پاکستان بلوچوں کی نسل کشی کرنے کے در پے ہے۔ بی این ایم

اتوار 14 دسمبر, 2014

  1. ہمگام نیوز۔۔۔بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے کیچ پیدارک میں بلوچی زبان کے شہید شاعر واجہ کمال کہدائی کے گھر پر حملہ اور گھر کو جلانے اور جھاؤ جکی میں مولابخش کے گھر پر پاکستانی فورسز کی بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی بربریت میں شدت تیزی سے جاری ہے ، ہر نئی حکومت کے ساتھ ریاست نئی حکمت عملیوں کے ساتھ بلوچ قوم پر جبر کرکے نسل کشی کرنے کے در پے ہے ۔ آج صبح پیدارک میں شہید کمال کہدائی کے گھر پر حملہ ، چادر و چار دیواری کی پامالی، قیمتی اشیا کی لوٹ مار کے بعد گھر کو جلانا اُن پالیسیوں کا حصہ ہیں جن کے تحت شہداء کے گھر وں کو جلانا اور رشتہ داروں کو اغواء و قتل کرنا ہے ۔ کل جھاؤ کے علاقے جکی میں ستر کی دہائی کے بلوچ جہدکا ر رحیم بخش کے بیٹے مولا بخش بلوچ کے گھر پر قابض ریاستی فورسزنے بمباری کیا جس سے اُن کا بیٹا آصف زخمی ہوا ،گھر کو نقصان ، ایک گاڈی اور چار موٹرسائیکلوں کو بمباری سے تباہ کرکے اپنی بربریت کا مظاہر ہ کیا جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں ۔ مرکزی ترجمان نے کہاکہ چھیاسٹھ سالوں سے جاری پاکستانی قبضہ میں بلوچوں کو لاشوں کے تحفے وصول ہو رہے ہیں مگر اب شہدا کی مقبروں و گھروں کو جلانا خود ریاست کی حواس باختگی کی عکاس ہے ۔ بلوچ قوم نے اس دورانیہ میں ہمیشہ مزاحمت کرکے اپنی تاریخ و ثقافت کو زندہ رکھا ہے ۔ جس میں شاعروں کی سینہ بہ سینہ بلوچوں کی داستانوں کو تاریخ کا حصہ بناکر بلوچ ثقافت و زبان کو زندہ رکھنا چند اہم کارناموں میں شامل ہیں ۔ استاد ، شاعر و ازمکار کسی قوم کو زندہ رکھنے میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں ، آج بلوچستان میں نصیر کمالان و کمال کہدائی جیسے شاعروں و صبا دشتیاری جیسے استادوں کو شہید کرکے قابض ریاست پاکستان بلوچ قوم کی زبان و ثقافت کو ختم کرنے اور سول آبادیوں پر بمباری کرکے بلوچ کی نسل کشی کر رہا ہے ۔ جھاؤ میں مولابخش بلوچ کے گھر پر حملہ اور شہید کمال کہدائی کے گھر کو جلانا انہی سلسلے کی کڑیاں ہیں
image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0