ڈیرہ بگٹی شادی کے باراتیوں پرپاکستانی فورسز کا حملہ ایک بلوچ فرزند شہید۔بی آرپی

اتوار 14 دسمبر, 2014

(ہمگام نیوز)
بلوچ ری پبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیرمحمد بگٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں ریاستی مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ان میں آئے روز تیزی لائی جارہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اتوار کے روز قابض پاکستانی فورسز نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے زین کوہ میں بمقام ٹوبہ کنڈغ میں ایک شادی کیلئے جانے والی باراتیوں پر حملہ کرکے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کی زد میں آکر ایک معصوم بلوچ فرزند فیض محمد ولد پیردھان شہید ہوگیا جبکہ دو دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ قابض فورسز نے فائرنگ کے بعد چھ بے گناہ بلوچ نوجوانوں کو اغواء کرکے لاپتہ کردیا جن کی شناخت علی نواز بگٹی ولد پیری بگٹی ، یونس بگٹی ولد پیارا بگٹی ، شیر باز بگٹی ولد شاہ نواز بگٹی، بیورغ بگٹی ولد سانولا بگٹی، بھُٹا بگٹی ولد علی نواز بگٹی اور شاہ جمال بگٹی کے نام سے ہوئی ہے۔ دہشت گرد ریاستی فورسز نے ایک ہی پل میں خوشی کے ماحول میں ماتم میں تبدیل کردیا اور ہنستے ہوئے معصوم بلوچ خواتین اور بچوں کو ایک ہی جھٹکے میں بیوا اور یتیم کردیا۔ اسی طرح سوئی کے گردو نواح میں بھی پاکستانی فورسز کی جارحیت بدستور جاری ہے۔ بلوچ آبادیوں پر حملہ آور ہوکر ریاستی دہشت گرد فورسز بلوچ چادر و چار دیواری کی تقدس کو پامال کرتے ہوئے بے گناہ بلوچ خواتین اور بچوں کو ہراساں کررہی ہیں اور گھروں سے قیمتی اشیاء لوٹنے کے بعد گھروں کو آگ لگا کر نیست و نابود کررہی ہیں۔ یہی صورتحال بلوچستان کے ہرکونے اور گلی کوچے میں بھی ہے جہاں کوئی ایک بھی بلوچ خاندان ریاستی بربریت سے مبرا نہیں ہے۔ انسانی حقوق کی دل دھلادینے والی پامالیاں اپنی بلندیوں کو چھو رہی ہیں لیکن انسانی حقوق کے المبرداروں اور عالمی برادری کی کانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہی ہے جو ان کے تمام تر انسانی حقوق کے دعووں پر سوالیہ نشان بن رہی ہیں۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن ، اغواء نما گرفتاریاں ، مسخ شدہ لاشوں، عورتوں اور بچیوں پر تیزاب حملے ، انکی تعلیمی اداروں کی بندش اور ان کی اغواء پراگر بین الاقوامی میڈیا نے آواز بلند نہیں کیا اور عالمی اداروں نے بلوچستان میں پیدا ہونے والی انسانی المیے کے حل کیلئے کردار ادا نہیں کیا تو پاکستانی ریاست اور اس کی دہشت گرد فورسز بلوچستان میں بنگلادیش کی مظالم کو نہ صرف دہرارہی ہیں بلکہ اس سے کئی گنازیادہ بڑھارہی ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0