ڈیرہ غازی خان اور اسکی سسکیاں۔ تحریر: میران میروؔ

جمعرات 16 اکتوبر, 2014

ڈیرہ 1474کو ایک ریاست بنی۔جسکے خان غازی خان میرانی بلوچ تھے۔حاجی خان کے چار بیٹے(غازی خان،اسماعیل خان،چھٹہ خان،ھیبت خان )اور ایک بیٹی(بنو) تھی۔غازی نے اپنے بڑھاپے میں یہ ریاست اپنی اولاد میں بالترتیب یوں تقسیم کی ۔غازی خان کو ڈیرہ غازی،اسماعیل کو ڈیر ہ ا سماعیل،چھٹہ خان کو کوٹ چھٹہ،ھیبت خان کو کوٹ ھیبت اور بنو کو بنوں دے دی(انگریزیوں نے توڑو اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت ڈیرہ اسماعیل اوربنو(بنوں) کو خیبرپختونخواہ میں شامل کر دیا۔اس سلطنت کے باسی سب کے سب بلوچ ہیںجوبالترتیب(لیغاری،کھوسغ،گورشانی،مزاری،دریشک،لنڈ،ہوت،رند،لاشاری،قیصرانی،بزدار،چانڈیہ،گاڈی،ملغانی،نتکانی،کلانچی(کلاچی) مستوئی،گوپانگ،گبول،کورائی،جتوئی،کپچانی،کھتران) وغیرہ۔یہ ریاست قلات کے انڈر تھا۔میر نصیر خان نوری کے دور میں ڈیرہ جات کی تین ھزار نفری شاہی فوج میں تھے۔بلوچ فوج میر نصیر خان نوری کے دور میں یہاں سے گزر کر پنجاب پہ حملہ ٓاور ہوا۔اس سلطنت پہ انگریزیوں اور سکھوں نے قبضہ کرنی کی کوشش کی مگر ناکام ہوئے۔اس ریاست کے قریب دریائے سندھ کے اس طرف ایک اور چھوٹی بلوچ ریاست تھی جسکے نواب بکھرخان کپچانی بلوچ تھے ۔یہ ریاست آجکل بکھر نام سی مشہور ہے۔یہاں کے باسی بھی بلوچ تھے جو بالترتیب (جتوئی،گرمانی،لیغاری،کپچانی،گبول،گاڈی،گوپانگ) وغیرہ تھے۔ریاست بکھر،کوٹ ہیبت،کوٹ چھٹہ ڈیرہ ڈویژن آتے ہیں۔یہ سب ریاستیں1952 تک بلوچستان میں تھے۔ان ریاستوں کو توڑنے کا مقصد بلوچ کی طاقت کو کمزور اور ان پہ حکومت کرنا تھا اس میں انگریز اور پاکستان دونوں کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔اس میں صرف انگریز اور پاکستان نہیں بلکہ انگریزوں کے بگھی کھینچنے والے سردار بھی برابر شریک ہیں۔1952 میں 7 بلوچ سردار جن میں لیغاری،بزدار،قیصرانی،گورشانی،مزاری،کھوسغ،لنڈ نے ڈیرہ غازیخان کو عوام کی رائے کے بغیر بلوچستان سے کاٹ کر علاقہ غیر کے نام سے نوازا۔مغل بادشاہ اکبر اپنی کتاب میں لکھتا ہے سکھر تا بکھر بلوچستان اور فردوسی نے اپنی کتاب شاھنامہ فردوسی میں لکھا ہے کرمان سکھر تا بکھر بلوچستان۔ایک دفعہ میرنصیرخان نوری سے افغان بادشاہ نے پوچھا کہ بلوچستان کہاں تک ھے تو میر نے جواب دیا جہاں جہاں بلوچ آباد ہیں وہ بلوچستان ہے۔
محل وقوع
