کراچی میں (بی ایچ آر او) کا احتجاجی مظاہرہ

بدھ 31 دسمبر, 2014

کراچی(ہمگام نیوز) بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے سال 2014ء کو بلوچستان بھرمیں فوجی آپریشن، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی و اغواہ نما گرفتاریوں سمیت انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرین نے ہا تھوں میں پلے کارڈ اور بینرر اٹھائے رکھے تھے جس میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف نعرے درج تھے ۔

شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے چیئر پرسن بی بی گل بلوچ نے کہا کہ سن 2014ء کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے گئے فوجی آپریشن ، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی، اغواہ نما گرفتاری ، خواتین پر تیزاب پاشی سمیت دیگر قسم کے سنگین واقعات میں شدت کے ساتھ اضافہ ہوا۔ ڈیرہ بگٹی ، کوہلو، کاہان ، نصیر آباد، قلات ، مستونگ، مشکے ،آواران ، گیشکور ، ڈنڈار ، ہوشاپ ، ہیرونک، شاپک ، شارک ، تربت ، تمپ ، مند ،سمیت بلوچستان بھر میں تسلسل کے ساتھ فوجی کاروائیاں جاری ہے جبکہ متاثرہ علاقوں کے لوگ تیزی سے نقل مکانی کررہے ہیں فوجی کاروائیوں کے دوران فورسز کے اہلکاروں نے گھروں کو آگ لگا کر جلا دیئے مال موشیوں کو لوٹ کر اپنے ساتھ لئے گئے نقل مکانی کرنے والے دوسرے علاقوں میں بے یار و مددگار سخت سردی میں کیمپسری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اغواہ نما گرفتاریوں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات تواتر کے ساتھ جاری ہے مختلف علاقوں سے سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنان ، طالب علم ، صحافی و دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کو جبری طور پر گرفتار کرکے غائب کردیے گئے جن میں اکثریت کی مسخ شدہ لاشیں ویران مقامات یا ندی نالوں سے برآمد ہوئے جبکہ اس سال باشعور استاتذہ کرام کو نشانہ بناکر شہید کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا حالیہ واقعات میں گوادر میں پرائیوٹ اسکول کے بانی و پرنسپل استاد زاہد بلوچ کو سرے عام فائرنگ کر کے شہید کردیا ۔ریاستی خفیہ اداروں نے بلوچ خواتین کیلئے تعلیم کے دروازے بند کرنے کیلئے خواتین پر تیزاب پاشی کا نیا سلسلہ شروع کردیا سن 2014ء کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بلوچ خواتین پر تیزاب پاشی کیا گیا پنجگور و تربت کے علاقے میں طلباء کے اسکول وین پر حملہ کرکے طلباء کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ پنجگور و تربت سمیت دیگر علاقوں میں گرلز اسکولوں پر حملہ کرکے اسکولوں کو نذر آتش کیا گیا جبکہ دیگر واقعات میں بھی خواتین کو نشانہ بنایا گیا ڈیرہ بگٹی کے علاقے سے 5بلوچ خواتین کو جبری طور پر گرفتار کر کے لاپتہ کردیا ۔ جبکہ ریاستی خفیہ اداروں نے مختلف قسم کے ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دیے ہیں جو ریاستی خفیہ اداروں کی ایما پر بلوچستان بھر میں مختلف ناموں سے کاروائیاں کررہے ہیں بلوچ سماج میں مذہبی منافرت پیدا کرنے کیلئے انہی گروہ کے ذریعے زکری و نمازی کا نیا شوشہ چھوڑاجارہا ہے درحقیقت بلوچ سماج میں ایسا کوئی مسئلہ وجود نہیں رکھتا ایسے تمام مسائل ریاستی خفیہ اداروں اور فورسز کے پیدا کردہ ہے۔
اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے عالمی تنظیمیں بلوچستان میں شدت کے ساتھ اضافہ ہونے والے انسانی حقوق کی پامالیوں کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرکے بلوچستان بھر میں انسانی حقوق کے سنگین پامالیوں کا نوٹس لیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0