پاکستان کی مالی تعاون کرنے والوں کو بھی شریکِ جرم سمجھتے ہیں۔ بی این ایم

اتوار 9 نومبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے چین پاکستان کے ساتھ تازہ معاہدات پر اپنے رد عمل میں کہا کہ گوادر پورٹ،گوادر تا کاشغر انرجی کوریڈور، گڈانی انرجی پارک منصوبے ایسے چینی سامراجی عزائم ہیں جن سے بلوچ کی قومی زیست و موت وابستہ ہے۔ مرکزی ترجمان نے کہا کہ خطے میں بالادستی اور طاقت کے توازن کی جنگ نے چین کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ جس ملک سے وہ اپنے ہاں دہشت گردی کو روکنے کی تعاون کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے،اسی ملک کو اربوں ڈالر اقتصادی امداد دے رہا ہے۔جو خود ایک سوالیہ نشان اور تضاد ہے۔دہشت گردی کے سب سے بڑے ایکسپورٹر کی اتنی بڑے پیمانے پر مالی و اقتصادی تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچ کی نصب صدی سے زیادہ عرصے پر محیط تحریک کے خلاف چین پاکستان کے ساتھ شریک جرم بن رہا ہے۔مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ چین اس حقیقت سے کبھی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ کسی ملک کے خلاف اسکی سرزمین وسائل کی لوٹ مار اور استحصال کے لیے قابض طاقت سے معاہدات عالمی قوانین کی کُھلی خلاف ورزی ہے،اور بلوچ بارے چین عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑا رہا ہے۔آج چین سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک وپورے دنیا کو جس انتہا پسندی کا سامنا ہے اسکی پیدائش و افزائش کا سب سے بڑا مرکز پاکستان ہے اور بلوچ قوم اسی پاکستان کے خلاف اپنی آزادی کی جنگ پوری شدت کے ساتھ لڑ رہا ہے۔مگر عالمی طاقتوں کی اپنی مفادات کی تکمیل اور اس خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں لانے کے لیے پاکستان کی بے پناہ عسکری و اقتصادی تعاون براہ راست خطے کی امن و امان و خوشحالی کو داؤ پر لگانا ہے۔چینی قیادت کو اپنی طویل جنگی آزادی اور قربانیوں کے تاریخ کی روشنی میں یہ احساس کر لینا چائیے کہ قوموں کو اس طرح زیر کرنا ناممکن ہے۔جس طرح چین اور پاکستان بلوچ قومی تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کے استعمال سے خواب بوند رہے ہیں وہ ان کی خام خیالی ہے۔ایسے حالات میں دنیا کی مہذب ممالک کو خاموش رہنے کے بجائے کردار ادا کر کے اپنا انسانی حق پورا کرنا چائیے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0