کاونٹر اتحاد تحریر ناکو اُزمان

منگل 21 اکتوبر, 2014

رہتی دنیا میں انسان نے وقتا فو قتا اپنے مفادات کے حصول کے لئے اتحاد کا دامن تھاما ہے،جب انسان کو اکیلا زندگی بسر کرنے میں دشواری کا سامنا کر نا پڑا تو انھوں نے مل جل کر با ہمی تعاون اور اشتراک عمل کو فروغ دیا جس قدر انسانی شعور کی ارتقائی عمل ترقی سے ہمکنا ر ہو تا چلا گیا یوں ہی باہمی تعاون اور اشتراک عمل مر بوط ہو نے لگا انسان اپنے تحفظ ،دفاع اور ضروریات زندگی کے اشیا کو حاصل کر نے میں باہمی تعاون اور اشتراک عمل پر اکتفا کر بھیٹے جس باہمی تعاون اور اشتراک عمل کے بطن سے اشتراکیت ،سماجی تنظیم نے جنم لیا جو آج ترقی پاکر ہمیں مختلف تنظیموں ،یو نینوں اور انجمنوں کی شکل میں نظر آتے ہیں ۔اس انسانی زندگی کے سفر میں انسان نے ہمیشہ اپنی زندگی کے تمام تر ضروریات کی تکمیل ،تحفظ اور دفاعی کی حثیت کی پائیداری اور مضبوطی کے لئے کو شاں چلا آ رہا ہے۔کھبی اس سفر میں اجتماعیت سے مستعار لئے طاقت سے کمزور پر غاصب ہوا ہے اور کھبی خود اجتماعی طاقت کے مفادات کے ٹکراو سے اپنی طاقت کے انحطاط پزیری سے غاصبوں کا شکار ہوا ہے ۔طاقت نے کبھی انسان کو ظالم سے مظلوم بنایا اور کھبی مظلوم سے ظالم،آج بھی انسان اپنے مفادات کے حصول اور اپنی تحفظ کو یعقینی بنانے کے لئے اتحاد کا چادر لے اڈھا ہے یہ اتحاد ہم کو ماضی میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں اور آج بھی ،دنیا میں بہت سی اتحادیں بنی ہیں کھبی مثبت اتحادیں بنائے گئے ہیں اور کبھی کا ونٹر اتحاد آج بھی دونوں قسم کے اتحاد ہمیں نظر آتے ہیں ،یعنی مثبت اتحاد اور کاونٹر اتحاد ،چنانچہ کاونٹر اتحاد نے جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم میں خوب نشونما پاکر اپنے دائرے عمل کو وسیع کر دیا حصول طاقت اور مفادات کی جنگ تاریخ کے قرطاس پر منکشف ہیں۔جیسے جنگ عظیم اول میں اتحاد کو با قاعدہ طور پر منظم اور واضح شکل دی گئی ایک اتحاد Triple Allience میں جرمنی ،اسٹریا ،ہنگری اور اٹلی شامل تھے جبکے اس کے مخالف اتحاد Triple Entity میں فرانس ،یو ایس ایس آر اور بر طانیہ شامل ہو گئے ،اس جنگ عظیم میں ہر اتحادی نے دوسرے مخالف اتحادی کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا تاکہ ان کی طاقت پارہ پارہ ہوکر ان پر آسانی سے حکمرانی کیا جائے اور ان کے وسائل کی لوٹ کسوٹ میں کو ئی رکاوٹ نہ بن سکے اور دنیا میں طاقت کا سرچشمہ ہم ہی بن جائیں ،لہاظہ ان اتحاد کا سلسلہ یہاں تک تم نہ سکا پھر 1939میں دنیا دوسری جنگ عظیم کی طرف چلی گئی پھر اتحاد اور قائم ہوا ،ایک اتحاد Allied Power جس میں یو ایس ایس آر ،فرانس ،برطانیہ اور امریکہ شامل ہو گئے جبکہ دوسرے مخالف گروپ Axis Power میں جاپان ،جرمنی اور اٹلی شامل ہو گئے ،دونوں مخالف اتحادی گروپوں نے اپنے اپنے نو آبادیات بڑھانے اور طاقت کے حصول کے لئے طاقت کا بے تحاشتہ استعمال کیا گیا جن کے اثرات پوری دنیا پر پڑ گئی جن کے نقصانات کا اندازہ ممکن نہیں۔
