چاکر اور گوہرام کی برادر کشی اور ہمارا علم تحریر: اسلم بلوچ

جمعہ 7 نومبر, 2014

یہ عام فہم اور روز مرہ کی بات ہے صرف غور کرنے کی ضرورت ہے اگر میں اپنی بات کروں تو میں نے دوبھائیوں کو ایک بکری کی ملکیت پر لڑتے دیکھا ایک گائے اور تین بکریوں کی ملکیت کے دعوے کو لیکر تین بھائیوں اور انکے بیٹوں کو 16 سال تک انصاف کے لئے بھاگتے دیکھا بھائیوں کوآپس میں زمین کے معمولی ٹکڑے پر مرتے دیکھا ایک مکان کے ملکیت پر سالوں تھانوں کچہری اور معتبرین کے در پر ماتھا رگڑتے دیکھا . اگر آپ اسی تناظرمیں کسی بھی معمولی مسئلے پر باریک بینی سے غور کریں تو آپ کو یہ سمجھنے میں بالکل مشکل نہیں ہوگا کہ بنیادی طور پر تنازعہ ہمیشہ شعوری حوالے سے عدم توازن کی صورت حال کو لیکر ہوتا.
اگر آپ کسی بھی حوالے سے یعنی ملکیت وراثت رشتے تعلقات کاروبار وغیرہ کے بارے میں تھوڑا بہت بھی شعور رکھتے ہو تو ان میں معمولی سی عدم توازن بھی آپ کو لازمی طور پر ردعمل پر مجبور کردیگا اور یہ ردعمل فطری ہوگا اب آپ کے ردعمل کی نوعیت کچھ بھی ہو وہ لازمی طور پر آپ کو فریق کی حیثیت میں سامنے لائے گا.تو فریقین کی حیثیت از خود مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے مسئلے کو لیکر عدم توازن کی نوعیت کو سمجھنا اورفریقین کے بیچ مسئلے کو لیکر توازن کے لیے انصاف کے تقاضے پورے کرنا اولین عقلی اورعلمی عمل ہوگا .
اگر میں کسی بھی متنازعہ مسئلے پر اول فریقین کے حیثیت کی تعین کئے بغیر ،مسئلے کی نوعیت کو سمجھے بغیر، حقائق بارے صیح معلومات حاصل کرنے کے لئے تحقیق کے بغیر لٹنے والے کو اورلوٹنے والے دونوں کو بردار بندی کی نصیحت کروں گا تو آپ کے رائے کے مطابق میرا یہ عمل ایسا نہیں ہوگا کہ میں بکری اور قصائی بھائی بھائی والی بات کررہا ہوں گا . ؟؟؟ تو کیا میرا یہ عمل عقلی اور علمی کہلائے گا؟ ؟؟؟..
انسانی نفسیات کواگرمدنظر رکھکر دیکھا جائے تو لالچ ،حسد ،جھوٹ، فریب ،سازش ،ان تمام کی حقیقت سے کون بدبخت انکار کرسکتا ہے ان فطری حقائق کولیکر انسانی سماج میں ذاتی ملکیت و وراثت بارے وارثوں کے بیچ توازن ، رشتوں کی حثیت کو لیکر بہتر اور مثالی معاشرتی زندکے لئے رشتوں کے بیچ توازن ، کاروباری تعلقات کے بیچ توازن، ذاتی ،گروہی، قبائلی، تعلقات کے بیچ توازن ،قومی سیاسی تعلقات کے بیچ توازن .ان سب کاانحصارمکمل طور فطرت کے ان اصولوں پر ہے جو انسانی تاریخ میں شعوری حوالے سیانسانوں کے بیچ تسلیم اور طے شدہ ہیں .ان اصولوں سے انحراف از خود عدم توازن کی صورت حال کا موجب بنتا ہے. انحراف کی وجوہات کچھ بھی ہوں کیا انکو سمجھے بغیر کوئی بھی اپنے کسی بھی حیثیت کو لیکر ان میں توازن پیدا کرسکتا ہے وہ حیثیت مذہبی ہو یا قبائلی سیاسی ہو سماجی دانشورانہ ہو یاصوفیانہ. میرے ناقص رائے کے مطابق عقلی، علمی ،سائنسی حوالے سے تو ہرگز نہیں
ہاں روایتی حوالے سے کسی بھی حیثیت قبائلی، سیاسی، سماجی، مذہبی کو خاطر میں لاکر اصولوں کے انحراف کو لیکر عدم توازن کی وجوہات کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے. جو سیدھی طرح سے انسانی سماج میں نا انصافی کو لیکر تباہی کا موجب بنتا ہے.
