ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ ایک پرتضاد شخصیت. تحریر. نود بندگ بلوچ

جمعرات 16 اکتوبر, 2014

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ 21 ویں صدی کے پہلے دہائی کے دوران بلوچ قومی تحریک میں جتنی پذیرائی ، عزت اور شرف ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کو نصیب ہوئی شاید اتنی آسانی اور تیزی کے ساتھ کوئی بلوچ رہنما حاصل نہیں کرسکا۔ اگر ہم باریک بینی اور حقیقت پسندی سے جائزہ لیں اور کردار کے ترازوں میں شہرت کو تول کر دیکھیں تو یہ بات کہنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہئے کہ محترم ڈاکٹر صاحب کو جو شرف اور پذیرائی حاصل ہوئی وہ اسکے کردار کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ وزن دار ہے ، حالانکہ اگر ہم روایتی تعظیم سے باہر نکل کر سوچیں تو ہمیں ایسا کوئی بھی کارنامہ نظر نہیں آتا جو ڈاکٹر صاحب نے سرانجام دیا ہو اور نا ہی وہ معیارِ رہبری دیکھنے کو ملتی ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم مستقبل میں ان سے کوئی امید باندھ سکیں ، یار لوگوں کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ پہلے بی ایس او آزاد کو مبالغہ آرائی سے ایک کچے مکان سے محل ثابت کریں پھر اسکا سہرا ڈاکٹر صاحب کے سرباندھیں ، اس میں شک نہیں کہ ڈاکٹر اللہ نظر نے بی ایس او آزاد کا بنیاد رکھنے میں ایک کردار ادا کیا لیکن اس دوران باقیوں کے کردار اور وقت کے حالات کو نظر انداز کرکے بی ایس او آزاد کو صرف انکے شخصیت کی کرشمہ سازی قرار دینا یقیناً نا انصافی اور جدلیاتی مادیت کے اصولوں کی نفی ہوگی کیونکہ مسلح جدوجہد کے آغاز کے ساتھ ہی ایسے حالات بن گئے تھے کہ بلوچ طلبا پر ضرور اثر ہوتا اور وہ باقی پارلیمانی سیاست سے خود کو علیحدہ کرتے پھر اس کارخیر کو ڈاکٹر صاحب نے سرانجام دیا اگر وہ یہ کام نہیں بھی کرتے تو ضرور کوئی اور کردیتا ، ہاں میں اس وقت ڈاکٹر صاحب کو کمال ساز ضرور کہتا جب حالات کو ایک نئی رخ دینے میں وہ اپنا کردار ادا کرتے وہ تو بس حالات کے دھارہ میں بہتے گئے اب اتفاق سے وہ صحیح وقت میں صحیح جگہ پر موجود تھے تو محترم ڈاکٹر صاحب کو شرف و عزت بھی حق سے زیادہ حاصل ہوگئی۔ ویسے بی ایس او کے مجموعی تاریخ کو دیکھیں تو یہ بآسانی کہا جاسکتا ہے بی ایس او میں سب سے آسان کام تنظیم کو توڑ کر چند دوستوں کے ساتھ نئی بی ایس او بنانا اور خود چیئرمین بن جانا ہے محترم ڈاکٹر صاحب نے بھی تو وہی دہرایا ایک چیز جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے محترم کا نعرہ آزادی اب جبکہ ہم ذرا تحقیق کریں کہ کیا وہ نعرہ ڈاکٹر صاحب کی تخلیق تھی، یا پہلی بار انہوں نے یہ نعرہ لگایا ؟ تو جواب یقیناً نفی میں آئیگا کیونکہ ڈاکٹر صاحب کے زبان پر وہ نعرہ کچھ اور دوستوں نے سجایا تو پھر باقی بچا صرف چند کونسلروں کے ساتھ بی ایس او توڑنا تو یہ ضرور ایک ہنر ہے لیکن اتنا بڑا کارنامہ نہیں کہ کسی کو راتوں رات آسمان پر بٹھایا جائے۔ ان سب باتوں کے علاوہ ذرا یہ بھی غور ہو کہ بی ایس او آزاد خود ہے کیا کہ اسکے بنانے والوں کو اتنا کریڈٹ دی جائے ؟ خیر ان سب کے باوجود میرا ڈاکٹر صاحب سے ہمیشہ یہ گلہ رہے گا کہ انہوں نے کوئی کام مکمل طور پر نہیں کیا اور ہر کام کے آسان اور پر شہرت والے حصے کو سرانجام دینے کے بعد اسے آدھے میں چھوڑ کر کسی اور چیز کے پیچھے پڑ گئے ، چلو جیسے تیسے بی ایس او آزاد بن گیا تو اسے آزادی جیسے بھاری نعرے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے اور اسی مناسبت سے ڈھالنے کے بجائے ڈاکٹر صاحب نے اسے پرانے بی ایس او کا تسلسل ہی رہنے دیا اور طلباء4 سیاست کو آدھے میں چھوڑ مسلح محاذ کی طرف چلے گئے ، مسلح محاذ جو غیر روایتی اور مبہم ساخت رکھتی تھی اس میں بھی محترم روایتی بلوچ سیاست کے جراثیم انجیکٹ کرکے پہلے لابینگ شروع کردی جو ہمیشہ سے بی ایس او کا طرہ امتیاز رہا ہے پھر اپنی لابی مضبوط کرکے ستار کتھری کو غدار قرار دیکر اچھی پوزیشن سنبھالنے میں کامیاب ہوئے بعد ازاں استاد واحد قمبر کے گرفتاری کے بعد بلا شرکتِ غیرے بی ایل ایف کے سپریم لیڈر آسانی سے بن گئے۔ اب تک مسلح محاذ پر انکے کارہائے نمایاں یہ رہے ہیں کہ پہلے ایک عام بلوچ کیا سرکار کو بھی پتہ نہیں تھا کہ مسلح محاذ پر برسرپیکار تنظیمیں ایک ہیں یا الگ الگ ڈاکٹر صاحب نے کمال مہارت کے ساتھ جیسے مکھن سے بال نکالا جاتا ہے اسی طرح بی ایل ایف کو ایک الگ مسلح تنظم اور باقی سب کو اڑیل گنوار قبائلی گروہ ثابت کرنے میں لگ گئے کیونکہ اگر بی ایل ایف الگ شناخت نا رکھتا تو محترم ڈاکٹر صاحب جدا شناخت کے کرشماتی لیڈر کیسے ثابت ہوتے۔ پھر بعد ازاں محترم ڈاکٹر صاحب کے دل میں دوبارہ سرفیس سیاست کے خواہش نے انگڑائی لی تو مسلح محاذ کو آدھا تیتر آدھا بیٹر بنانے کے بعد محترم لگاتار اور محنت طلب کوششوں کے بعد بی ایس او آزاد اور بی این ایم کو قابو کرنے میں کامیاب ہوئے یوں وہ فوراً بلواسطہ سرفیس لیڈر اور بلا واسطہ مسلح لیڈر بن گئے۔
محترم ڈاکٹر صاحب کو عالمی و علاقائی سطح پر جو شہرت نصیب ہوئی اسکے دو بنیادی وجوہات ہیں پہلی تو ہماری روایتی سیاست ہے کہ بی ایس او کا فرضِ اولین یہی ہوتا ہے کہ اپنے چیئرمین کو غیر مرئی اور ماورائی شخصیت ثابت کرے اور اپنی ہر بات اسکے توصیف و ثناء سے ہی شروع کرے یعنی تنظیم کا ہر کارکن اس لیڈر کا چلتا پھرتا اشتہار بن جاتا ہے ، ڈاکٹر صاحب کی خوش بختی یہی رہی کہ وہ ناصرف اپنے دور اقتدار بلکہ بعد میں بھی بی ایس او کے مفت اشتہار بازی سے بہرہ مند ہوئے ، اسکی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو آسمان پر بٹھاکر پھر بی ایس او خود کو اس سے جوڑ کر اپنی ضرورت پورا کرتا تھا اور ڈاکٹر صاحب بی ایس او کے شخصیت پرستی کے اس ضرورت کو انکے ہی ذریعے اپنے غائبانہ آشیرباد سے پورا کرکے اپنی ضرورت بھی پورا کررہا تھا یعنی دونوں ایک دوسرے کی ضروریات پورا کررہے تھے ، بی ایس او ڈاکٹر کی پہچان اور ڈاکٹر بی ایس او کی پہچان مطلب بی ایس او ڈاکٹر کو جتنا مشہور کریگی تو خود کو اسکے نسبت سے جوڑ کر خود بھی اتنا زیادہ مشہور ہوگا اور اور بی ایس او جتنا مشہور ہوگا ڈاکٹر اس سے جڑ کر اور زیادہ مشہور ہوگا اور اس گول گول چکر میں جو بھی مشہور ہوگا مشہور ڈاکٹر صاحب ہی ہوگا۔ ویسے بھی اس سرمایہ دارانہ دور میں \”پروڈکٹ \” سے زیاہ اہم \” ایڈورٹائزمنٹ \” ہوتا ہے ، دوسری بڑی وجہ یہ رہی کہ جب ڈاکٹر صاحب نے پہاڑوں کا رخ کیا تو اس وقت مسلح مزاحمت کو بلوچ سماج میں بہت پذیرائی حاصل ہوچکی تھی لیکن اس پذیرائی کے باوجود انکا کوئی چہرہ اور کوئی لیڈر عوام کے سامنے نہیں تھا ، مثال کے طور پر کافی سالوں تک کسی کے علم میں نہیں تھا کہ بی ایل اے کا لیڈر کون ہے ، کچھ یار لوگ پتہ نہیں حبِ علی یا بغض معاویہ میں آج تک یہی کہتے ہیں کہ بی ایل ایے کا کمانڈر بالاچ اور کبھی کبھی بابا مری تھا۔ لیکن زیرک سیاستدان ڈاکٹر اللہ نظر نے اس موقع کا خوب فائدہ اٹھایا۔ ایسے وقت میں جب عوام کی آنکھوں کو مسلح محاذ کے ایک چہرے کی تلاش تھی ڈاکٹر صاحب نے مسلح محاذ میں شامل ہوتے ہی کمانڈر کی صورت میں وہ کمی پورا کردیا اور ڈاکٹر صاحب کی بندوق بردار تصاویر کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک رکنے کا نام ہی نہیں لی رہی ، اس دوران ڈاکٹر صاحب نے عوام کے نگاہوں کی پیاس کبھی بندوق کے ساتھ ، کبھی نماز پڑھتے ہوئے ، کبھی اونٹ کی سواری کرتے ہوئے ، کبھی کبوتروں سے پیار کرتے ہوئے ، کبھی ٹائم میگزین پڑھتے ہوئے ، کبھی گہرے سوچ میں سگریٹ پیتے ہوئے اور کبھی کاو بوائے ہیٹ پہنتے ہوئے تصویروں سے بجھائی۔ یوں ڈاکٹر صاحب اپنے اس تصویری مہم سے ان سارے کمانڈروں اور جہد کاروں سے چند سالوں میں ہی بازی لے گئے جو کئی کئی سالوں بلکہ دہائیوں سے رازداری کا بھرم رکھتے ہوئے گمنامی سے جدوجہد کررہے تھے۔ اس دور میں لیڈر کے خالی جگہ کو تصویروں سے پر کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نا صرف بلوچ عوام بلکہ عالمی طور پر بھی پہچانے جانے لگے، اسکے بعد ڈاکٹر صاحب وہ سمندر بن گئے کے کسی کے بھی کام یا کامیابی کا چھوٹا دریا بہتے ہوئے اس کے ذات میں ہی گرنے لگا۔ یہاں تک بھی کسی نے اعتراض نہیں کیا ، سب یہی سوچتے رہے کہ پڑھا لکھا بندہ ہے اچھا ہے آگے رہے دنیا اسے جانے ہاں اس دوران سگارِ بلوچ امیر بخش لانگو نے اس عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جنگی اصولوں کی منافی ہے اور شہید ڈاکٹر خالد نے بھی محترم کے بارے میں یہ رائے پیش کیا تھا کہ یہ ایک دن ہمیں کنویں میں ایسے دھکیلے گا کہ پھر کوئی نکال نہیں سکے گا۔ خیر آج کل کے سمارٹ فون کے دور میں اب تو تصویریں کھینچ کر ویڈیو بناکر سوشل میڈیا میں پھیلانا ہمارے گوریلاوں کو پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے ، تصویروں اور اشتہار بازی سے متاثر ہوکر بھاری بندوق کندھوں پر سجانے والے اگر یہی عمل خود نہیں دہرائیں گے تو اور کیا کریں گے ، کچھ دن پہلے ایک ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا جس میں چہار یار سرمچار اپنا ویڈیو بناتے ہوئے بار بار ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ \” میرا بناو میرا بناو \” ، لیکن ہمارے نڈر اور جانباز سرمچاروں کو سمجھنا چاہئے جس \” پروڈکٹ \” کا \” اشتہار \” جتنا پہلے اور جتنا زیادہ آئے گا \” مارکیٹ \” میں بازی وہی لیجاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں انکا جگہ لینا آسان نہیں ہوگا۔ ہوسکتا ہے میرا لہجہ آپ کو طنزیہ لگے لیکن حقیقت پسندی سے جانچو تو ہمارا تحریک ہی طنزیہ بن چکا ہے۔
ڈاکٹر اللہ نظر صاحب کی شخصیت ایک پر تضاد شخصیت ہے سرفیس سیاست کے دوران مسلح محاذ کی تعریف و ثناء کرکے اسکی جانب کھینچے چلے گئے اور مسلح محاذ پر سرفیس سیاست کے سحر کے اسیر ہوکر انکو اپنی جانب کھینچ لائے ، اداروں کی بات کرتے ہیں لیکن اپنے ادارے کے جداگانہ شناخت اور قیام کا جواز ابھی تک نہیں دے سکے ، بی ایس او میں تھے تو اسکے آزاد حیثیت کیلئے جان تک قربان کرنے کو کہتے تھے لیکن جب بی ایس او سے نکلے تو سب سے پہلے خود ہی اسکے آزادی کو سلب کرنے کی کوششوں میں لگ گئے ، اداروں میں مداخلت کے خلاف ہیں لیکن ڈاکٹر امداد و منان کو خاص طور پر ہدایات دیکر بی این ایم کے کونسل سیشن میں بھیجتے ہیں ، بندوق کو سیاست کا تابع کرنے کا داعی ہیں لیکن عصا ظفر کو بندوق کی دھمکی دیکر سیاست پر قبضہ کرتے ہیں ، پاکستانی پارلمینٹ پر وہ لعنت بھیجتے ہیں لیکن اس پارلیمنٹ میں بیٹھے اختر مینگل سے ملاقات کرنے میں کوئی قباحت نہیں ، بی این ایل ایف نے بی ایل ایف کو توڑ کر الگ ہوگئی اس لئے وہ چور اور ڈاکو ہیں لیکن بی ایل اے کو توڑ کر بننے والی یو بی اے انقلابی تنظیم ہے اور انکے کیمپ میں اپنے ساتھیوں