پاکستان کے ساتھ معاہدہ بلوچ نسل کشی میں شراکت دار شمار ہوگا،بی این ایم

منگل 14 جولائی, 2015

کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) عالمی قوتوں کی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ اور ہندوستان کا ایران کے ساتھ سڑک ، ریلوے ٹریک اور گیس پائپ لائن معاہدے کی خواہش کے اظہار پر بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مزکورہ سڑک ، ریلوے اور گیس پائپ لائن بلوچستان سے گزرتے ہیں اور بلوچ قوم کی مرضی و منشا کے بغیر کسی بھی اسکیم وپراجیکٹ کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا۔ بلوچ سرزمین پر کسی بھی منصوبے میں بلوچ کی رضامندی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، تمام اقوام و ممالک اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرکے ایسے معاہدات سے گریز کریں۔ بلوچستان ایک اور جنگ زدہ علاقہ ہے ، یہاں کسی کا بھی سرمایہ محفوظ نہیں ہوگا۔ اپنے سرزمین اور وسائل کی دفاع میں ہزاروں بلوچوں نے قربانیاں دی ہیں اور آج بھی بلوچستان کی آزادی کیلئے سر بہ کفن ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ کئی منصوبوں کی تکمیل کیلئے بلوچ نسل کشی کر رہا ہے ، ایسے وقت میں کسی ملک کا پاکستان کے ساتھ معاہدہ بلوچ نسل کشی میں شراکت دار شمار ہوگا۔ اس سے پہلے چین کے ساتھ معاہدات کے بعد فورسزآپریشنوں میں شدت لائی گئی مگر بلوچ اپنے موقف وطن کی دفاع سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹا، پانچواں فورسزآپریشن ایک دہائی سے زائد کے عرصے سے جاری ہے مگر بلوچ کو اپنی سرزمین کی دفاع سے نہیں روک سکا ہے۔ عالمی قوتوں کو بلوچستان میں سرمایہ کاری اور پاکستان کی بلوچ نسل کشی میں حصہ دار بننے کے بجائے آزاد بلوچستان کی جد و جہد میں بلوچ قوم کی مدد کرنا چاہیے ۔ پاکستان اس خطہ میں بدامنی و دہشت گردی کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ہے، آزاد بلوچستان تمام ہمسایوں اور پوری دنیا سے خوشگوار تعلقات رکھ کر خطے میں امن کی ضمانت ہوگی۔ ایران کو معاشی و عسکری چھوٹ دینے کا مطب اس خطے و دنیا بھر میں عالمی امن کو دھاؤ پر لگانا ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0