بولان آپریشن کے دورا ن بلوچ خواتین و بچوں کے اغواء و عدم بازیابی کے خلاف پریس کانفرنس۔بی ایس او آزاد

ہفتہ 21 نومبر, 2015

کراچی (ہمگام نیوز)بی ایس او آزاد کی جانب سے آج کراچی پریس کلب میں بی ایس او آزاد کے زونل کارکن فدا بلوچ کی شہادت و بولان میں آپریشن کے دوران بلوچ خواتین کی اغوا ء وعدم بازیابی کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنماؤ ں نے کہا گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں ریاستی فورسز آگ و خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔بلوچ خواتین و بچوں سمیت عمر رسیدہ بزرگ بھی فورسز کی ان کاروائیوں کا براہ راست شکار ہو رہے ہیں۔ نہتے بلوچ عوام کے گھروں کو قیمتی سامان سمیت نظر آتش کرنا اور گھروں کو بلڈوزکرنا روز کا معمول بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے بارہا اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ میڈیا اور انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کی خاموشی بلوچستان میں جاری ان کاروائیوں کی وسعت کا سبب بنیں گی ،بلوچ اسیران کی زندگیوں کو بھی مزکورہ اداروں کی خاموشی مزید مشکلات میں ڈال دے گی۔ رواں سال کی شروعات میں ہمارے خدشے صحیح ثابت ہونے لگے جب نوشکی کے علاقے سے دورانِ آپریشن لاپتہ اسیران کی لاشیں پھینک کر انہیں مقابلے میں مارنے کا جھوٹا دعوی کیا گیا۔اس واقعے کے چند دنوں بعد تربت میں ایک آپریشن کے دوران بی ایس او آزاد تربت زون کے جنرل سیکرٹری رسول جان بلوچ سمیت پہلے سے فورسز کی تحویل میں موجود چھ بلوچ فرزندان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئیں۔ جن میں سے بیشتر ایک سال سے زائد کے عرصے سے زیر حراست تھے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا ریاست نے بلوچ نسل کشی کی کاروائیوں کو برقرار رکھتے ہوئے 9نومبر کو بولان آپریشن کے دوران 80سالہ بلوچ خاتون ساہتو کو شہید کرنے سمیت درجنوں لوگوں کو اغواء کرلیا جن میں دو درجن سے زائد خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔خواتین و بچوں سمیت تمام مغویان تاحال فورسز کی تحویل میں ہیں۔ رہنماؤں نے کہا 19نومبر کو مشکے میں فورسز نے چارزیر حراست بلوچ فرزندان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک کر انہیں مقابلے میں مارنے کا ایک مرتبہ پھر جھوٹادعویٰ کیا۔ مسخ شدہ لاشوں کی تصاویر جنہیں فورسز نے شائع کیا تھا کودیکھ کر کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ مقتول کئی عرصوں سے اذیت گاہوں میں بند تھے۔ مشکے میں پھینکے جانے والے لاشوں میں تربت کے علاقے ناصر آباد سے تعلق رکھنے والے مہیم ولد محمد بخش، خضدار سے تعلق رکھنے والے عدیل احمد ولد محمد اقبال ، کوئٹہ کے رہائشی عبدالقیوم ولد غلام قادر سمیت بی ایس او آزاد کوئٹہ زون کے سینئرکارکن فدا احمد بلوچ ولد عرض محمد بلوچ شامل ہیں۔ فدا احمد بلوچ آئی ٹی یونیورسٹی کا ایک طالبعلم تھا جسے23مارچ 2014 کو کوئٹہ سے انکے کمرے سے ریاستی فورسز اُٹھا کر لے گئے۔ جہاں شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد2015کی 19نومبر کو دیگر مغوی فرزندان کے ساتھ اس کی مسخ شدہ لاش پھینکی گئی۔بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں اپنے قبضہ گیریت کو برقرار رکھنے، اور اب چائنا سمیت دوسری کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لئے لئے نسل کشی کی کاروائیوں میں مزید شدت لایا جا رہا ہے ۔ جس کے اثرات حالیہ خونی آپریشنوں میں واضح نظر آرہے ہیں۔بلوچ تحریک کا تعلق چونکہ بلوچ عوام سے ہے ۔ اس لئے بلوچ عوام کو تحریک سے دور رکھنے کے لئے کثیر الجہتی کاؤنٹر پالیسیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ ان پالیسیوں میں معاشرے میں موجود منشیات فروشوں، مذہبی منافرت پھیلانے والے گروہوں اور دیگر سماجی برائیوں میں ملوث عناصر و نام نہاد قبائلی سرداروں کو تحریک کے خلاف مسلح کیا گیا ہے۔ جبکہ نفسیاتی حربوں کا استعمال کرکے بلوچ عوام کو خوف زدہ کرنے لئے خوف کو بطورِ ہتھیاربلوچ عوام کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ۔دورانِ سفر لوگوں کو اغواء کرنا، گھروں میں چھاپے اور لوٹ مار کے بعد جلانے کی کاروائیاں، سرعام معزز بلوچوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر ان کی تذلیل کرنا، نہتے لوگوں کو قتل کرنے کی کاروائیاں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ۔ تاکہ قبضہ گیریت کے خلاف جدوجہد کرنے والی بلوچ قوم کو خوف زدہ کرکے آزادی کی تحریک سے دور رکھا جا سکے ۔بلوچستان میں جاری قتل عام و تشدد کی ان کاروائیوں میں خبر کے لئے صرف فوجی ترجمان کے باتوں پر اکتفاء کرنا بد ترین صحافتی بددیانتی ہے ۔ کیوں کہ بلوچستان میں ریاستی فورسز اس جنگ کے خود ایک فریق ہیں۔ صرف ایک فریق کی باتوں کو کو بطورِ حقیقت بیا ن کرنا حقائق کو چھپانے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے عالمی میڈیا اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے نمائندے بھیج کر بلوچستان کی سنگین صورتحال کا جائزہ لیں ۔ کیوں کہ ریاستی فورسز ایک عرصے سے نہتے سیاسی کارکنان و عوام کو بے دردی سے نشانہ بنا کر جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہے ہیں ۔ فورسزتعلیم یا فتہ طبقے کو نشانہ بنا کر بلوچ سماج کو دانستہ مفلوج بنانے کی پالیسی پر عمل پھیرا ہیں ۔ان کاروائیوں میں حالیہ دنوں میں بی ایس او آزاد نال زون کے صدر کمال بلوچ، جھاؤ میں مختیار بلوچ، معراج بلوچ، رسول جان بلوچ، شاہ نواز بلوچ، فد ااحمد بلوچ سمیت سینکڑوں دیگر سیاسی کارکنان نشانہ بن چکے ہیں ۔جبکہ بولان طرز کی کاروائیاں انسانی حقوق کی صورت حال کو پریشان کن حد تک سنگین کررہے ہیں ۔ ہم پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ اگر زمہ دار اداروں نے اپنی خاموشی کا تسلسل برقرار رکھا تو ان کی خاموشی کو ریاستی ادارے اپنا خاموش حمایت سمجھ کر اس طرح کی کاروائیوں میں مزید شدت لا سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0