چیئرمین نصراللہ بلوچ کو ایم ایس کے حکم پر سیکورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا ہیں ۔وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز

بدھ 19 اگست, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رکن غلام فاروق نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ روز تنظیم کے چیئرمین اور ان کے اہل خانہ کو سول ہسپتال میں حبس بے جامیں رکھ کر ان کے ساتھ نارو اسلوک رکھا گیا بلکہ ایم ایس کے حکم پر انہیں گرفتاری بھی کیا گیا ہے اگر چیئرمین کی غیر حاضری کے باعث لاپتہ افراد کے کیس پر منفی اثرات مرتب ہوئے یا پھر ان کے بیمار بچے کو نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ دار ایم ایس اور ہسپتال انتظامیہ پر عائد ہوگئی کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز تنظیم کے چیئرمین سول ہسپتال اپنی اہلیہ اور ایک سالہ بچے کے ہمراہ آئے بچے کی حالت انتہائی خراب ہونے کی باوجود بھی انہیں د تو وارڈ اور گائنی وارڈ تک کئی مرتبہ جان بوجھ کر چلکر لگوائے گئے جس پر انہوں نے اعتراض کیا تو ڈاکٹر ز اور سیکورٹی پر مامور افراد نے تنظیم کے چیئرمین کے ساتھ نا صرف بد تمیزی کی بلکہ انہیں دھکے بھی دیئے جس کے باعث وہاں ایک شیشہ بھی ٹوٹ گیا ازاں چیئرمین کی اہلیہ اور بچے کو ایک کمرے میں ایک گھنٹے تک بند کیا گیا انہوں نے کہا کہ نہ صرف چیئرمین کی اہلیہ اور بچے کو حبس بے جامیں رکھا گیا بلکہ ایم ایس سول ہستپال کے حکم پر انہیں گرفتار بھی کیا گیا انہیں ایسے وقت میں گرفتار کیا گیا ہے جمعرات کو وائس فار بلوچ مسنگ پر سنز کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائرہ کردہ کیسز کی سماعت ہونی ہے اگر چیئرمین کی عدم پیشی کے باعث کیسز پر منفی اثرات مرتب ہوئے تو اس کی ذمہ داری ایس ایم اور وارڈ میں ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹر ز پر عائد ہوگئی اور اگر بیمار بچے کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری ایم ایس سول ہسپتال اور انتظامیہ پر عائد ہوگی

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0