پاکستانی خفیہ ادارے بین الاقوامی آپٹک فائبر سے معلومات چوری کررہے ہیں

جمعہ 24 جولائی, 2015

ویب ڈیسک (ہمگام نیوز) ۔ پاکستانی انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل جاسوسی کے میدان میں اپنے امریکی اور برطانوی حریفوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سمندر کی تہہ میں پڑی تاروں کے ذریعے انٹرنیٹ کے عالمگیر رابطوں سے معلومات کشید کر رہا ہے۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے پاکستانی خفیہ ادارے انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:’’ہم بالکل اسی ساری گیم کا ایک حصہ ہیں … بلکہ ہم تو سب سے ٹاپ پر ہیں۔‘‘

اس اہلکار کا مزید کہنا تھا:’’صرف ہم ہی یہ نہیں کر رہے ہیں۔ ہر انٹیلیجنس ایجنسی یہ کام کر رہی ہے۔‘‘

حقوقِ انسانی کے شعبے میں سرگرمِ عمل تنظیم ’پرائیویسی انٹرنیشنل‘ نے رواں ہفتے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستانی بندرگاہی شہر کراچی کے قریب سے بحیرہٴ عرب کے راستے جو چار تاریں گزرتی ہیں، پاکستان کی اُن میں سے تین کے ذریعے انٹرنیٹ ٹریفک تک رسائی ہے اور وہ اپنی مرضی کا ڈیٹا حاصل کرتا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آئی ایس آئی نے ملک کے اندر لوگوں کی جاسوسی کرنے کے لیے کچھ ایسی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی تھیں، جن کے ذریعے مغربی دنیا اور چین میں بنے ہوئے جاسوسی کے آلات حاصل کیے گئے۔

ایک پاکستانی فوجی اہلکار نے کہا کہ ان کیبلز کے ذریعے ڈیٹا اُن مسلمان عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کے ایک حصے کے طور پر حاصل کیا گیا، جو آپس میں ابلاغ کے لیے انٹرنیٹ پر موجود پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہیں۔

اس فوجی اہلکار کا بھی اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ یہ سارے معاملات فوج کے ایک ذیلی ادارے ’اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن‘ (SCO) کے ذمّے ہیں۔

جہاں ان فوجی اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ اس انٹرنیٹ ڈیٹا کو مسلمان انتہا پسندوں کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، وہاں بنیادی شہری حقوق کے علمبردار کارکنوں کا الزام ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیاں درحقیقت سیاستدانوں، ججوں، صحافیوں، غیر ملکی سفارت کاروں اور سول سوسائٹی کے ارکان کی جاسوسی کرتی ہیں۔

اس سال پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے ملکی سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ کم از کم ساڑھے پانچ ہزار موبائل فونز پر ہونے والی ذاتی گفتگو کو سن رہے ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0