کو بٹھانا اور ان سے مڈی لینا عین انقلابی عمل ہے ، ایک دن کہتے ہیں کہ سنگت حیربیار قومی تحریک کیلئے نقصاندہ ہے لیکن اس سے کچھ دن پہلے کہتے ہیں کہ ہمارے بیچ کوئی اختلاف نہیں بلکہ ہم کئی محاذوں پر مشترکہ کام کرتے ہیں کوئی پوچھے کہ قومی تحریک کیلئے ایک نقصاندہ شخص کے ساتھ آپ نے آخر کیوں کام کیا ، سوشل میڈیا پر بیٹھے سب پاکستانی ایجنٹ ہیں اور تمام کارکنوں پر پابندی ہے کہ وہ سوشل میڈیا استعمال نہیں کریں لیکن کچھ فیک آئی ڈیز سے وہی باتیں ہوتی ہیں جو اکیلے میں سنگت حیربیار اور ڈاکٹر کے بیچ میں ہوئی تھی۔ سرداروں اور نوابوں سے نفرت کرتے ہیں لیکن نواب براہمداغ ، نواب مہران اور سردار بختیار ڈومکی کے ساتھ ہاتھوں کی زنجیر بناکر ان کو اپنے حمایت کا یقین دلانا عین انقلابی عمل ہے ، کہتے ہیں کہ ہم سوشلسٹ ہیں اس لئے امریکہ و یورپ سامراج لیکن سامراج ملکوں میں اپنے نمائندے بھیج کر مدد کی منت زاری اشتراکیت کا طرہ ہے ، ہر منشیات فروش کو قتل کردو سوائے اسکے جو ٹیکس دیتا ہے ، منشیات بیچنا سب کیلئے ممنوع ہے سوائے ہمارے ، کسی ٹھیکیدار کو کام کی اجازت نہیں سوائے اسکے جو بھتہ دے ، غدار کی سزا عبرت ناک موت ہے سوائے میرے اور اخترندیم کے رشتہ داروں کے ، بلوچ قومی جنگ لڑرہا ہے لیکن مکران میں کوئی بھی اور مسلح تنظیم قابلِ برداشت نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی پرتضاد شخصیت اور ان تضاد بیانیوں کا سلسلہ اتنا طویل ہے کہ ان پر کئی مضامین لکھے جاسکتے ہیں لیکن یہاں موضوعِ بحث محترم ڈاکٹر اللہ نظر صاحب کے حال میں آئے دو پرتضاد بیانات ہیں جن میں سے ایک انہوں نے اپنے نام سے دیا ہے اور دوسرا گہرام بلوچ بی ایل ایف ترجمان کے نام سے۔
اپنے نام سے دیئے ڈاکٹر اللہ نظر کا بیان صفائی دینا ہے یا صفائی مانگنا مجھے بالکل سمجھ نہیں آیا ، لیکن اتنا مجھے ضرور سمجھ آیا کہ بیان کا متن بلاواسطہ خان قلات کی تذلیل اور بلواسطہ سنگت حیربیار کو متنازعہ کرنے کے گرد گھومتا ہے ، اس بیان کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب ذہنی طور پر ایک کشمکش کا شکار ہیں ایک طرف بیان دینے کا مقصد یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈاکٹر صاحب اختر مینگل سے اپنے ملاقات کی تردید کررہے ہیں لیکن ایک ہی سانس میں ڈاکٹر صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر میں اختر مینگل سے ملوں تو اس میں کوئی خرابی نہیں لیکن پوچھا جائے کہ اگر اختر مینگل سے ملنے میں کوئی خرابی نہیں تو پھر اسکے تردید کیلئے آپ کو اتنا لمبا چوڑا بیان دینے کی کیا ضرورت ؟ ، اگر خان قلات یہ کہتا کہ ڈاکٹر اللہ نظر نے خفیہ طور پر براہمداغ بگٹی سے ملاقات کی ہے (جس میں یقیناً کوئی خرابی نہیں) تو کیا پھر بھی آپ تردیدی بیان دیتے ؟ آپ نہیں دیتے کیونکہ براہمداغ سے ملنے میں کوئی خرابی نہیں اسی طرح آپ کے فلسفے کے رو سے اخترمینگل سے ملنے میں بھی کوئی خرابی نہیں پھر یہ تردیدی بیان کیوں ؟ ڈاکٹر صاحب کا یہ جملہ دراصل مکمل سیاسی ہے ، یعنی آج میں ان سے اپنے ملاقات کو جھٹلاوں گا اور اگر کل یہ بات ثبوت سمیت سامنے آگیا تو کہہ دوں گا کہ میں نے تو کہا تھا کہ ان سے ملاقات کرنے میں کوئی خرابی نہیں اور اس پر بھی مستزادیہ یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے کمال مہارت سے ملاقات کیلئے لفظ \” بحیثیتِ بلوچ \” بھی استعمال کیا ہے یعنی کل کو کہہ دوں گا کہ میں نے بحیثیت بلوچ ملاقات کی ہے بحیثیت لیڈر بی ایل ایف نہیں۔ ویسے میری ناقص رائے میں ایک سیاسی لیڈر کسی سے بھی ملاقات کرے چاہے وہ پاکستانی فوج کا کوئی جنرل ہی کیوں نا ہو اس میں کوئی قباحت نہیں ، مسئلہ صرف ڈیلنگ کا ہے مسئلہ یہ ہے کہ ملاقات کا ایجنڈا کیا ہے ، اگر آپ اختر مینگل سے اس لیئے ملاقات کررہے ہیں کہ آپ اسے قومی آزادی کے راستے پر آنے کی دعوت دیرہے ہیں تو آپ کا سب سے بڑا حمایتی میں ہوں لیکن ملاقات کا مقصد صرف اسے پارلیمنٹ کیلئے گرین سگنل دینا ہے ( جیسا کہ اختر مینگل خود کہتے ہوئے نظر آئے ہیں کہ مجھے سب نے پارلیمنٹ کیلئے گرین سگنل دے دیا ہے بس یہ حیربیار ہٹ دھرم ہے ) تو پھر آپ پر اعتراض ہے۔ میں خان قلات کو نا جانتا ہوں اور نا ہی اسے ایک لیڈر تسلیم کرتا ہوں اور نا ہی میں نے آج تک یہ دیکھا یا سنا ہے کہ خان قلات نے لیڈری کا دعویٰ کیا ہو لیکن اتنا ضرور مانتا ہوں کہ وہ ایک عام کارکن کی حیثیت سے تحریک آزادی کیلئے کچھ نا کچھ ضرور کررہے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب اپنے بیان میں کچھ باتیں ایسی کی ہیں جو مکمل طور پر ڈاکٹر صاحب کے روایتی سوچ کا عکاس ہیں یعنی ایک جگہ ڈاکٹر صاحب خان قلات کو طعنہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انکا دادا جنرل موسیٰ کا منشی تھا ، میں اس بات پر حیران ہوں کہ ایک جہد کار یا تحریک کے ایک ادنیٰ کارکن کے کردار کے تعین میں اسکے دادا کا کیا کام ، اگر دادا کے حیثیت سے ایک جہدکار کے کردار کا فیصلہ ہو تو پھر کوہی خان مینگل کا دادا شہید لونگ خان تھے اور ڈاکٹر صاحب میں پھر اتنا پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کے صد احترام داد کیا کرتے تھے ؟ یہ اصل میں ہمارے روایتی سوچ کا عکاس ہے کہ کسی بچے سے کچھ ہوجائے تو ہم فوراً کہہ دیتے ہیں کہ \” ہاں یہ فلانی کا پوتا یہ بیٹا ہے اسکا باپ یا دادا ایسا تھا یہ بڑا آیا ہے \”۔ ایک طعنہ ڈاکٹر صاحب جرگہ کا بھی لگاتے ہیں کہ اس میں نواب رئیسانی ، نواب شاہوانی ، نواب مگسی وغیرہ کیوں شامل تھے ڈاکٹر صاحب کو شاید یاد نہیں اسی جرگے میں بی ایس او آزاد کے چیئرمین بشیر زیب اور بی این ایم کے غلام محمد بھی شامل تھے۔ ویسے جرگے سے مجھے شروع سے ہی امید نہیں تھا اور نا ہی اس طرح کے کسی جرگے سے مجھے امید کبھی ہوگا لیکن اتنا تو ماننا چاہئے کہ اس جرگے میں پاکستان کے حق میں نہیں بلکہ بلوچستان کے آزادی کے بارے میں بات ہوئی اور دوسری بات جرگے کے باقی نواب و سردار سرکاری مراعات لیکر قابض کے ہوگئے لیکن کم از کم خان قلات ابھی تک اپنے موقف پر کھڑا تو ہے ، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ باقیوں کے کردار سے خان کا کردار کیسے ثابت کی جاسکتی ہے یہ تو ایسا ہے کہ میں ڈاکٹر صاحب کو کہوں کہ مقبول شمبے زئی بھی بی ایل ایف کا کمانڈر تھا وہ پاکستان کے ساتھ مل گیا اب آپ کیسے آزادی کی بات کرسکتے ہو، اس کمانڈ کونسل میں اخترمینگل بھی شریک تھے جس کے شرکت پر ڈاکٹر اللہ نظر خان قلات کو نشانہ تضحیک بناتے ہیں لیکن اپنے اسی بیان میں کہتے ہیں کہ اگر میں اس سے ملوں تو کوئی خرابی نہیں ، یقین مائنے اتنا کنفیوز بیان میں نے آج تک نہیں پڑھا۔ ڈاکٹر صاحب آگے خان قلات کو خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ \”سلیمان داؤد یاد رکھیں کہ بلوچوں کی تاریخ میں عام بلوچ سے زیاہ شہزادے اور امیر زادے اپنے قول سے پھرے ہیں اور اپنے دوستوں کو دغا دی ہے \” ڈاکٹر صاحب ایک طرف آپ کا یہ کہنا پھر نواب براہمداغ ، نواب مہران ، سردار ڈومکی حتیٰ کے سردار مینگل سے انتہائی قریبی تعلقات اور ظاہر و پوشیدہ اتحاد تو کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں ، بات یہاں سردار و نواب کی نہیں بلکہ آپ کے