طاقت کے حصول کی جنگ یہاں بھی نہ روک سکی جیسے کمیونزم میں سویت یونین تیزی کے ساتھ ترقی کر رہا تھا تو اس کا دائرہ عمل مشرقی ایشیا میں فروغ پاکر پوری دنیا میں پھیلنے لگا اس نظریہ سے خائف ہو کر امریکہ ،فرانس اور بر طانیہ نے ( سیٹو ) معاہدہ کے نام سے کل آٹھ ملکوں کے درمیان اس معاہدہ کو عملی جامہ پہنا کر سویت یو نین کے خلاف کمر بستہ ہو گئے تاکہ کمیونزم کے پھیلاو کو روکنے میں کامیاب ہو سکیں ،اس نظریہ کی خاتمے کے لئے آخر کار ،امریکہ کو پاکستان ،افغانستان ،ملاوں اور جہادیوں کا استعمال کر نا پڑا ،اس دوران جنگ کو ( سرد جنگ ) کہا جا تا ہےِ ،اسے سرد جنگ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس جنگ نے مخالف قوتوں کے درمیان کھبی اصل جنگ کی شکل اختیار نہیں کی بلکیں مخالف قوتوں کے مابین ایک اقتصادی اور ڈپلومیٹک چپقلش کے طور پر بر قرار رہی یہ جنگ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے بعد تقریباََ 1945 کے بعد شروع ہو گئی ،دنیا میں بیشتر طاقتوں نے اپنے مفادات کے تحفظ اور حصول طاقت کے لئے اتحاد بنائے گئے ہیں اور معاہدہ کئے گئے ہیں جو کچھ اپنے حصول مقصد تک قائم رہا اور کچھ اپنے مقصد کے حصول سے پہلے ناکام ہو ئے ہیں ،ایسے کئی معاہدے ہو ئے ہیں جیسے کی سیٹو کے بعد سینٹو 24 فروری1954 ترکی اور عراق کی حکومتوں نے باہمی تعاون کی خاطر کیا جس کے تھوڈے عرصے بعد اس معاہدہ میں برطانیہ ،ایران اور پاکستان شامل ہو گئے اس معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ معاہدے کے رکن ممالک میں سے کسی ایک پر اگر تیسری قوت حملہ کر ے تو دوسرا فریق اس کی مدد کر ے گا ،لحاظہ عراق اور ایران میں انقلاب آنے کی وجہ سے یہ معاہدہ ناکام ہو کر اپنے اختمام کو پہنچا ۔
اسی طرح دیکھا جائے نیٹو بھی ایک دفاعی اتحاد ہے تاکہ ممبر ممالک کسی قسم کی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی حکمت عملی اختیار کر سکیں ،پھر نیٹو اتحادکے خلاف14 مئی 1955میں ایک اور معاہدہ ( وارسا ) روس ،البانیہ ،بلغاریہ ،مشرقی جرمنی ،پولینڈ ،رومانیہ اور چیکو سلواکیہ کے درمیان قائم کیا گیا جس کو اگر ہم کاونٹر معاہدہ کہیں تو غلط نہیں ہو نگیں۔لہاظہ یہ معاہدہ بھی اپنے مقصد کے حصول تک قائم رہ نہ سکا ۔دنیا میں طاقت کے حصول ،ملکی سالمیت اور اقتدار اعلیٰ کی حفاظت ،معاشی مفادات ، سیاسی مفادات کے تحفظ کی خاطر بہت سے اتحاد ات اور معاہدات مثلاََ عرب لیگ ،نیٹو ،سیٹو، سینٹو،او آئی سی ،سارک ،یورپی یونین وغیرہ وغیرہ جو مختلف تنظیموں کے نام سے بنائے گئے ہیں جن میں کچھ کو اتحادیں کے نام سے جانا جاتا ہے کچھ کو معاہدات کے نام سے جانے جاتے ہیں ،جن جو مفادات کے حصول کی خاطر بنائے گئے اور قائم کئے گئے ہیں،ان میں بیشتر اپنے مقصد کے حصول سے پہلے ناکام ثابت ہو ئے اور کچھ ناکام ثابت ہو نے جارہے ہیں ،اب تک جس کو کامیاب سمجھا گیاوہ ہے نیٹو اور یو رپی یونین۔ مختصراََ ان کے ناکامی کی وجوہات یہ تھی کہ ان میں اجتماعی مفادات کے حصول اور تحفظ کی جگہ انفرادی مفادات کے حصول اور تحفظ کی کو شیشں زیادہ ہوگئیں کچھ اسی ریاستیں تھیں کہ خو د کو اکیلا کمزور تصور کر کے دوسری بڑی طاقت کے حملوں سے بچنے کے لئے ان اتحادوں میں پناہ کی غرض سے شامل ہو گئیں،ان تحادوں میں کوئی دیر پا وضح حکمت عملی اور پالیسی نہیں تھی ان میں طاقت ور ریاستوں نے اپنی اپنی مانیاں شروع کر کے اپنی طاقت کو طول دینے کے لئے اپنی طاقت کے دائرہ عمل کو وسیع کر نا شروع کر دیا،مو ضوئی و معروضی حالات کی تبدیلی ، ریاستوں کے مفادت کی تبدیلی ، ریاستوں کی شکست و فتوحات ،نئے ریاستوں کا وجود میں آنا کچھ ریاستوں کا ایٹمی طاقت حاصل کر نا اور دنیا کی گلولائیزیشن ولیج کی شکل اختیار کرنا، نے ان اتحادات اور معاہدات کی ناکامی میں بڑا کر دار ادا کیا ۔
ان کے محتصراََ وضاحت کر نے کا مقصد یہ تھا کہ ہماری تحریک میں آجکل جس ولولے کے ساتھ ڈاکٹر اللہ نظر ، براہمدغ بگٹی ،جاوید مینگل ،مہران مری او ر بختیار ڈومکی کے درمیان نئی اتحادبننے جا رہا ہے ان کے اتحاد بنے کے مقصد کو سمجھنا تھا آیا یہ قومی مشترکہ قومی مفادات کے حصول کے لئے مثبت قومی مشترکہ اور واضح پالیسی کے ساتھ حقیقی اتحاد ہے ؟جس میں واقعی قومی مفادات کے تحفظ کا ضامن یعقینی ہو گا یا مثترکہ کاونٹر اتحاد ہے جو ایک پوری قومی مضبوط سوچ و فکر کے خلاف ہے،اس اتحاد میں یعقیناََ ہمیں قومی مشرکہ قومی مفادات کے حصول کی جگہ مشترکہ کاونٹر اتحاد زیادہ نظر آرہاہے،اس اتحاد میں قومی مشترکہ مفادات کے حصول کوسوں دور اس میں شخصیتوں کو علاقائی حد طاقت ور بنانے کے عنصر زیادہ نظر آرہے ہیں جو کہ ایک انقلابی سوچ کے بر خلاف ہے ،اگر باریک بینی سے اور حقیقت پسندی کی دنیا میں آکر دیکھا جائے تو اس روایتی اتحاد سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ اتحاد باقاعدہ طور پر ایک منصوبہ بندی کے تحت ایک قومی سوچ ،قومی نظریہ اور قومی فوج بی ایل اے کے خلاف بنے جا رہا ہے،جس طرح امریکہ نے کمیونزم نظریہ کے خلاف آٹھ ملکوں کے درمیان سیٹو کے نام سے معاہدہ کرکے کمیونزم نظریہ کو ختم کرنے کے لئے ان کے ہمراہ میدان میں اتر آیا ،آج بلکل اسی طرح اڈاکٹر اللہ نظر،براہمدغ بگٹی،جاوید مینگل ،مہران مری اور بختیار ڈومکی ایک مظبوط قومی نظریہ و سوچ کے خلاف ایک کاونٹر اتحاد کے نام سے میدان میں اتر آئے ہیں۔