی قتل کا ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع کرچکا ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک ہزاروں کی تعداد میں بلوچ ریاستی اداروں کے ہاتھوں جبری طور پراغواء ہونے کے بعد لاپتہ ہیں ، جنہیں پاکستان کے خفیہ عقوبت خانوں میں بند کرکے انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان لاپتہ بلوچوں میں سے ابتک سینکڑوں کے اجتماعی یا انفرادی تشدد زدہ ، مسخ شدہ لاشیں ہاتھ بندھے اور سر میں گولیاں لگے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں وقتاً فوقتاً منظر عام پر آچکے ہیں ۔ جن میں سی کئی کی شناخت ہوچکی ہے اور اکثریت اس حد تک مسخ ہوچکے تھے کہ ان کی شناخت ممکن نہیں تھی۔
انسانی حقوق کا عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل پاکستان کے اس انسانیت سوز پالیسی کو ’’ مارو اور پھینکو ” کا نام دے چکی ہے ۔ اسکے علاوہ ہیومن رائٹس واچ ، ایشین ہیومن رائٹس کمیشن ، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سمیت کئی انسانی حقوق کے موتبر ادارے پاکستان کے اس پالیسی کا نوٹس لیکر اس سے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کو روکنے کی اپیل کرچکے ہیں، لیکن پاکستان اپنے روایتی ہٹ دھرمی اور عالمی قوانین کو پامال کرنے کے سلسلے پر عمل پیرا رہتے ہوئے نا صرف ان جرائم کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہا ہے بلکہ دوسری طرف بلوچستان میں مارو اور پھینکو کے شدت میں روز افزوں اضافہ کرتا رہا ہے ، حالانکہ اس حوالے سے لاپتہ افراد کے لواحقین کے کئی چشم دید اقبالی بیانات سامنے آچکے ہیں حالانکہ کوئٹہ میں پولیس کلوز سرکٹ کیمروں میں قید اس ویڈیو کو عدالت میں پیش کرچکا ہے جہاں پاکستانی ایف سی کچھ بلوچوں کو اغواء کررہا ہے لیکن نا صرف پاکستان کی ہٹ دھرمی جاری رہی ہے بلکہ عالمی ادارے بھی کوئی مضبوط قدم اٹھانے کے بابت لیت و لعل کا مظاھرہ کرتے رہے ہیں ۔
گذشتہ دن سماجی رابطے کے ویب سائٹوں پر ایک لِیک شدہ ویڈیو بہت تیزی کے ساتھ گردش کرتی نظر آئی اور چند ہی گھنٹوں میں ہزاروں لوگوں کے توجہ کا مرکز رہا ۔ کسی ویران جگہ پر موبائل سے بنائے گئے اس ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی پیرا ملٹری فورس ایف سی کے کئی گاڈیاں رکتی ہیں اور ایک گاڈی سے کئی ایف سی اہلکار ایک بلوچ نوجوان کو اتارتے ہیں، جب وہ اس نوجوان کو گاڈی سے اتار رہے ہوتے ہیں تو وہیں نیچے ایک اور بلوچ کی لاش پڑی ہوتی ہے ۔ گاڈی سے اتارنے کے بعد اس بلوچ نوجوان کے ہاتھ پیچھے سختی سے باندھے جاتے ہیں اور پھر اسے چلنے کا کہا جاتا ہے جب وہ کچھ قدم ہی آگے بڑھتا ہے تو پیچھے سے ایک ایف سی اہلکار تین گولیاں اسکے جسم میں پیوست کرتا ہے اور پھر قریب آکر ایک گولی سر میں مارتا ہے ۔ اس کے بعد دوسرا ایف سی اہلکار ان بلوچ نوجوانوں کی تصویریں اتار تا ہے اور پھر تمام ایف سی اہلکار وہا ں سے نکل جاتے ہیں۔ مختصر دورانیے کے اس ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی ایف سی بلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کرنے اور پھر قتل کرنے میں ملوث ہے ۔ یہ اتنا واضح ثبوت ہے کہ اسے کسی طور جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔
ایک طرف پاکستان کھلے بندوں بلوچ نوجوانوں کے اغواء اور شہادت میں مصروف ہیں اور دوسری طرف یہ ویڈیو ثبوت ہر بلوچ کے نظروں سے گذر چکا ہے ، اب یہاں عالمی اداروں برائے انسانی حقوق کے ساکھ پر ایک سنجیدہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ ان واضح ثبوت و شواہد کے باوجود پاکستان کے خلاف کوئی قدم اٹھائے گا یا پھر یہ بھی نظر انداز کی جائے گا ، کیا انسانی حقوق کے قوانین بلوچ پر بھی لاگو ہوتے ہیں ؟

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0