پسند و ناپسند کی ہے ، ویسے سوچا جائے کہ یہ سردار و نواب کہاں سے آئے انکا کہیں سے آغاز تو ہوا ہوگا ، شروع میں تو سب عام بلوچ ہوا کریں گے لیکن اتنا کہا جاسکتا ہے کہ ہمارا موجودہ تصور ان کے بارے میں نوابوں اور سرداروں کے ان رویوں سے بنا جس میں وہ خود کو صحیح ، اعلیٰ ، غلطیوں سے پاک اور ہر چیز کا مالک اور پسند و ناپسند کے بنیاد پر فیصلے کرنے والا ہوا ڈاکٹر صاحب یہی تمام صفات مجھے آپ میں دیکھ رہی ہیں ، پھر میں یہ کہوں گا کہ آپ کے شکل میں بلوچ قوم کو ایک نیا سردار نصیب ہوا ہے ، شاید سیاسی سردار کہنا مناسب ہوگا۔ اس وقت میں سردار کو ایک شخصیت کے بجائے ایک ذہنیت کہوں تو غلط نہیں ہوگا ، اگر کوئی کسی سردار کے گھر میں پیدا ہونے کے باوجود اس ذہنیت سے چھٹکارہ حاصل کرے تو عام بلوچ بن سکتا ہے لیکن میہی کے گدان میں پیدا ہونے والا بھی اس ذہنیت کا شکار ہوجائے تو وہ سردار ہی کہلائے گا۔ ڈاکٹر صاحب آگے بلوچستان کے کٹھ پتلی اسمبلی سے خان کو واپس بلانے کے قرار داد کو خان کی ہی کارستانی گردان کر اپنا قیمت بڑھانا کہتے ہیں ، یہ بھی کہتے ہیں کہ خان کا آزادی پسندوں میں آنے کا مقصد انکو لڑانا ہے ، یعنی وہ سرکار کا بندہ ہے ، اور یہاں تک کہتے ہیں کہ \” ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ بلوچ قومی رہنماؤں کو راستے سے ہٹانے، دوریاں اور بدگمانیاں پیدا کرنے کیلئے کس طرح سے اور کیسے سازشیں بْن رہے ہو\” ، ان باتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب خان قلات کو پاکستان کا ایک ایسا ایجنٹ قرار دے رہے ہیں جو بلوچوں میں پھوٹ ڈالنے ، لیڈروں کو قتل کرنے کیلئے آئے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے ان کلمات سے نا صرف انکی ذہنیت بلکہ پوری بی ایل ایف کی پالیسیاں بھی صاف عیاں ہوگئی ہیں ، یعنی جب خان قلات نے ڈاکٹر کے بارے میں صرف اتنا کہا کہ \” انہوں نے اختر مینگل سے ملاقات کیوں کی ہے \” تو پھر ڈاکٹر صاحب اتنے بپھر گئے کہ انہوں بلا ثبوت و بلا گواہ پاکستان کا ایجنٹ کہہ ڈالا ، جو الزامات ڈاکٹر صاحب لگارہے ہیں وہ ہرگز معمولی نہیں ہیں ، اگر یہ الزامات ثابت ہوں تو پھر انکا سزا صرف موت ہے ، ڈاکٹر صاحب اس حد تک کے سنگین الزامات اخباروں میں کھلے عام لگاتے ہیں اور اس سلسلے میں ایک ادنیٰ سا ثبوت بھی پیش نہیں کرسکتے۔ اب ذرا سوچیں کہ ڈاکٹر اور بی ایل ایف کا کسی کو غدار قرار دینے کا معیار کیا ہے ؟ خان قلات کو صرف ایک مخالف بیان دینے پر غدار قرار دیا جاسکتا ہے تو پھر مکران میں رہنے والے ایک عام غریب بلوچ کو تو پھر سانس لینے پر بھی غدار قرار دیا جاسکتا ہے ، بی ایل ایف کے سربراہ کا کسی کو غدار قرار دینے کا معیار یہ ہے تو مکران میں آج تک جتنے بلوچوں کو غدار قرار دیکر مارا گیا ہے کیا ان کے غدار ہونے پر ہم بھروسہ کرسکتے ہیں؟ ، خان قلات کی بلوچ قومی تحریک میں ایک ادنیٰ حیثیت ہے لیکن ایک قومی لیڈر ان پر بھروسہ کرتا ہے انکو اپنے ساتھ عالمی فورموں پر بھی لیجاتا ہے ، ایک ایسا شخص جس پر ایک قومی رہنما اس حد تک بھروسہ کرتا ہے کہ اسے عالمی فورموں تک پر اپنے ساتھ لیجاتا ہے اسے بی ایل ایف کے سپریم لیڈر بغیر ثبوت کے غدار ، ایجنٹ بلکہ قابلِ قتل حد تک غدار ایجنٹ قرار دے سکتا ہے پھر وہی بی ایل ایف کے سربراہ ایک عام بلوچ کو معمولی اختلافات پر کیا کیا القابات سے نواز کر قتل کرتا ہوگا آپ خود ہی اندازہ لگالیں ، مجھے یقین ہے جب بھی بلوچ قومی تحریک مضبوط ہوگی ہمیں ضرور یہ ضرورت پڑیگی کہ ہم مکران میں ان سب قتلوں کا تحقیقات کریں ، کیونکہ اس وقت ڈاکٹر صاحب کے معیار پر پرکھ کر مجھ جیسے ادنی سیاسی کارکن کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی وہ سب گنہگار تھے یا وہ ڈاکٹر صاحب کے ذاتی ناپسندیدگی کا شکار ہوئے ؟ تو انکے اپنے خاندان والوں کے خدشات کیا ہونگے۔ اس کے علاوہ یہ سوچیں کہ اسی بی ایل ایف کے کمانڈ نے سیاسی اختلافات کے بنیاد پر ایک قومی لیڈر سنگت حیربیار کو قومی تحریک کیلئے نقصان قرار دیا تھا اب اسی کمانڈ نے پتہ نہیں اور کتنے عام بلوچوں کو قومی تحریک کیلئے نقصاندہ قرار دیکر مارا ہوگا اور انکا نقصان قرار دینے کامعیار کیا ہوگا ہم بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔ اسکے علاوہ اس پورے بیان میں ڈاکٹر صاحب طنزیہ طور پر سنگت حربیار کو بھی نشانہ بناتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں \” لندن کے خوبصورت محلات میں رہ کر محکوم و مظلوم بلوچوں کی جنگ آزادی سے مذاق کرنے والے لوگوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کریگی \” مجھے ابتک یہ سمجھ نہیں آتا کہ عالمی طور پر بلوچ قومی مسئلے کو اجاگر کرنے پر سب یقین کرتے ہیں ، عالمی فورموں پر اس پر بات کرنے کے اہمیت پر سب زور دیتے ہیں ، اس کی اہمیت سے بھی سب واقف ہے ، حتیٰ کے اپنے نمائندے بھی بھیجتے ہیں لیکن جب یہی کام سنگت حیربیار کرتے ہیں تو پھر انکو القابات سے کیوں نوازا جاتا ہے ؟ مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ ایک غلام سماج میں ملک کے اندر رہنے اور باہر رہنے کا تصور کیا ہے اور ہم تحریک کے فائدہ کا اندازہ صرف ملک میں رہنے اور باہر جانے سے لگاتے ہیں یا پھر کام سے ؟ میں ملک میں رہنے والے کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جن کے کام صفر ہیں اور باہر رہنے والے کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے وہ خدمات سرانجام دی ہیں جب وہ منظر عام پر آئیں گے تو ہم سب انکی کامیابیوں کا باپ بننے کی کوشش کریں گے ، پھر یہ اندر باہر کا چکر کیا ہے ؟ ڈاکٹر صاحب خود 2007 تک ملک سے باہر رہے تھے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف پوائینٹ اسکورنگ ہے ، خود کو برتر ثابت کرنے کا ، اور لوگوں کو جذباتی کرنے کے ، دوسرے کے کردار کو مشکوک بنانے کا کوشش ہے، یہ سب بھڑک بازی ہے ڈاکٹر صاحب نے ایک بار کہا تھا کہ میں جب تک زندہ ہوں میں باہر نہیں جاوں گا ، ڈاکٹر صاحب اگر قوم کو آپ کی ضرورت اندر سے زیادہ باہر ہوگئی تو پھر آپ اپنے اس قول پر رکے رہیں گے یا پھر قومی مفادات کو دیکھیں گے؟ کچھ نہیں یہ صرف بھڑک بازی ہے کہ میں ادھر بیٹھا ہوں تو اندر والا بہتر ہے ، یہی ڈاکٹر باہر جائیں پھر دیکھئے گا ، ویسے ایک
گستاخی کرنا چاہتا ہوں ، ذرا سوچیں ڈاکٹر صاحب کے شہرت کو نکالیں تو انہوں نے اور کِیا کیا ہے ؟
ڈاکٹر صاحب اپنا دوسرا بیان گہرام بلوچ کے نام سے دیتے ہوئے کہتے ہیں \” یو بی اے اور بی ایل اے کے مسئلے بابت بی ایل ایف 2011 سے مصالحت کی کوشش کرتی آئی ہے \” یہ پاکستانی طرز کا مذمتی و مصالحانہ بیان مکمل طور پر سفید جھوٹ ہے ، یہ ان قومی مسائل میں مجرمانہ حد تک ملوث ہونے کے بعد خود کو ایک اخباری بیان میں بری الذمہ کرنے کی کوشش ہے ، آج بی ایل ایف خود کو جس طرح سے آب زم زم سے دھلا ثابت کرنا چاہتا ہے ایسا ہرگز نہیں ہے ، آج حالات جس حد تک تصادم کی طرف جارہے ہیں اس کا ذمہ دار جتنا یوبی اے ہے اتنا ہی بی ایل ایف ہے ، کیونکہ اس پورے دوران بی ایل ایف ہر طرح سے یو بی اے کی ہر رد انقلابی عمل کو مکمل سپورٹ کرتا رہا ہے۔ جہاں تک مصالحت کا کردار ہے تو مصالحت ایک غیر جانبدار شخص کرتا ہے ایک فریق نہیں ، بی ایل ایف اس مسئلے میں خود ایک فریق بن گئی جیسا کہ بشیر زیب اپنے آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ جب یہ تمام مسائل ڈاکٹر اللہ نظر کے سامنے رکھے گئے اور اسے غیر جانبداری سے ایک کردار ادا کرنے کا کہا گیا تو بجائے اسکے کے وہ غیر جانبداری سے کام لیتے کچھ دن بعد انہوں نے اسپلنجی میں اپنے اور یو بی اے کے کیمپ ہی ایک کردیئے۔جس 2011 سے ڈاکٹر صاحب مصالحت کا بیان دے رہے ہیں اسی 2011 میں سنگت حیربیار کی طرف سے انہیں کہا گیا تھا کہ وہ مہران کے مسئلے کہ اوپر غیر جانبداری سے تحقیقات کریں اور وہ فیصلہ کریں ، جو بھی فیصلہ ہوگا اسے وہ قبول کریں گے لیکن ڈاکٹر صاحب نے انکار کردیا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قصور وار مہران ہے اور وہ مہران کو غلط کہنے کی پوزیشن میں خود کو نہیں سمجھتے تھے ، آج اتنے مسائل کے بعد بھی ڈاکٹر اللہ نظر اور بی ایل ایف کا کردار انتہائی مایوس کن ہے ، یہ مسائل جن کی نشاندہی وقتاً فوقتاً ہوتی رہی ہے لیکن کسی نے کان نہیں دھرا بلکہ سب اپنے ذاتی و گروہی مفادات کے بجاآوری میں لگے رہے۔ آج جب یہ مسائل بگڑتے بگڑتے اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ تصادم بھی ہوسکتی ہے اس پر بھی ایک روایتی بیان جیسے دو بھائیوں میں جھگڑا ہوتا ہے تو کہتے ہیں بس سب کچھ بھول جاو اور گلے مل کر شیر وشکر ہوجاو ، یہ ایک قومی مسئلہ ہے ، ان مسائل کے بنیاد ہیں ، آج جہدکار آمنے سامنے ہیں ، میں اتنا کہتا ہوں کہ مراد ناڑی ضرور غلط ہے لیکن اسکے ساتھ ایسے کئی لوگ ہونگے جو مخلص ہیں یا پھر انہیں ان مسائل کا پتہ بھی نہیں بس نوابی کو دیکھ کر اس جانب ہوگئے ، مطلب کوئی تصادم ہوا تو دونوں طرف سے جہدکار ہی مریں گے ، اسکا مطلب انتہائی خراب حالات ہیں ، اب آپ ایک قومی جنگ اور انقلاب کی بات کرتے ہیں لیکن آپ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ حالات کو یہاں تک پہنچانے والوں کا احتساب ہو ، انہیں سزا ملے ، یہاں بھی مصالحت چاہتے ہیں ، ظاہر ہے کوئی نا کوئی تو ذمہ دار ہوگا یہاں تک حالات پہنچانے کا، آپ کیسے کہہ سکتے ہیں اس ذمہ دار کو نظر انداز کردیں ؟ میں کہتا ہوں کہ ذمہ دار اگر سنگت حیربیار ہے تو اسے بھی نہیں بخشا جائے لیکن یہ کیسا موقف کے سب بھول جاو ، سنگت حیربیار تو آپ سب کو دعوت دے کر کہہ چکا ہے کہ آو احتساب کرو جو غلط ہے اسے قرار واقعی سزا دو ، لیکن پہلے ان مسائل پر مجرمانہ خاموشی اور غیر جانبداری کے بجائے غلط کی حمایت اب جب حالات کو ہاتھوں سے جاتے دیکھ رہے ہیں تو ایک اخباری بیان کے ذریعے گنگا نہا رہے ہیں ، اس کردار سے نا صرف ڈاکٹر اللہ نظر بلکہ بی ایل ایف کے ہائی کمانڈ کا موقع پرستانہ سوچ ظاہر ہوتی ہے۔
انقلاب ، آزادی ، جدوجہد ، مزاحمت یہ ایسی چیزیں ہیں انکے ساتھ موقع پرستی ، تضاد بیانی ، مفاد پرستی ، جھوٹ ، فریب کچھ عرصے کیلئے چمٹ تو
سکتی ہیں لیکن زیادہ دیر تک رہ نہیں سکتے ، اس لئے جیسے جیسے وقت گذرتا جائے گا ایسے لوگ اور ایسے کردار ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہونگے ، یہ دنیا میں ہر وقت اور ہر جگہ ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا ، یہ تتقیری عمل ہے ، دنیا میں جن قوموں نے ان منفی عوامل یا شخصیات کی جلدی پہچان کرلی تو انہوں نے کامیابی پالی اور جو ان منفی کرداروں کو تقدس ، احترام اور روایت کے چادر میں ڈھانپ کر اپنے بغلوں میں گھماتے رہے اور ان سے چھٹکارہ حاصل نہیں کیا پھر وہ قومیں عبرت کا نشان بن گئی۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0