پاکستان نے تمام انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے بلوچستان پہ قبضہ کیا۔ ماما قدیر

بدھ 24 ستمبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1736دن ہوگئے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں حب چوکی سے سیاسی سماجی کارکن میر بخش علی بلوچ خد ابخش بلوچ عظیم بلوچ اوران کے ساتھیوں نے لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں آج دنیا کی سب سے بڑی انسانی بحران جاری ہے ایک دردناک انسانی المیہ ہے افسوس کا مقام ہے کہ اقوام متحدہ یا انسانی حقوق کے دعویدار ادارے یہاں نظر نہیں آتے ہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کے یہاں دورے پر موجودگی کے دوران بھی بلوچ نوجوان شہید کئے گئے حالانکہ اس المیہ کی سدباب اور روک تھام کیلئے لوگ احتجاج کررہے تھے اپیلیں کررہے تھے یہاں لوگ مارے اور اٹھا ئے جارہے ہیں انسانیت سوز تشدد کے بعد ان کی مسخ لاشیں گرائی جارہی ہیں جگہ جگہ سفاکیت کے ساتھ آپریشن جاری ہے ہم اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں سے کہتے ہیں یہاں ایک جینوئن قومی مسئلہ نیشنل اور نیشنلزم کا مسئلہ ہے کہ بلوچ قوم کو غلام اور بلوچ وطن پر پاکستان نے تمام انسانی اقددار کو پامال کرتے ہوئے قبضہ کرلیا ہے کیا دنیا اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ بلوچ نہ پاکستان میں کسی رجیم کے تبدیلی کے منفی ہیں اور نہ ہی اس کے فوج میں تحفیف سے سروکار رکھتے ہیں ہاں بلوچ قوم نے بارہا اقوام متحدہ کو انتباء کرنے کی کوشش کی ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان خفیہ اداروں کے اہلکاروں ایف سی ڈیتھ اسکواڈ نے چند دن پہلے عزیز مینگل خلیل لانگو اور عنایت کو وڈھ بازار سے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا تھا دوران حراست ان کے ساتھ جس طرح کا غیر انسانی غیر مہذب وپرتشدد سلوک کیا گیا تھا  ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0