کیونکہ بی ایل اے ایک واضح قومی موقف جس میں قومی اجتماعی مفادات کے تحفظ ،بین الااقوامی قوانین کی پاسداری اور انقلابی جنگی حکمت عملیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس قومی آزادی کی جنگ کو اپنی دفاعی حثیت کے ساتھ آگے لے جا رہا ہے جس میں اصولوں سے روگردانی،اختسابی عمل سے فرار ،رد انقلابی عمل اور غیر واضح پالیسیوں کی قطعاََ گنجائش نہیں ،اسلئے ان تنظیموں کو بی ایل اے کی فکری و نظریاتی اور عملی جدو جہد ہضم نہیں ہو رہا ہے وہ چاہتے ہیں کہ بی ایل اے کے سامنے کو ئی بڑی رکاوٹ کھڑا کر کے تاکہ ہم اپنی گروہی مفادات کے حصول اپنی لیڈری کا شوق پورا کر نے میں کامیاب ہو جائیں۔ابھی تو ان کو ڈر ہے کہ بی ایل اے ہمارے نام نہاد رہنمائی کے آگے رکاوٹ بن جا تی ہے ،اسلئے ان کا تمام تر کو شیشں عوام میں بی ایل اے کو نیچادکھانے کی کو شش ہے جس کا واضح ثبوت بی ایل اے کے دوستوں پر بے بنیاد اور من گھڑت الزام لگانا ہے یہاں تک بی ایل ایف کی طرف سے حیر بیار کو تحریک کے لئے نقصاندہ قرار دینا اب ان کا اندازہ آپ خود کر لیں کہ کسی مخلص دوست پر الزام لگانے کی صورت میں یہ کہاں تک جا سکتے ہیں۔اور نام نہاد اتحاد کا ڈرمہ رچاکر عوام کو بیوقوف بنانے کی کو شش کر تے ہیں ۔
لیکن اس وضاحت کو میں یہاں ضروری سمجھتا ہوں کہ کسی بھی اتحاد کے لئے مشترکہ قومی مفادات کے حصول کی خاطر سب سے پہلے کسی بھی اتحاد بنانے سے پہلے تنظیم کی تنظیمی ڈھانچہ ،نظریہ اور واضح مقصد اور واضح پروگرام ،افرادی قوت ،تنظیمی دفاعی پوزیشن اور عوامی حمایت اور ہمدردی کو مدنظر رکھ کر اتحاد بنا یا جا تا ہے ۔لیکن ان تنظیموں میں ان تمام بنیادی مقاصد دور کنار ان میں تو تنظیمی ساخت نہیں ہے ،گو کہ بی ایل ایف اور بی آر اے میں تنظیمی بناوٹ ابھی تک ہے لیکن ان کا یہ بنا وٹ بھی اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے خطرہ میں پڑ گیا ہے لحاظہ ان میں ہر کوئی دوسرے کا سہارہ لے کر اپنی تنظیم کا وجود بر قرار رکھنا چاہتا ہے،اگر بی ایل ایف او ر بی آر اے کی موجودہ پالیسیاں مزید یوں چلتی رہی تو پھر وہ دن دور نہیں ان دونوں تنظیموں کا حقیقی دنیا میں وجود بر قرار رہے کیونکہ عوامی سطح پر مجموعی طور پر ہم دیکھ رہے ہیں ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ان کا عوامی سپورٹ ایک حد تک بند ہو گیا ہے جو کہ ہم کو ان کے خلاف ریلیاں نکالنے اور پریس کانفرنسیں کرنے کی صورت میں نظر آرہے ہیں ،جب عوامی مدد و تعاون بند ہو جا تی ہے پھر تنظیمی کارکنان کے لئے اپنے آپ کو تحفظ دینا محال ہو جاتا ہے ،شائد اسی وجہ سے بی ایل ایف اور بی آراے کے کچھ مخلص کارکنان گراونڈ پر اپنے آپ کو بے یارو مدد گار سمجھ کر بیرون ملک چلے گئے اور کچھ نے ان کی غلط پالیسیوں سے اختلاف رکھ کر بی ایل اے میں شمو لیت اختیار کر لیں اور کچھ مخلص کارکنان شائد گراونڈ پر موجود ہیں لیکن ان کا کوئی نہیں سننے والا نہیں ۔