پاکستان اپنے مجرمانہ ہتھکنڈوں کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہوگا ۔ بی ایس او

جمعرات 25 ستمبر, 2014

ہمگام نیوز۔۔۔۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ریاست پاکستان کی Kill and Dumpپالیسی کے تحت بلوچ فرزندان کے اغواء کے بعد انکی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ نہ صرف تواتر سے جاری و ساری ہے بلکہ اس میں روز زفزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے گزشتہ چند دنوں سے مختلف علاقوں سے متعدد مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں 23 ستمبر کو پیدراک سے باہوٹ ولد پیر محمد اور ولی محمد ولد شکاری یوسف کی مسخ شدہ لاشیں ملیں مذکورہ دونوں فرزندان کو چند دن قبل پیدراک سے ہی پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے قائم کردہ کے کارندوں نے اغواء کیا تھا جن سے علاقہ مکین اچھی طرح واقف ہیں باہوٹ سری کلگ گورکوپ اور ولی محمد سولانی گورکوپ کے رہائشی تھے مذکورہ دونوں بلوچ شہداء کو کئی دن پہلے مار کر پھینک دیا گیا تھااسی طرح 21اور 22ستمبر کے درمیانی شب ایف سی نے زیرحراست 3بلوچ فرزندان پیراں سال عزیز مینگل ، خلیل بلوچ اور عنایت بلوچ کو شہید کرکے لاشیں وڈھ میں پھینک دیں مگر بعدازاں ایف سی کے ترجمان نے اپنے جرائم کا پردہ فاش ہونے پرمجرمانہ انداز میں انہیں مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعوٰ ی کیاایف سی کے ترجمان کا بیان ایک سفید جھوٹ ہے ہم یہ واضح کرتے چلیں کہ پیران سال عزیز مینگل کو 21ستمبر کی صبح ایف سی نے وڈھ کے علاقے لوپ میں واقع انکے گھر سے بیٹے اور دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ درجنوں چشم دید گواہان کی موجودگی میں اغواء کیا تھا اور خلیل اورعنایت بلوچ کو 25اگست 2014کو وڈھ وھیرہ سے اغواء کیا تھا تینوں افراد کو ایف سی نے حراست میں قتل کرکے انکی لاشیں پھینک دیں مگر بعد میں ایف سی کے ترجمان نے میڈیا میں یہ بیان جاری کردیا کہ مذکورہ افراد کو سرچ آپریشن کے دوران مقابلے میں ہلاک کیاگیا ہے ایف سی کا بیان حقیقت سے کوسوں دورجھوٹ کا پلندہ اور اپنے جرائم کو چھپانے کوشش ہے جسے اپنے گناہوں کا پردہ فاش ہونے کے بعد ایف سی نے ترتیب دیا ہے24ستمبر کو کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی سے ایف سی اور پولیس نے مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے 35بلوچوں کو اغواء کرلیا جنکا تاحال کوئی اتا پتہ نہیں یہ بات بھی واضح ہوکہ کوئٹہ کے تمام بلوچ علاقوں سریاب ، بروری ، سیٹلائٹ ٹاؤن، ہزار کنجی ، نیوکاہان میں مختلف اوقات میں ایف سی اور پولیس سرچ آپریشن کے نام پر آبادیوں کا محاصرہ کرکے درجنوں افراد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیتے ہیں اس سے قبل کوئٹہ کے بلوچ اکثریتی آبادی والے علاقوں میں اس طرح کے درجنوں آپریشن کیئے گئے ہیں جن میں سینکڑوں افراد کو اسی طرح گرفتار کیا گیا ہے ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر مختلف انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹوں اور دیگر مختلف فورمز پر بلوچوں کے قتل عام پر بدنامی کا سامنا کرنے کے بعد پاکستان کے عسکری و خفیہ ادارے اور سول حکومت بشمول کٹھ پتلی بلوچستان حکومت کے ساتھ مل کر اپنے ان جرائم کو مختلف لبادہ پہنانے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ بلوچ قوم کے مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے فرزندان کو ہزاروں کی تعداد میں اغواء کرنے اور بعد ازاں مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکنے اور اجتماعی قبروں میں دفنانے کی وجہ سے ریاست کو مختلف عالمی فورمز پر بدنا می کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اسی لیئے دنیا توجہ ہٹانے کیلئے وہ کبھی اپنے کٹھ پتلی مالک و حاصل سے مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے بند ہونے کا جھوٹا بیان دلواتے ہیں تو کبھی بلوچ فرزندان کو دوران حراست قتل کرکے انہیں مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعوٰی کرتے ہیں یا عام آبادیوں پر فضائی بمباری اور فوجی یلغار کرکے معصوم بچوں ، خواتین اور ضعیف العمر افراد سمیت متعدد معصوم افراد کو قتل کرکے آبادیوں کو مزاحمتکاروں کے کیمپ اور عام افراد کو مزاحمتکارقرار دے کر رسوائی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں یہ امر واضح ہو کہ پاکستانی فورسز اور خفیہ ادارے اور نہ ہی کٹھ پتلی بلوچستان حکومت نہ پہلے اپنے مجرمانہ افعال کو اس طرح کے شرمناک ہتھکنڈوں سے چھپانے میں کامیاب ہوئے تھے اور نہ آئندہ اس طرح سے آئندہ انہیں کامیابی ملے گی۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0