کراچی۔ نبیل بلوچ کی اغواء و تمپ واقعہ کے خلاف مظاہرہ

منگل 16 ستمبر, 2014

کراچی۔۔ ہمگام نیوز۔۔
بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے کچکول علی ایڈووکیٹ کے جوانسال فرزند
نبیل بلوچ کے اغواء اور تمپ میں عام آبادی کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنانے کیخلاف اور ان واقعات پر انسانی حقو ق کے اداروں کی خاموشی پر کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا مظاہرین نے ہاتھوں میں بینز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر نبیل بلوچ کے اغواء کیخلاف اور انکی بازیابی کے حق میں نعرے درج تھے مظاہرین نے نبیل بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیامظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بی ایچ آر او کے نمائندوں نے کہا کہ بلوچستان کے نامور سیاسی رہنماء کچکول علی ایڈووکیٹ کے فرزند21سالہ نبیل بلوچ کومبینہ طور پر کراچی کے علاقے لیاری چاکیواڑہ سے اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا ہے 5ستمبر کو نبیل بلوچ کے اہلخانہ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ30اگست 2014کو نبیل بلوچ کو کراچی کے علاقے چاکیواڑہ جٹ پٹ مارکیٹ سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اس وقت اغواء کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاجب وہ اپنی بہن کے ساتھ شاپنگ میں مصروف تھے نبیل بلوچ کے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہاتھوں اغواء کی چشم دید گواہ اسکی بہن اور دیگر سینکڑوں افراد ہیں جنکی موجودگی میں بھرے بازار سے انہیں اغواء کیا گیا تھا اس دن سے لیکر آج تک نبیل بلوچ کا کوئی اتاپتا نہیں اور نہ ہی اہلخانہ کو انکے بارے میں کوئی معلومات دی گئی ہیں اہلخانہ کے مطابق انہوں نے سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن میں دائر کی ہے جس پر نوٹس لیتے ہوئے ہائی کورٹ نے نبیل بلوچ کو عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں مگر تاحال انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے عدلیہ کے احکامات کے باوجودنبیل بلوچ کو عدالت میں پیش نہ کرنا قابل مذمت عمل ہے نبیل بلوچ کے اہلخانہ نے میڈیا میں پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا مدعا بیان کیا ہے اورکراچی پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کا انعقاد کیا ہے جو تاحال جاری ہے مگر اب تک نہ حکومت نے اس مسئلے کی جانب توجہ دے کر انکی داد رسی کی ہے اور نہ ہی کسی انسانی حقوق کے کسی بااثر ادارے نے اس واقعے کی جانب توجہ مبذول کیا ہے یہ امر بھی باعث تشویش ہے کہ میڈیا بھی اس بھوک ہڑتالی کیمپ کو خاطر خواہ کوریج نہیں دے رہی حالانکہ یہ انکی صحافتی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے سنگین انسانی مسئلے سے دنیا کو آگاہ کرکے اپنا پیشہ وارانہ فرض نبھائیں بی ایچ آر او کے نمائندوں نے تمپ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عام آبادی پر مارٹر گولے داغنے کو بھی قابلِ مذمت عمل قراردیا انہوں نے کہا کہ جمعے کی شب بارہ بجے کے قریب سیکیورٹی فورسز نے تمپ شہر میں عام آبادی پر مارٹر گولے داغے ایک گھر پر گولے گرنے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ ایک 17سالہ بچی شہنازبنت کریم بخش جو نویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھیں جان بحق ہوگئیں جبکہ ایک ضعیف العمر شخص شاہ مراد اور نورمحمد ولد گوہرام سمیت ایک خاتون وسیلہ زوجہ شاہ مراد اور دو بچیاں زہرہ اقبال اور انیلہ اقبال زخمی ہو گئے تھے جان بحق اور زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی گھرانے سے ہے اور زخمی ہونے والا ضعیف العمر شاہ مراد گزشتہ دنوں کراچی کے ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے دیگر زخمی بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں بی ایچ آر او کے نمائندوں نے ایسے واقعات کو انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیہ کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں ایک طرف بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے آئے روز اغواء و مسخ شدہ لاشیں، اجتماعی قبروں کی دریافت ، عام آبادی پر گولے باری اور فضائی بمباری ، جھلاؤ گھیراؤ روزکا معمول بن چکے ہیں وہیں ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات پر انسانی حقوق کے بااثر عالمی اداروں نے بھی خاموشی اختیار کی ہوئی ہے حالانکہ انسانی حقوق کی اس طرح کی سنگین پامالی کے واقعات کو مدنظر رکھ کران کی روک تھام کیلئے مذکورہ اداروں کو اب تک ایک موثر اور ٹھوس قدم اٹھانا چاہیئے تھا ۔ —

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0