کچھ کارکنا ن ان کے بے مہار پالیسیوں کی وجہ سے جیسے افصل دلبرجو بی ایل ایف کا سرمچار تھا کو بی ایل ایف کے تین کارکنان نے گوادر میں پکڑ کر ان کے ہاتھ پاوں باندھ دئیے بی ایل ایف کی مرکزی قیادت کو کہا گیا کہ یہ مخبر ہے لیکن بی ایل ایف کی قیادت نے اس کی مخبری سے انکار کیا اس کو ایسے ہی چھوڈوا یا کہ یہ حقیقی سرمچار ہے پھر اس نے ان تینوں دوستوں میں سے دو کو اجنسیوں کے ہاتھوں اغوا کر وایا، شہید ڈاکٹر خالد اور شہید دلجان کی بھی مخبری کی تھی مگر پھر بھی بی ایل ایف کی قیادت اس کو بار بار بے گناہ ثابت کر رہا تھا جو بعد میں بی ایل ایف نے خود اس کو مخبری کے الزام میں قتل کر دیا اور کہا کہ اس نے جو انکشافات کئے ہیں ان کو قوم کے سامنے ویڑیو کی شکل میں لائینگے لیکن بی ایل ایف کا وہ ویڑیو ابھی تک قوم کے سامنے نہیں آئی جس دن گوادر میں بی ایل ایف کے دوستوں نے اٖفضل کو پکڑا تھا اگر اس وقت افضل پر کاروائی ہوتی تو اس وقت بی ایل ایف کے کئی سرمچاروں کی جانیں بچ جاتی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہُ اس وقت مخلص کارکنان کی شکایتوں پر بی ایل ایف کی قیادت کو یعقین نہیں آیا ، نہ جانے اور کتنے افضل د لبر کی شکل میں بی ایل ایف میں بیھٹے ہیں مگر بی ایل ایف نے ان کو اپنے گلے میں لگا لیا ہے ان پر کوئی کاروائی نہیں ہو رہی ہے،اسی طرح مقبول شنمبے زئی اور حسن شنمبے زئی بھی بی ایل ایف کے علاقائی زمہ دار تھے کی مخبری ،چوری ڈکیتی اور بدمعاشی کے حوالے سے بی ایل ایف کی مرکز کو آگاہ کیا گیا مگر بی ایل ایف کی کانوں تک جوں نہیں رینگی اب حسن مقبول شنمبے زئی ،خدارحم عرفی (بجار) اور سعود ساتھ مل کر ایف سی کی پشت پناہی سے د ن دھاڑے لو گوں کو اغوا کر ان سے تعاون مانگتے ہیں چوری ڈکیتیاں، شریف لوگوں کو سر بازار مرغہ بنانا بے عزت کرنا ان کا معمول بن گیا ہے ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے اپنے اپنے اسر و رسوخ والے علاقوں میں ایک اور حکومت قائم کی ہے جس کا نظام خود چلا رہے ہیں،(واضح رہے حسن شنمبے زئی بی آر اے کے مکران کمانڈر کا چھو ٹا بھا ئی ہے )اب شنید میں آیا ہے کہ بی ایل ایف کا ایک اور کیمپ کمانڈریاسین حمل جو مقبول شنمبے زئی کا زاماد ہے جس کو ایف سی نے کچھ مہینے پہلے گرفتار کر کے اپنے ساتھ رکھا پھر مقبول شنمبے زئی کے کہنے پر یاسین کو اس شرط پر رہا کیا گیا ہے کہ وہ بی ایل ایف کو چھوڑ کر مقبول کے ساتھ کام کر ے اب وہ اس گینگ کے ساتھ ملا ہوا ہے کچھ اور ان کے ساتھی کہہ رہے ہیں ایف سی سے ہمارے کیسز کو ختم کریں ہم آپ کے ساتھ بھی کام کرینگے ،میں بی ایل ایف سے ایک برادرانہ التجا کرتا ہوں کہ خدارا اس حساس معاملے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں پھر ایسا نہ ہو کل بی ایل ایف کے دوست ان کے ہاتھوں ایک ایک ہو کر قتل ہو تے رہیں بی ایل ایف کی قیادت کو پتہ تک نہ چلے ، اسی طرح بی ایل ایف کا ایک اور سرمچار ملا فاضل بھی ان بے مہار پالیسیوں کی وجہ سے یعقوب بالگتری کے ساتھ مل گیا جن کو ایک مہینہ پہلے یعقوب بالگتری کے ساتھ قتل کیا گیا،دوستوں کی یاد دہانی کے لئے یہ عرض کروں کہ2009 میں اس وقت کے بی ایس او آزاد کے بالگتر کے کسی