محل وقوع کے اعتبار سے یہ ریاست مقبوضہ بلوچستان کے مشرق میں واقع ہے۔پاکستان کے سنٹر میں ہے۔اس کے ایک طرف کوہ سلیمان کی بلندبالا پہاڑی سلسلے اور دوسری طرف ٹھاٹھیں مارتا دریائے سندھ ہے جسے ایشیا کی شیر دریا بھی کہتے ہیں۔
فیکٹریاں اور ملز
اس شہر میں 72چھوٹی اور بڑی فیکٹریاں ہیںاور کافی تعداد میں شوگر ملز کاٹن ملزفلورملز ہیں۔مگر ان میں کافی اہمیت کا حامل اور بڑی فیکٹری الغازی ٹریکٹر فیکٹری ہے جو جون 1983کو جنرل ضیاالحق کے دورمیں بنا ۔پاکستان کا پہلا ٹریکٹر فیکٹری ہے ۔یہاں سے غازی ٹریکٹر بنتے ہیں مگر اس فیکٹری میں چھوٹے سکیل سے لیکر بڑے سکیل کے آفیسر تک سب کا تعلق پنجاب سے ہے مگر بلوچ۔۔۔۔؟۔ارے بلوچ۔۔۔؟بلوچ تو جاہل ہیں ان کو کیا پتہ کہ ٹریکٹر کیا ہے۔کس بلا کا نام ہے۔۔مگر اس فیکٹری میں ایک ٹریکٹر ۷ منٹ میں تیار ہوتا ہے۔۔۔مگر ایک دن میں15ہزار ٹریکٹر بناتی ہے۔۔۔
کوہ سلیمان
اس پہاڑ کے بارے میں تاریخی روایت ہے کہ اس پہاڑ پہ حضرت سلیمان ؑ کے تخت کو اتارا گیا۔۔۔اسی وجہ سے اس پہاڑ کا نام کوہ سلیمان(جبکہ کوہ بلوچی زبان کا لفظ جسکے معنی پہاڑ کے ہیں) مشہور ہوا۔جیسا پہاڑ ویسے ہی اس کے بے بہا معدنیات۔۔۔اس پہاڑ کی بلندی 7ہزار فٹ ہے۔۔یہاں کافی سیرسیاحت کے مقام ہیں جن میں فورٹ منرو (1862میںبرٹش کرنل منرو جو ملتان کا کمشنر تھا ایک دورے پہ اس علاقے میں آیا اور ایک قلعہ بنایا جو اب اس کرنل کی وجہ سے اس علاقے کا نام رکھ دیا ویسے اس علاقے کا نام اناری مول ہے) اور ماڑی ہیں اور بلند جگہیں یک بئی اور بیلبتھر ہیں۔فورٹ منرو میں پلاٹنگ کے کاروبار کے نام پہ پنجابی قبضہ گیر کی قبضہ گیریت کو تقویت دی جا رہی ہے۔پورے کوہ سلیمان کے علاقے میں بنیادی سہولت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔اس پورے کو ہ سلیمان ریجن کو علاقہ غیر کہاجاتا ہے یا اس کا دوسرا جدید نام پرووشنل ایدمنسڑریشن ٹرائیبل ایریا ہے مگر اس کی کہانی کچھ یوں ہے اگر اس بلوچ وسائل کو لوٹنا ہے تو یہ پنجاب میں آتا ہے اگر ترقیاتی پراجیکٹ کی بات کرو تو اس کا نام علاقہ غیر مگر کیوں۔۔۔۔۔؟
سکول وہسپتال
