کراچی۔ بلوچ شہداء کمیٹی کی جانب سے ریلی کا انعقاد

جمعرات 13 نومبر, 2014

کراچی(ہمگام نیوز)13 نومبر بلوچ شہداء ڈے کے مناسبت سے آج بلوچستان بھر کی طرح کراچی میں بھی بلوچ شہداء کمیٹی کی جانب سے ایک ریلی نکالی گئی جو پریس کلب کراچی کے سامنے اختتام پذیر ہوا جہاں پر شہداء کے تصاویر آویزاں کرکے ان پر گل پاشی کی گئی اور چراغاں کیا گیا تفصیلات کے مطابق آج کراچی میں یوم بلوچ شہداء کے مناسبت سے بلوچ شہداء کمیٹی کے زیر اہتمام ایک ریلی نکالی گئی ، ریلی کا آغاز آرٹس کونسل کراچی سے ہوا جس میں کثیر تعداد میں مرد ، خواتین اور بچے شامل تھے ، شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور بلوچ شہداء کے تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور ساتھ ساتھ فلک شگاف آواز میں شہداء کو سلام بھی پیش کررہے تھے ، مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے ریلی کراچی پریس کلب کے سامنے اختتام پذیر ہوا جہاں ریلی نے ایک جلسے کی شکل اختیار کرلی اس موقع پر شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ سر زمین کی حفاظت اور آزاد و خوشحال مستقبل کیلئے ہزاروں کی تعداد میں بلوچوں نے اپنی زندگیاں قربان کردیں ، بلوچ قومی آزادی کیلئے پہلے برٹش راج اب پاکستان کیخلاف جدوجہد کرتے ہوئے ہزار ہا نامور اور گمنام فرزندان وطن نے اپنی جان نچھاور کردی ، آج 13 نومبر کا دن ان تمام شہداء سے منسوب ہے تاکہ انکے لازوال قربانیوں کو یاد کرکے ان کے ساتھ تجدید عہد کیا جائے اور جس مقصد کیلئے انہوں نے قربانی دی اس مقصد کا پیغام ہر ایک بلوچ تک پہنچا کر انہیں اس راہ پر گامزن کیا جائے جس کا منتہائے آخر اجتماعی بلوچ قومی آزادی و خوشحالی ہے ۔ شرکاء نے مزید کہا کہ بلوچ قوم گذشتہ چار سالوں سے 13 نومبر کو بلوچ شہداء ڈے مناتی ہے اور یہ سلسلہ تب جاری رہے گا جب تک روئے ذمین پر ایک بھی بلوچ زندہ رہے گا ، شہیدوں کیلئے ایک دن مختص کرنے اور اجتماعی طور پر اسے منانے کا مقصد ان شہداء کے قربانیوں کا اعتراف اور اس امر کا ادراک ہے کہ بلوچ قومی مفادات کیلئے قربان ہونے والے سردار ، نواب اور ایک عام بلوچ سب برابر ہیں اور سب کی حیثیت اور مقام مساوی ہے ۔ 13 نومبر تاریخی طور پر بھی بلوچ قوم کیلئے ایک اہم دن ہے اس دن برٹش راج نے بلوچستان پر سنہ 1839 میں حملہ کرکے قبضہ کرلیا تھا ، اور یہ وہی دن ہے جب برٹش فوج نے بلوچستان کے دارلحکومت قلات پر حملہ کیا تو اس وقت کے سربراہِ مملکت خان محراب خان عام بلوچوں کے ساتھ ملکر لڑے اور شہید ہوگئے ۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ جب سرزمین پر آنچ آئے تو تمام بلوچ اس کے حفاظت کیلئے ایک ہیں ، یہ دن ہمیں قوم اور وطن کی حفاظت کا سبق سکھاتی ہے ۔ کراچی پریس کلب کے سامنے اجتماع کرنے کے بعد وہاں بلوچ شہداء کی تصاویر آویزاں کی گئی ، ان پر گل پاشی کی گئی اور ساتھ میں شہداء کی یاد میں شمعیں بھی روشن کی گئی ۔ اس ریلی میں مختلف طبقہ فکر کے بلوچوں کے ساتھ ساتھ مختلف بلوچ قوم پرست تنظیموں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ مزید اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاوہ بلوچستان بھر میں یومِ شہداء بلوچستان کے مناسبت سے کئی پروگرام منعقد کی گئی ہیں ، بلوچستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بلوچوں نے اجتماعات منعقد کی ہیں ، کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے شہداء کی یاد میں ایک اجتماع منعقد کیا گیا اور تربت کے علاقے تمپ میں ایک کثیر التعدادی ریلی نکالی گئی ہے اس کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی مختلف اجتماعات منعقد ہوئے ہیں ۔ یاد رہے بلوچ آزادی پسند قوتوں نے 13 نومبر کا دن ان تمام بلوچ شہداء کیلئے مختص کیا ہے جنہوں نے بلوچ قومی آزادی کیئے اپنی جان قربان کی ہیں اور ہر سال باقاعدگی کے ساتھ یہ دن انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0