مخلص دوست نے مجھ سے کہا کہ یار میں خیران ہوں یعقوب بالگتری چور ڈاکو اور ایف سی کا بندہ ہے لیکن اختر ندیم اس سے ملتا ہے اور اس سے اصلحہ خرید تا ہے بی ایل ایف کے دوسرے دوست اس کے پاس آتے جاتے ہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بی ایل ایف کے دوستوں کو یہ نقصان نہ پہنچائے تو میں نے اس دوست کو کہا یا ر یہ بی ایل ایف کی شاید کوئی اپنی پالیسی ہے میں اور آپ اس کو سمجھ نہیں سکتے اس بات کو چھوڑو ،پر وہی ہوا ایک طرف یعقوب بی ایل ایف کو خوش کر رہا تھا بی ایل ایف کے لئے کام کر رہا تھا دوسری طرف ایف سی اور ایجنسی والوں کو خوش کر رہا تھا ان کے لئے کام کر رہاتھا جب بی ایل ایف اور یعقوب بالگتری کے درمیان منشیات کے معاملے پر اختلافات زیادہ ہو گئے پھر بی ایل ایف نے یعقوب کو معاملات کی سلجھانے کیلئے بہانے میں مزاکرات کے لئے بلا کر ان کو ان کے ساتھیوں کے ہمرہ قتل کر دیا اتنے سالوں سے یعقوب بی ایل ایف کے دوستوں سے رابطہ رکھ کر بی ایل ایف کے دوستوں کو ایک ایک کر کے شہید کر وایا اس وقت یعقوب پر کاروائی کیوں نہیں ہوئی ؟ جب دو بھری گاڈیوں سے منشیات کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے پھر یعقوب پر کیوں کاروائی ہوئی ؟کیا منشیات بی ایل ایف کے اپنے کارکنان کی جان سے زیادہ قیمتی تھے یا بی ایل ایف کے اپنے کارکنان کی جان ؟ جس وقت یعقوب بی ایل ایف کے دوستوں کو مختلف زرائع سے قتل کر رہا تھا اس وقت کیوں کار وائی نہیں کی گئی ؟ جب معاملہ منشیات پر اٹکا پھر کیوں کاروائی ہوئی؟ اسی طرح عرفان گرگناڈی جو بی یل ایف کا تربیت یافتہ تھا بی ایل اے کے قلات کیمپ میں مہمان کی حثیت سے بیٹھ کر بی ایل اے کے کیمپ میں مخبری کر کے پا کستانی فوج کے زریعے سے حملہ کر وایا،،
خیر اس بحث کو چھوڈ کر اپنے مو ضوع کی طرف آتے ہیں مہران مری سے اتحاد کا شوشہ در اصل یہ تمام روایتی پالیسی ہیں جو انقلابی اصولوں کے معیار کے بر عکس ہیں ڈاکٹر اللہ نظر کو یاد ہونا چائیے کہ مہران مری اور قادر مری وہ مشکوک شخص ہیں جنہوں نے بی ایل اے میں بد عنوانی کر کے اختساب سے بھاگ کر بی ایل اے کی قومی مڈی پر قبضہ کر کے ایک پریشر گروپ تنظیم جس کو یو بی اے کا نام دیا گیا بنا ڈالا،کیا ایسے لو گوں سے اتحاد انقلابی قوائد و ضوابط کے زمرے میں آسکتا ہے ؟دوسری طرف مراد ناڈی کا چنگیز مری اور ہزار خان بجارانی سے رابطہ اور قریبی تعلقات رکھنا پھر ان کے کہنے پر بی ایل اے کے دوستوں کو رستے سے ہٹانے کے لئے ان کے راستوں پر بارودی سرنگیں بچاناقوم کے لئے کوئی نیک پیغام نہیں،ہزار خان بجارانی کے بارے میں قادر مری خودا پنی کتاب میں کہتا ہے کہ اس نے افغانسان کیمپ میں نواب خیر بخش مری اور دوستوں کو قتل کر نے کا سازش تیار کیا تھا جو بعد میں اس نے کیمپ پر حملہ کیا تھا خوش قسمتی سے نواب خیر بخش مری اور دوست حملے سے محفوظ رہے ،اس واقع کے متعلق استاد واحد کمبر اور میر عبدالنبی بنگلزئی کو بھی آچھی علم ہے کیونکہ اس دوران یہ بھی نواب خیر بخش مر ی کے ساتھ رہے ہیں۔