کراچی میں مزید پانچ تشدد زدہ لاشیں برآمد

منگل 4 نومبر, 2014

 کراچی (ہمگام نیوز)کراچی میں ایک ویران علاقے سے پانچ تشدد شدہ لاشیں ملی ہیں، جن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی حالیہ دنوں میں کراچی سے ملنے والی لاشوں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔

کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں موبائیل فون سروس کی معطلی کے دوران پیر کی صبح مقامی ٹی وی چینلز پر نادرن بائی پاس سے یہ لاشیں برآمد ہونے کی خبر سامنے آئی۔موچکو پولیس نے یہ لاشیں سول ہپستال پہنچائی بعد میں یہ معلوم ہوا کہ یہ لاشیں منگھو پیر تھانے کی حدود سے برآمد ہوئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پانچوں افراد کو کہیں سے لاکر ویران علاقے میں گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا ہے۔اس سے پہلے ملنے والی لاشوں کے بارے میں بھی یہ ہی موقف سامنے آتا رہا ہے۔
سول ہسپتال کے ایم ایل او کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی عمر 20 سے 40 سال کے درمیان ہے، جن کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور انھیں سر اور سینے میں گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا ہے۔
ہلاک ہونے والوں نے قمیض شلوار پہنے ہوئے تھے جن میں سے بعض بڑے گھیر والی شلوار میں ملبوس ہیں۔ رات گئے تک کسی کی بھی شناخت نہیں ہوسکی تھی جس کے باعث لاشیں ایدھی سرد خانے میں منتقل کردی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ ایک ہفتے کے اندر نادرن بائی پاس سے تشدد شدہ آٹھ لاشیں مل چکی ہیں، 27 اکتوبر کو بھی اسی طرح تین لاشیں ملی تھیں جن کے بارے میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین قدیر بلوچ کا دعویٰ تھا کہ وہ جبری لاپتہ بلوچ کارکنوں کی ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0