پاکستان پر پابندیاں لگانے کے بجائے اسے تین سال کے لیے اقوامِ متحدہ ممبر منتخب کرنا مہذب دنیا کی کردار پر سوالیہ نشان ہے۔بی آر ایس او

جمعرات 30 اکتوبر, 2014

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ ری پبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مر کزی ترجمان نے اپنا ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستِ پاکستان بلوچ قوم کی نسل کشی میں مصروف ہے روز بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں بلوچستان اور کراچی کے مختلف علاقوں یا ویرانوں میں پھینکی جاتی ہیں ۔توتک سے اجتماعی قبروں کی دریافت پر عالمی دنیاکو پاکستان کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے اس پر پابندیاں لگانے کے بجائے اسے اقوامِ متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل میں پھر سے منتخب کرنا مہذب دنیا کی کردار پر سوالیہ نشان ہے۔بی آر ایس او کے ترجمان نے ڈیرہ بگٹی اورمشکے سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاڈیرہ بگٹی اور مشکے میں فورسز کی سول آبادیوں پر حملہ انسانیت پر حملہ ہے عام آبادیوں پر حملہ کرکہ معصوم بچوں اور عورتوں کو نشانہ بناکر بلوچ قوم کو آزادی کی مانگ سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا ، بلوچستان میں آپریشن کے نام پر بلوچ قوم کی نسل کشی انتہائی تیزی سے جاری ہے کچھ عرصہ قبل لاپتہ کیے گئے حمل مری،رحمان مری اور نجیب بلوچ کی مسخ شدہ لاشیں کراچی سے موصول ہوئیں جنہیں اغواء کرکہ شدید تشددکے بعدشہید کردیا گیا۔ ریاست کی ظلم سے معصوم بچے بھی محفوظ نہیں ہیں ۔اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت بین القوامی انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی ریاست کو بلوچ قوم کی نسل کشی ، وسائل کی لوٹ مار، تعلیمی اداروں کی بندش، بلوچ سوسائٹی میں فرقہ ورانہ فسادات ، سمیت مختلف مظالم ڈائے جانے کا جواز بخش رہے ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0