لشکر بلوچستان سے اتحاد بنانے سے پہلے ان کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے،لشکر بلوچستان کے متعلق نواب خیربخش مری خودکہتے تھے کہ یہ عطا اللہ مینگل کی قبائلی اور دفاعی تنظیم ہے جو کسی پریشر گروپ سے کم نہیں اس کو بلوچستان کے دیگر علاقوں میں پھیلنے نہ دیا جائے پھر بھی ڈاکٹر اللہ نظر آپ اس پریشر گروپ اور قبائلی دفاعی تنظیم کو قومی تنظیم کے ترازو میں کیوں طول رہے ہو؟ جو نواب خیر بخش مری کی سوچ سے روگردانی کے مترادف ہے۔ایک اور مزاق اور دھوکہ اتحاد کے نام سے بلوچ قوم کے ساتھ کیا جا رہا ہے پاکستانی مراعات یافتہ اور مشرفی آمریت کا ساتھی بختیار ڈومکی کو اس لئے گلے میں لگا کر کہ اس کو بلوچ ریبلکن گارڈ بنانے کا موقع دے کر اپنے ساتھ میں شامل کر تے ہیں کہ واجہ براہمدغ بگٹی کے زاماد ہیں،اسی طرح مہران مری براہمدغ کے زاماد ہیں اور جاوید مینگل مہران مری کے زاماد ہیں سب ایک فیملی کے لوگ ہیں اور سب خود کو بلوچوں کی رہنمائی کا لیڈر گردانتے ہیں کہ بلوچ صرف ہمارے ہاتھ کے نیچے کام کر یں ہم اس پر فیصلہ نافذ کر تے ہیں،بی ایل ایف اس دوڈ میں اس لئے شامل ہو رہا ہے کہ بی ایل اے اس اتحاد کی وجہ سے کمزور ہو کر ہم ان سے خوب جنگی سازو سامان اور پیسے بٹور کر پھر اس اتحاد سے باہر نکل کر قوم میں جا کر یہ کہتے ہیں کہ دیکھیں بی ایل ایف غریبوں ،مزدوروں اور دہکانوں کی تنظیم ہے باقی سرداروں کی تنظیم ہیں، بی ایل ایف کی نظر میں اس وقت تک بی ایل اے مکمل کمزور ہو کر ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا اس لئے ابھی بی ایل اے کی قیادت کرنے کا زمہ دار حیر بیار کو کہہ کر سردارکہتے ہیں ،عیاش مزاج کا بندہ تصور کرتے ہیں ،تحریک کے لئے نقصاندہ قرار دیتے ہیں ،عالمی منظور نظر تک بھی کہتے ہیں، ایجنسیوں کی سائیبر ٹیم کو چلانے کا الزام لگاتے ہیں حیر بیار کے ساتھی استاد اسلم اورسلام صابر کی بلوچیت سے انکاری ہیں حسن جانان کو جرمنی اور دیگر الزامات لگائے جا رہے ہیں بلوچ قومی دانشور شبیر کو تنزیہ اندازا میں پنجگوری اس لئے کہتے ہیں کہ پنجگوری بچہ باز ہیں اور دیگر الزامات سے نوازے جا رہے ہیں دیگر دوستوں کو کیا کیا الزامات نہیں لگائے جارہے ہیں وغیرہ وغیرہ ان تمام بے بنیاد الزامات کے پیچھے ایک ہی مقصد کار فرما ہے کہ بی ایل اے کے دوست بدنام ہو کر میدان سے غائب ہو جائیں پھر میدان ہمارے لئے خالی ہوجائے گا ہم میدان پر قبضہ کرینگے پھر ہم کو ہٹانے والا کوئی نہیں ہوگا ہم اپنی مرضی اور منشاکے مطابق بلوچوں کے مستقبل کا فیصلہ سنائینگے ۔
