ڈیرہ بگٹی میں بلوچ خواتین کو تشدد بعد اغواء کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے۔ بی آر ایس او

جمعہ 14 نومبر, 2014

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ ری پبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مر کزی ترجمان نے اپنے ایک اخباری بیان میں ریاست کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں بلوچ خواتین کواغواء کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے ۔ خواتین پر حملہ اور تشدد کے بعد اغواء ریاست کی بزدلی کو ظاہر کرتی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ ریاستی فورسز نے ڈیرہ بگٹی سے تین بلوچ عورتوں کو انکی چار بیٹیوں اور ایک بیٹے سمیت اغواء کیا ہے جن میں مسز رخیا بگٹی جبکہ مسز ساول بگٹی کو ان کی دو بیٹیوں اور مسز جلمب بگٹی کو انکی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سمیت اغواء کیا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ افغانستان سے منسلک سر حدی علاقے سپین بولدک میں بگٹی مہاجرین پر حملے کی شدید مذمت کر تے ہیں ۔ ڈیرہ بگٹی میں شہیدِ وطن نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد لاکھوں کی تعداد میں بگٹی بلوچوں نے فوجی آپریشن اور حالات کی خرابی کی وجہ سے اپنی جانیں بچانے کے لیے ڈیرہ بگٹی سے ہجرت کر کے افغانستان، سندھ، پنجاب اور دیگر علاقوں میں رہائش اختیار کیں لیکن پاکستانی خفیہ اداروں نے انکا ہر جگہ پیچا کیا ۔ اس سے پہلے بھی کئی دفعہ افغانستان میں بگٹی مہاجرین کے کیمپ پر حملے کیے جا چکے ہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ اس طرح کی واقعات کا رونما ہونا انسانی حقوق کے اداروں کی وجود پر سوالیہ نشان ہے جو صرف زبانی جملہ خرچ تک محدود ہیں جبکہ انسانیت کی بقاء کے لیے انہیں عملی و فوری طورپر اقدامات اُٹھانے کی اشد ضرورت ہے ۔بی آر ایس او کے ترجمانے بین القوامی انسانی حقوق کے اداروں سمیت مہذب دنیا سے اپیل کی کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر ایسے واقعات کو روکنے میں اپنا انسانی فرض ادا کریں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0