پُرامن افغانستان کی راہ میں پاکستان بڑی رکاوٹ ہے:حیربیار

منگل 1 ستمبر, 2015

کابل( ہمگام نیوز)بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے بلوچ پشتون یکجہتی کے حوالے سے کابل میں منعقدہ پروکرام میں اپنے پیغام میں کہا کہبلوچ اور افغان ہمیشہ سے پر امن طور پررہے اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے ہیں بلوچ اور افغان کی پر امن اور برادارانہ تاریخ نوری نصیرخان اور احمد شاہ ابدالی کے دور سے شروع ہوتی ہے ۔اس وقت ایک مختصر لڑائی کے بعد بلوچ افغان کے درمیان معاہدے قلات طے پا گیا جسے نان انٹفیرنس یا عدم مداخلت کی ٹریٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس ٹریٹی کے مطابق بلوچ اور افغان ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرینگے۔ اس وقت سے بلوچ افغان ایک دوسرے کے ساتھ مختلف جنگوں میں تعاون کرتے آرہے ہیں۔ بلوچ ہیرو نوری نصیر خان نے ایرانیوں کو شکست دینے کے لیے خراسان 1759 کی جنگ میں افغان کی مدد کی انہوں نے پانی پت 1761کی تیسری جنگ میں احمد شاہ کی معاونت کی ۔
وہ بھی بلوچ قوم ہی تھی جس نے 1839 برطانوی فوجوں کو افغانستان پر حملے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے سے انکار کیا۔ لہذا برطانیہ نے 13اکتوبر 1839 میں پہلے بلوچستان پر حملہ کیا اور بلوچ حکمران میر محراب خان کو اور اس کے متعدد ساتھیوں کو شہید کیا پھر برطانیہ نے بلوچستان کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ بلوچ قوم نے بھی ڈیورنڈ لائن کو قبول نہیں کیا جو بلوچستان اور افغانستان دونوں ملکوں کو تقیسم کرتا ہے۔ آج بلوچ اور افغان شمال میں پشتوں پاکستانی توسیع پسندی کی وجہ سےاپنی مرضی کے بغیر زبردستی سے اس مصنوعی پاکستان کا حصہ بنائے گیے ہیں ۔پاکستان بلوچ اور پشتون دونوں کودہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بے دردی سے قتل کر رہا ہے ۔لیکن حققیت میں بلوچ اور پشتونوں کی اپنی الگ شناخت، کلچر اور الگ سر زمین ہے ہمیں دشمن کی شیطانی عزائم کو مٹی میں ملانے کے لیے متحد ہونا ہوگا اور اس غلامی سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہوگا۔ پر امن افغانستان کی راہ میں پاکستان سب سے بڑی رکاوٹ ہے افغان سرزمیں پر حالیہ تباہ کاریاں ہو ں یا خیبر پختونخواہ میں ملٹری آپریشنز وہ پشتوں قوم کو غلام بنانے پاکستان شیطانی عزائم کی روشن مثالیں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی حقیقی طور پر افغانستان کو ایک آزاد ملک تسلیم نہیں کیا اِسی لئے پاکستان اپنے مذموم عزائم کی تکیمل کے لیے افغانستان میں خون خرابہ ،داخلی معاملات میں مداخلت کو اپنا حق سمجھ رہا ہے۔ میں نے اپنے حالیہ ایک اخباری بیان میں بھی اس کا اظہار کیا تھا یہاں بلوچ اور پشتوں یکجہتی کے دن اِسے مناسب موقع سمجھ کر پھر دہرا ناچاہتا ہوں کہ افغانستان اور اس خطے میں امن کی کنجی آزاد بلوچستان ہے ۔پاکستان نے بلوچستان کو بندوق کی نوک پر قبضہ کیا اور ابھی بلوچ قومی وسائل کو لوٹ کر اپنی دہشت گرد فوج کو مضبوط کر رہا ہے بلوچستان کے دفاعی اہمیت کے پیش نظر پاکستان بلوچ قوم کی تاریخی اتحادی افغانستان اور اس کے خطے کے دوسرے ممالک کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے ۔ آج بلوچ اور افغان اتحاد کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ پاکستان کی بلوچستان اور افغانستان کے خلاف سازشوں کو ناکام بنا سکیں ۔ اگر افغانوں کو پرامن اور خوشحال افغانستان چاہیے تو انہیں بلوچ قومی تحریک آزادی کی حمایت کریں کیونکہ آزاد بلوچستان کبھی بھی پنجاب سے دہشت گردوں کو افغانستان کے اندر مداخلت اور امن کو تباہ کر نے کی اجازت اور راستہ نہیں دے گا۔ آزاد بلوچستان اور پرامن افغانستان اس خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور بین الاقوامی برادری کا عالمی دہشت گردی کے خلاف اہم اور مضبوط اتحادی ہوسکتے ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں بلوچ اور افغان عوام کو ایک دوسرے کی حمایت اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا ہوگا۔
بلوچ پشتوں دوستی زندہ باد
افغانستان اور بلوچستان زندہ باد

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0