میں ان کو بڑی ایمانداری سے کہتا ہوں کہ آپ یاد کر یں بی ایل اے ایک تنظیمی مظبوط ڈھانچہ ہے ،ایک واضح مقصد و نظریہ ،فکر و پروگرام،افرادی قوت دفاعی پوزیشن اور عوامی حمایت اور ہمدردی کے ساتھ اس جنگ کو لڑرہی ہے ،آپ کے یہ روایتی نام و نہاد اتحاد ریت کے دیوار ثابت ہو گا کبھی بھی بی ایل اے کی قومی فکر و سوچ، دفاعی حثیت اور عوامی مددو تعاون کو متاثر نہیں کر سکتابلکیں آپ ان نام نہاد اور روایتی اتحاد کے خوش فہمی میں خود کاونٹر ہو رہے ہیں ،آپ عوام کو بے وقوف نہیں بناسکتے کیونکہ یہ 70 اور80 کی دہائی نہیں اب عوامی سوچ تبدیل ہو گئی ہے عوام میں شعور آئی ہے عوام آچھی طرح سے آچھے اور بر ے کی تمیز کر سکتی ہے ،پاکستان طرز سیاست کی طرح ہاتھوں کی زنجیریں بنا کر عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتا۔
جس طرح دنیا میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے والے اتحادیں کامیاب ثابت نہیں ہو ئے ہیں اور آپ کے یہ روایتی اور رسمی اتحاد بھی کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں نیک نیتی شامل نہیں ہے،ہاں اس نام نہاد اتحاد سے قوم کا نقصان ضرور ہو رہا ہے اور مزید شدت کے ساتھ ہو گا کیونکہ آج یو بی اے والے چھوٹی حاصل کر دہ طاقت سے تحریک کے آگے رکاوٹ بنے ہیں اگر کل خدا نخواستہ ان کی طاقت میں کسی تیسری زرائع سے اضافہ ہو تا ہو گیا پھر ڈاکٹر اللہ نظر نہ بلوچ قوم اس نقصان کا اندازہ کر سکتا ہے اور نہ آپ جتنے یو بی اے والے گنہگار ہیں اور گناہ گار ہو نگیں اتنے ڈاکٹر اللہ نظر آپ بھی گناہ گار ہیں اور گناہ ہو نگیں کیونکہ آپ نے ان کے وجود کو تسلیم کر کے ان کی مدد کرنا شروع کی اور ان سے مدد لیتے رہے یہاں تک آپ نے حمل حیدر کے زریعے سے فیملی اتحاد کے ساتھ ہاتھوں کا زنجیر بنوا یا کہ ہم قومی اتحاد کی طرف بڑھ رہے ہیں ،میرے خیال میں یہ کوئی قومی اتحاد نہیں ہے بلکیں قومی مفادات کے حصول کے آگے (رکاوٹ اتحاد ) ہے جس کو آسان الفاظ میں بھی ( کاونٹر اتحاد) کہہ سکتے ہیں ۔
اس جدید ترقی یافتہ گلوبلائیزشن دور میں جہاں جدیدٹیکنالوجی ،سائنسی تکنیک اور تاریخ ،شخصیات، سیاسیات ،عمرانیات ،معاشیات اور نظریات بلکیں پوری دنیا اور کائنات پر لکھی گئی نادر و نایاب مقدس کتابیں دستیاب ہوں تو اس قوم کو کبھی بے و قوف نہیں بنایا جا سکتا ،اس نام نہاد اتحاد کے پیچھے جو محرکات ہیں ان تمام کا علم پوری قوم کو حاصل ہے یہ با شعور قوم اب ایسے نام نہاد اتحاد کا ہر گز متحمل نہیں ہوسکتا ۔
بلکیں قومی اجتماعی مفادات کی خاطر خاص طور پر ڈاکٹر اللہ نظر ،براہمدغ بگٹی،اور بی این ایم کے دوستوں آپ کو اپنے اس مکر و عمل کے گرداب سے نکل کر اجتماعی قومی مفادات کے تحفظ کی واضح قومی نظریہ اور انقلابی اصولوں کے معیار کے دامن کو تھام کر حقیقی انقلابی قوتوں اور آزادی کے حقیقی دوستوں کے ساتھ شامل ہو کر اس عظیم مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں حقیقی زندگی تک ساتھ دینا چائیے جس میں پوری
قوم کی خیر خواہی اور بھلائی شامل ہے ۔۔۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0