اس پورے ریجن میں نا تو کو ئی سکول ہے اور ناہی روڈ و ھسپتال۔۔اس پورے علاقے میں صرف 19 پرائمری سکول 8 مڈل4ہائی سکول ہیں۔ان سکولوں پہ سرداروں کے چاپلوسوں کے اوتاک میں محفلیں سجتی ہیں مگر سردار جس وڈیرے کے گھر سکول منظور کرواتا ہے تو اس غلام منشی کی کانوں میں یہ بات گوش گزار کرتا ہے کہ( وڈیرہ صاحو اے سکول تی اوتاک اں) وڈیرہ صاحب یہ سکول تمھارا مہمان خانہ ہے مگر اس دوہرے غلام کا کیا مجال کے سردار کی تابعداری نہ کرے تو وہ غلام بلوچی میں بولتاہے(بہتار تہا بے وضت بی) صاحب آپ بے فکر رہیں۔بد قسمتی سے وہ نوجوان جو قوموں کا سرچشمہ بنتے ہیں وہ یا تو اپنے علاقے میں بھیڑ بکریاں چراتا ہے یا دبئی سعودی مزدوری کرنے جاتے ہیں۔۔شائد آپ کو ایک گریجویٹ طالب علم ملے گا۔۔ہسپتال ۔۔ھسپتال کیا ہے۔۔کس بلا کا نام ہے۔۔۔صاحب کسی سے پوچھیے ۔۔۔؟۔۔ہسپتال کا اس علاقے میں نام تک نہیں ہے۔۔اگر کوئی بندہ آدم بیمار ہو جائے تو اس کو موسم کے مطابق بھیڑ یا بکری کا تازہ گرم چمڑا پہنایا جاتا ہے یاپھر پونسٹان کی ایک گولی پلایا جاتا ہے مرض جو بھی ہو ھر مرض کا علاج پونسٹان۔۔۔۔؟اس مریض کو ۸ گھنٹے چارپائی پہ اٹھا کر سخی سرور لایا جاتا ہے تب تک اس مریض بچارے کی قسمت کہ چارپائی پہ دم توڑ جائے یا ڈیرہ غازیخان تک اپنی دم قابو رکھے۔
بارڈرملٹر ی پو لیس و بلوچ لیوی
بارڈر ملٹری پولیس1804 میں برطانوی دور حکومت میں بنی۔اس فورس کو بنانے کا مقصد سرمچاروں کے حملوں میں فرنٹ لائن کا کام اور آزادی پسند جہدکاروں کو کاوئنٹر کرنااور دوسرا انگریزی مفادات کو تقویت دیتے تھے۔ جو اس دور میں سردار کوڑا خان قیصرانی نیک محمد بزدار غلا م قا در بگٹی کی کمانڈ میں اپنی وطن کی آزادی کے لیے دشمن سے برسرپیکار تھے۔اس جنگ میں ہر قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔یہ لوگ آزادی پسند لوگوں کو اس نوکری کی طرف مائل کرتے تھے اور جو ٹرائیب انگریزی حکومت کی طرف آتے تو انہیں ۴ سپاہی کی نوکریاں دیتے تھے ۔2ےا 3آنے انکے تنخواہ ہوتی تھی۔یہ پاکستان میں وہ واحد اداراہ ہے جسکی نوکری نسل در نسل چلتی ہے اور یہ فورس پورے پاکستان میں بغیر وردی بغیر ٹوپی کے اپنی بندوق کے ساتھ پورا پاکستان بغیر کسی رکاوٹ کے چل پہر سکتا ہے۔۔اب اس فورس کا کام ٹرائیبل کرائمز کو روکنا اور سرداروں کے بطور باڈی گارڈ خدمت سر انجام دینا۔۔۔بلوچ لیوی 1904میں بنائی گئی مزید غلامی کو مضبوط کرنے کے لیے۔۔اس فورس کا کام ھنگامی صورتحال سے نمٹنا۔۔اس فورس کے لوگوں کے لیے بارڈرملٹری پولیس و بلوچ لیوی سرائے 1935 میں بنایا گیاہے۔ان فورسز کو پولیٹیکل اسسٹنٹ کمانڈ کرتاہے۔اس فورس کی تعداد بارڈر ملٹری پولیس بمعہ بلوچ لیوی 300ہے جو برٹش کے دور میں تھی۔اس کے عہدے وہی دفعدار(ا یس ایچ او) جمعدار(ایس پی) رسالدار(ایس ایس پی) اور سوار(سپاہی) پیادہ،ابکش وغیرہ۔۔۔نہ یہ فورس مجرم کو پکڑتاہے نہ ہی جرائم پہ کنٹرول کیوں۔۔۔کیوں کہ سردار صاحب نہیں چھوڑتے کیونکہ جرائم جتنا بڑہتا جائے گا سردار کا دربار اور سرداری چمکتی رہے گی۔۔۔
