چھترکے علاقے سے چھ چرواہے ریوڑ سمیت اغواء

ہفتہ 25 جولائی, 2015

چھتر(ہمگام نیوز) ضلع نصیر آباد پولیس تھانہ چھتر کی حدودمیں چھ کمسن مال مویشی چرانے والے چرواہے ساٹھ سے زائد گائے وبیل چالیس سے زائد بھیڑ بکریاں موٹرسائیکل مسلح افراد اغواءکرکے لے گئے اغواءکاروں کی جانب سے ورثہ سے رابطہ علاقہ چھوڑ کر چلے جاﺅں نہیں تو بچوں کی لاشیں تحفے میں گھر پہنچ جائیں گئے اغواءکاروں نے بچوں کو چھتر کے اس جگہ سے اٹھایا جہاں چند سال قبل تیس سے زائد پولیس اہلکاروں اغواءکیئے گئے بعد قتل کرکے ان کی لاشیں پہاڑوں میں پھینک دیئے گئے بچوں کے ورثہ قرآن مجید اور خواتین کے ساتھ اغواءکاروں کی جانب بلوچی میڑھ کی صورت میںاغواءکاروں کی ٹھکانوں کی جانب روانہ نصیرآباد پولیس کی جانب سے مکمل طور پر خاموشی سوالیہ نشان تفصیلات کے مطابق ضلع نصیر آباد پولیس تھانہ چھتر کی حدود شاہ پور ریتی ٹیلوں پر مال مویشی چرانے والے کم عمر دلی جان ولد منظور قوم کھوسہ نذیر احمد ولد سمندر قوم کھوسہ بشیر احمد ولد دلاور سارنگ ڈیھتہ خالدحسین دولد خان محمد قوم کھوسہ اظہارحسین قوم سولنگی قمرالدین ولد دلاورقوم سامت اپنے مال مویشی جن میں ساٹھ سے زائد گائے وبیل اور چالیس سے زائد بھیڑ بکریاں چرانے لے گئے آمداطلاعات کے مطابق دس سے زائد جدید اسلحہ سے لیس موٹر سائیکل سوار افراد نے سب کم عمربچوں کو یرغمال بنا کر نامعلوم جگہ پر اغواءکرکے لے جانے میں کامیاب ہوگئے ذرائع کے مطابق اغواءکاروں نے جدید موصلاتی نظام سے ورثہ سے رابط کرے دھمکی دی بچوں کی جان پیاری ہے علاقہ چھوڑ کر چلے جاﺅں نہیں تو بچوں کی لاشیں تحفے میں ملیں گے بچوں کو چھتر کے اسی علاقہ سے اغواءکیا گیا جہاں چند سال پہلے تیئس سے زائد پولیس اہلکاروں کو اغواءکرنے کے بعد مسخ لاشیں شدہ پہاڑوں میں ورثہ کو ملی نصیرآباد پولیس کی بڑھتی ہوئی بدامنی پر خاموشی سوالیہ نشان بن چکا ہے بچوں کی ورثہ نے قرآن مجید اپنے خواتین کے ساتھ اغواءکاروں سے اپنے بچوں کو چھوڑانے کے لیئے روانہ ہوگئے کیونکہ مرتبہ قرآن مجید اور خواتین کی میڑھ جانے کی صورت میں کئی مغویوں اغواءکاروں سابقہ دور میں رہا کر چکے ہیں

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0