پاکستانی خطرات کو روکنے کے لیے تمام متاثرہ اقوام و ممالک کو مشترکہ طور پر پاکستان کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔حیربیار مری

منگل 23 دسمبر, 2014

لندن (ہمگام نیوز) بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان امن عالم کیلئے دہشت کی علامت اور ہمسایہ اقوام کیلئے ایک مستقل خطرہ بن چکا ہے ، پاکستان کے توسیع پسندانہ عزائم نے خطے کے امن کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے ، افغانستان سے ممکنہ امریکی انخلاء کے اثرات پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بلوچ قوم دوست رہنما نے کہا کہ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے دہشتگردوں کو اپنی تزویراتی گہرائی قرار دیکر انکی پرورش اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا رہا ہے ، جس کا بین ثبوت اسامہ بن لادن کا ایبٹ آباد سے ظاہر ہونا اور حقانی نیٹ ورک کی بالکل واضح اور غیر مبہم انداز میں حمایت ہے ، اب امریکی افواج کی افغانستان سے انخلاء کو دیکھ کر پاکستان دوبارہ سے افغانستان پر اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کیلئے دہشتگردوں کا رخ افغانستان کی جانب موڑ کر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ کررہا ہے ، افغانستان میں دہشتگردی کی حالیہ لہر اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اپنے تزویراتی اثاثوں کا استعمال ایک بار پھر افغانستان کے امن کے قیمت پر کررہا ہے ، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور ایسے عالم میں امریکی امداد پاکستان کے ان توسیع پسندانہ عزائم کو مزید پختگی بخشے گی ، مہذب دنیا کو پاکستان کو امداد دینے سے پہلے سوچنا چاہئے کہ یہ امداد دہشگردی کی روک تھام کے لیے نہیں
بلکہ انکی پرورش اور بلوچوں و سندھیوں کے قتل عام اور ناجائز قبضے کو طوالت بخشنے کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان
نے ہمیشہ سے یہ دعوی کیا ہے کہ اس نے لازوال قربانی اور طویل جد و جہد کے بعد انگریزوں کی استعماریت سے آزادی حاصل کی
لیکن درحقیقت انگریزوں سے ورثے میں ملی عسکری قوت کی بدولت ہی پنجابی اشرافیہ اور پاکستان کی پنجابی اکثریتی فوج نے ہمسایہ
بلوچ قوم پر حملہ کرکے اس کے سرزمین پر قبضہ کرلیا پاکستان کے دعوی کے مطابق اس نے برطانوی استعماریت اور قبضہ گیریت سے
آزادی حاصل کی لیکن درحقیقت پھر خود استعمار اور قابض بن کر بلوچستان پر قبضہ کیا، پاکستان نے جس طرح بنگالیوں پر بربریت
اور وحشت کیا و ہی عمل وہ بلوچستان میں دہرارہا ہے ۔جنوب میں سندھی اور شمال میں افغان بھی پاکستانی جارحیت کا شکار رہے اور انکے
مرضی کے بغیر انہیں بزور قوت پاکستان سے غیر فطری طور پر جوڑا گیا ۔ پاکستان کے اسی پالیسی کا شکار جہاں بھارت دراندازی کی صورت
میں برداشت کررہا ہے وہیں افغانستان میں قیام امن کے راستے میں ہمیشہ سے سب سے بڑی رکاوٹ یہی رہی ہے ، جسے پاکستان نے کبھی
بھی دل سے ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر تسلیم نہیں کیا بلکہ اپنے ناجائز مقاصد کے تکمیل کے لیے افغان سرزمین پر قتل و غارت،
مداخلت، اور امن کو برباد کرنا وہ اپنا جائز حق سمجھتا رہا اور مداخلت سے اسکا امن تہہ و بالا کرتے ہو ئے اسے عدم استحکام سے دوچا ر کیا ہوا
ہے۔ جس کا اظہار اعلانیہ طور پر پاکستانی خود ہی کرتے رہے ہیں ، اسی طالبان کو جنرل نصیر اللہ بابر پاکستان کے بچے اور جنرل اسلم بیگ و
حمید گل ان دہشگردوں کو اپنا اسٹریٹجک اثاثہ کہتے رہے اور جنرل مشرف و سرتاج عزیز جیسے لوگ افغانستان میں مداخلت کو کھلے میڈیا میں اپنا
حق قرار دیتے رہے ہیں ، پاکستان کے ان عزائم کو مدنظر رکھ کر یہ کہنا بعید از قیاس نہیں کہ امریکی انخلاء کے بعد پاکستان افغانستان میں ایک
بار پھر آگ و خون کی ہولی کھیلنے کیلئے مکمل تیار ہے ، اگر ایساف افواج پاکستان کے دہشتگرد فوج اور انکے اثاثوں کو نکیل ڈالے بغیر یہاں سے
نکلے گا تو پاکستان اس خطے کو دہشتگردوں کیلئے ایک ایسی محفوظ جنت بنادے گا کہ جس کے ہولناک نتائج کے اثرات سے نکلنا پھر پوری دنیا
کے لیے مشکل ہوگا بلوچ قوم دوست رہنما نے کہا کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب تک اس خطے میں بلوچ جیسے مقبوضہ
قوم کی آزادی تسلیم کرتے ہوئے پاکستان اور اسکے فوج کو اسکے حقیقی سرحد پنجاب تک محدود نہیں کیا جاتا ہے تب تک خطے میں دشتگردی
ختم نہیں ہوسکتی ا ور امن عالم کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان و خطے کی امن کا کنجی آزاد بلو چستان ہے
اورپاکستان نے طاقت وقوت سے بلوچ سرزمین پر قبضہ جما کر اب ہماری مقبوضہ سرزمین کی وسائل کو لوٹ کر اپنی دشتگرد فوج کو مضبوط
کررہا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ بلوچ سرزمین کی اسٹرٹیجک اہمیت کی وجہ سے بلوچ قوم کے تاریخی اتحادی افغانستان سمیت
بھارت اور دوسرے ممالک کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے ۔ حیربیار مری نے مزید کہا کہ پاکستان نے بلوچ سرزمین پر ایران کو اپنی مفادات کی
تحفظ کے لیے پاکستانی مقبوضہ بلوچستان میں فوجی کاروائی کی اجازت دی ہے جو کہ انتہائی غلط عمل ہے اگر اسے ا جازت دی ہے تو اسی پاکستانی جواز کے تحت پنجاب میں بھی ہندوستان اور افغانستان کو کاروائی کے لیے حق حاصل ہونا چاہیے۔ انھوں نے آخر میں کہا کہ خطے میں پاکستانی خطرات کو روکنے کے لیے تمام متاثرہ اقوام اور ممالک کو اب مشترکہ طور پر پاکستان کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0