معدنیات
کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں بے بہا قدرت کے بے شمار معدنیات پائے جاتے ہیں۔یہاں یورینییم (،u232,u233,u234,u235,u236,u237,u238)کوئلہ،تیل،سیمنٹ،جپسم،گیس وغیرہ ہیں جنکی ایکسپلوریشن بالترتیب یوں ہو رہی ہے۔
بغلچر پراجیکٹ
1965میں پاکستان نے کوہ سلیمان کے علاقے بغلچر سے امریکی امداد کے تحت یونائٹڈ نیشن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے نام سے 1998تک امریکی،کنیڈین،فرانسیسی،روسی ،چینی جیالجسٹ کی مدد سے 30 سال تک بلوچ وسائل کو بے دردی سے لوٹا۔۔ان مائینز میں بلوچ ڈیلی ویجز پہ30 سال تک کام کرتے رہے مگر ان کے افیسر سب کے سب پنجابی تھے۔ جب امیر سلطنت کے بلوچ ان سے کہتے کہ ہمیں پرمننٹ کرو تو کہتے تھے ایک سال بغیر چھٹی کیے کام کرو ہم آپکو پرمننٹ کریں گے تو یہ بچارے جمعہ کے دن کام کرنے جاتے حالانکہ جمعے کے دن اس زمانے چھٹی ہوتا تھا ۔ جب سال پورا ہو جاتا تو وہی بلوچ پھر درخواست کرتے توکہتے ہم آپ کے پراسیس کو چلا رہے ہیں مگر اکژ بچارے 30سال تک ڈیلی ویجز پہ کام کرتے رہے۔ روڈ،بجلی انکے پراجیکٹ تک۔۔۔؟آخر1998 میں بغلچر کے ایک باشعور نوجوان نے اٹامک ڈائریکٹر کو اس کے ڈرائیور سمیت آرمی کے سپاہیوں کے ساتھ ایک راﺅنڈ چلا کر مار دیا۔اس کے بعد اٹامک چلی گئی بغلچر سے مگر مائینز کھلے چھوڑ دیے جن سے خطرناک ریز نکلتے ہیں۔یورینییم238(یورینیم تین قسم کی ہوتی ہے سفیدیورینیم،کالایورینیم،سبز یورینیم)۔ان میں سب سے اچھا طاقت ور سفید یورینیم ہے سفید یورینیم میں بیٹا ریز بہت طاقتور ہوتے ہیں۔یورینیم میں تین قسم کے ریز نکلتے ہیںجنہیں الفا،بیٹا،گیما کہتے ہیں ان تینوں کی خصوصیت ایک دوسرے سے الگ ہے۔الفا ریز انتھائی طاقت ور پارٹیکل اور اٹامک ماس بھی زیادہ اپنے سے تین گنا زیادہ چارج الفا جس چیز سے ٹکراتی ہے تو اس کے پار گزرتا ہے۔بیٹا درمیانی طاقت(الفاسے کم طاقت) بانسبت الفا وزن بھی کم چارج بھی کم مگر یہ جس چیز سے ٹکراتی ہے تو اس چیز میں پھنس جاتا ہے اسی وجہ سے بہت خطرناک ہے۔گیما بانسبت دونوں کے کم طاقت وزن بلکل نہیں ہے مگر فیوژن ر ی ایکشن میں ایٹم کے ساتھ ٹکراتا ہے۔ ۔ ویسٹ میٹیریل جو یورینیم کی صفائی کے پراسیس میں وہی بچا کیمیکل کی آمیزش کی ویسٹ میٹیریل کو بغلچر میں سیمنٹ کے بلاک میں لا کر10فٹ کا گڑہا کھود کر دفن کرتے ہیں تو موسم، ٹمپریچر،کی دباﺅ کی وجہ سے پہس پڑتا ہے تو اسکے اثرات باہر آتے ہیں اور اس کے اثرات انتہائی مہلک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں حالانکہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی رولز کے مطابق ویسٹ میٹیریل کو سیسہ کی ۷ فٹ موٹی تہہ والی بلاک میں بند کر کے سمندر کے نیچے یا زمین کے نیچے تقریباََ 4 یا5 ھزار فٹ کے نیچے دفن کیا جائے مگر پاکستان اسے کھلے عام زمین پہ سیمنٹ کے بلاک میں بند کر کے پھینک دیتا ھے حالانکہ اس کی تابکاری سے سیمنٹ کے بلاک پھٹ جاتے ہیں یا لیک ہوتے ہیں جس سے زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہیں۔جب سورج کی شعاعیں یورینیم پہ پڑتی ہیں تو اس کے ا لیکٹرون ،پروٹان،نیوٹران وغیرہ گرم ہو کرآپس میں ایٹم کے نیوکلیس کے ساتھ ٹکراتے ہیں۔ جب اٹامک والے آفسر کے ساتھ بات کی کہ یہاں ویسٹ میٹیریل کو دفن نہ کرو ہمیں نقصان پہنچا رہا ہے تو کہتے یہ اللہ کا عذاب ہے کہ بچے لولہے لنگڑے اور ہر دوسرے آدمی کو کینسر ہے یہ ویسٹ میٹیریل نہیں ہے۔ تو بعض اوقات کہتے پنجابیوںکو مارنے کی سزا اب تم لوگ اپنی موت آپ مرو۔اس علاقے میں ہر گھر میں ایک پیدائشی لنگڑا بچہ اور ایک یہ دو کینسر کے مریض ضرور ملیں گے۔اکثربچے پیدا ہوتے ہی مرتے اس علاقے میں میرے ایک قریبی دوست کے بھانجے نے انجانے اس پانی کو پیا تواسی وقت اس کے جسم پر سرخ دانے نمودار ہونے لگے جب ۴گھنٹے بعد جب ڈیرہ غازیخان ہیڈکواٹر ہسپتال میں لے گے تو جب ڈاکٹر نے اس بچے کو دیکھا تو کہا کیا یہ بغلچر کا بچہ ہے تو ظاہر جواب اثبات میں۔مگر ڈاکٹر نے کہا اس بچے کو بلڈ کینسر ھے اس کینسر کو ہوتے ہوئے 8گھنٹے ہورہے ہیں ڈاکٹر نے یہ کہا بچہ نہیں بچ سکتا واقعی وہ بچہ ایک گھنٹے کے اندر اس دنیا سے رخصت کر گیا یہ بات2010کی ہے۔اس وقت اٹامک راکھی منہ، سفید کوہ ۔تونسہ، دلانہ میں کام کر رھا ھے۔
دلانہ پراجیکٹ
دلانہ چھوٹا علاقہ کوہ سلیمان میں آتا ہے۔جب حب میزائل پراجیکٹ ناکام ہوا تو دلانہ میںیہ پراجیکٹ شروع کردیاگیا یہ میزائل پراجیکٹ پچھلے ۷ سالوں سے کام کر رہی ہے کوہ سلیمان کے پہاڑیوں کو کھود کر یہاں میزائل رکھے جارہے ہیں ۔۔۔۔۔؟مگر یہاں بھی بلوچ نہیں تو کیوں۔۔۔؟۔یہاں کے لوگوں کو ان کی زمینوں سے معاوضہ دے بغیر نکال دیا گیا اگر کسی کو کچھ ملا تو اس زمین کا شائد چوتھائی کامعاوضہ ملا ہوگا۔
