پاکستان سےامن کےلیےمدد مانگنا وقت کا ضیاع ہے.افغانستان

جمعہ 5 دسمبر, 2014

افغانستان کے سابق وزیر داخلہ عمر داودزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان سے امن کی بحالی کےلیے مدد مانگنا وقت کا ضیاع ہے۔
انھوں نے نو منتخب صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان پر تکیہ کرنے کے بجائے حصول امن کے لیے دیگر راستے تلاش کریں کیونکہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
وزرات سے سبکدوش ہونے کے بعد کابل میں الوداعی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ اشرف غنی کا محض خواب ہوگا کہ پاکستان ان کے لیے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائےگا۔‘
عمر داودزئی جو سابق صدر حامد کرزئی کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں اور پاکستان میں افغانستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں پاکستان کا نام نہ لیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسے کونسے ممالک ہیں جو چاہتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان پھیل جائیں۔

اطلاعات کے مطابق عمر دادوزئی نے کہا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی طالبان کی مدد کر رہی ہے اور کرزئی کے دور میں پاکستان نے اسے تسلیم کیا تھا
’ انھوں نے بار بار یقین دلایا جب کرزئی اقتدار میں تھے، کہ پاکستان مزاحمت کاروں کی مدد نہیں کرے گا لیکن ہم آج بھی اسی قسم کی مزاحمت سے دوچار ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کا واحد حل افغان سکیورٹی فورسز کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہے۔
خیال رہے کہ یہ عمر داودزئی کا اب تک بظاہر پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ سخت بیان مانا جا رہا ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0