اب آپ غور کریں کہ قبائلی زند میں سردار کے چناو کو لیکر رند و لاشار کے بیچ طے شدہ اصول کے پامالی کا ذمہ دار کون تھا سردار شہک اپنے دستار کا حق دار اپنے بیٹے چاکر کو قرار دیتا ہے حالانکہ اصول اور رواج سردار کے چناؤ کے لیے طے تھے اصول و رواج کے مطابق یہ
فیصلہ مشترکہ طور پر قبیلے کا تھا جس کی پاسداری قبیلے سمیت سردار پر بھی لازم تھا لیکن رسم و رواج کا پاسدار سردار خود ہی پامالی پر اترآیا جس کے ردعمل میں گوہرام نے رسم و رواج کے پاسداری کو لیکر بغاوت کی ،گوہرامی بغاوت قابل تعریف عمل تھا یا قابل مذمت؟ ؟اس کے علاوہ سازشیں ، جاہلانہ اقوال،ہتکہ ایک دوسرے کے منگیتروں پر ہاتھ صاف کرنے جیسے نفسیات کا سامنے آنا کس برادر بندی کی نشاندہی کرتا تھا ان کی وضاحت کیے بغیرانکو نظرانداز کرکے صرف اور صرف برادر کشی کے اصطلاح سے سادھو بن نصیحت کرنا بہت آسان کام ہوسکتا ہے لیکن عقلی ،علمی،اور سائنسی ہرگز نہیں وہ ایک قبائلی زندوگذران تھا جس کے کچھ طے شدہ اصول تھے جنکے پامالی سے انکے بیچ عدم توازن پیدا ہوا اگر اس وقت اپنے زند وگذران بارے رند و لاشار کو شعور ہوتا اور وہ اصولوں کی پامالی اور اپنے بیچ عدم توازن کی وجوہات کو سمجھکر اصولوں کی پامالی کرنے والوں کا محاسبہ کر کے انکی حوصلہ شکنی کرتے تو شاہد آج بلوچوں کی تاریخ ہی کچھ اور ہوتی . بدقسمتی یہ ہے کہ بحیثیت قوم آج تک ہم اپنے آپ کو سمجھ ہی نہیں سکیں.
آج کے حالات کا تقابلی جائزہ چاکر اور گوہرام سے لیناوہ بھی معلومات اور تحقیق کے بغیر میرے خیال سے ذاتی جذبات کے اظہار کے زمرے میں آتا ہوگا آج ہمارے سیاسی منظر نامے میں جو انتشار نظر آرہا ہے اس کے بہت ہی ٹھوس وجوہات ہیں جن کا بار بار اظہار بھی کیا جاچکا ہے.
میرے ناقص رائے کے مطابق آج وقت و حالات ہم سے جو تقاضا کر رہے ہیں ہمیں سب سے پہلے انکو اچھی طرح سے سمجھنا چاہیے.اس کے بعد یہ دیکھنا لازمی ہوجاتاہے کہ اس انتشار کے پیچھے کس طرح کے عدم توازن کا قانون کافرما ہے اس عدم توازن کے بنیادی وجوہات کیا ہیں اسکے پیدا کرنے کا ذمہ دار کون ہے فریقین کی حثیت کا تعین کیسے ہو انکے وجود موقف کی بنیادیں کیا ہیں .حقیقی اور غیر حقیقی کی بنیاد پر عقلی و علمی حوصلہ افزائی یا حوصلہ شکنی کے بابت معاشرے کے ذمہ دار طبقے کے فرائض کیا ہیں .مجھے نہیں لگتا کہ ان عوامل کو نظر انداز کرکے کوئی بھی ان حالات میں روایتی طرز پر کچھ بھی حاصل کرسکے گا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0