راکھی منہ پراجیکٹ
یہ علاقہ فورٹ منرو میںآتاہے۔یہاں سے پاکستان نے1980 سے یورینیم نکالنا شروع کیا مگر ابھی تک جاری ہے۔اس پراجیکٹ میں بھی بلوچ نہیں۔۔۔۔؟
سفے کوہ زندہ پیر پراجیکٹ
یہ علاقہ کوہ سلیمان تونسہ شریف میں آتا ھے۔اس علاقے سے پیور یورینییم نکالا جارھا
ہے مگر ابھی تک جاری ہے ۔اس پراجیکٹ میں بلوچ صرف چوکیدار ہیں یا ذاتی چائے کی دکان۔
سیمنٹ فیکٹری
یہ علاقہ بھی تونسہ شریف میں آتاھے۔یہاں سیمنٹ کے ۳ پلانٹ کام کرتی ہیں۔پاکستان نے یہاں جاپان کی ایک کمپنیUBE INDUSTRIES کی مدد سے 1982جون میں ایک پلانٹ بنا کے دیا۔اور بعد میں ڈنمارک کی FL,SMIDTH کمپنی نے دو دفعہ دو پلانٹ لگا کر دیے جو 1992اور 1998 میں لگائے گے۔اس فیکٹری سے روزانہ چودہ ھزار ٹن سمنٹ تیار کیا جاتا ہے۔اور اس پلانٹ کو کوئلہ سے چلایا جاتا ہے جسے روزانہ پانچ سے چھے ھزار ٹن کوئلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اس فیکٹری کا کوئلہ چمالنگ سے لیا جاتا ہے۔۔مگر یہاں بھی بلوچ نہیں تو کیوں۔۔۔۔؟
ڈھوڈک آئل اینڈ گیس فیلڈ
یہ علاقہ تونسہ شریف سے ملحقہ بلوچ علاقہ ہے۔یہاں10 دسمبر 1972کو گیس دریافت کیا اور اسی سال سے اس کو نکال کر ڈائریکٹ ملتان فاطمہ شوگر میں پائپ لائن کے زریعے پہنچایا گیا۔مگر اس فیلڈکے قریب گھروں میںگیس نہیں ہے۔تونسہ میں تو ابھی تک نہیں ہے مگر ڈیرہ غازیخان کے شہر میں کم پریشر کے ساتھ دیا جارھاہے۔آئل کو خام حالت میں پائپ لائنوں کے زریعے پارکو(پاک عرب آئل ریفانری) تک پہنچایا جارہاہے۔گیس و آئل فیلڈ بلوچ علاقوں میں تو پارکو اورگیس ہیڈ آفس ملتان میں کیوں۔کیاان علاقوں میں اتنا رقبہ نہیں تھاکہ پارکو اور گیس ہیڈآفس یہاں بناتے جگہ بھی بہت مگر وہاں کیوں۔۔۔۔؟
دیوان آئل اینڈگیس کمپنی
یہ کمپنی بھی تیل اور گیس کو2000 سے لوٹ رہاہے۔یہ کمپنی جنوبی ایشیاءکی سب سے بڑی تیل اور گیس ڈھونڈنے والی کمپنی ہے۔ان میںبھی بلوچ نہیں تو کیوں۔۔۔۔؟
ماڑی گیس فیلڈ
ماڑی راجنپور کی علاقے میں آتاہے ۔ماڑی ایک صحت افزاءمقام بھی ہے۔یہاں سے بھی گیس نکالا جارہاھے پچھلے10 سالوں سے۔۔مگر یہاںبھی بلوچ نہیں تو کیوں۔۔۔؟ان سب کمپنیوں میں بلوچ سٹوڈنٹس کو انٹرشپ تک نہیں دیا جاتا جن کا میں نے ذکر کیا۔۔۔!

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0