کریمہ بلوچ علاقائی تنگ نظری کی سیاست کررہی ہے، بلوچ یونائٹیڈ کونسل

جمعہ 27 نومبر, 2015

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ یونائٹیڈ کونسل کے مرکزی آرگنائزرآغا دلسوز بلوچ ایڈوکیٹ نے اپنے ایک جاری کئے گئے ایک بیان میں بی ایس اوآزاد کی آزاد حیثیت پٍر سوال اٹھاتے ہوئے کہاہے کہ ہمیں انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بلوچ طلباء سیاست کے داؤ پیچ کا بیڑہ اٹھانے والے بی ایس او کی آزا دحیثیت کی بات کرکے نہ صرف بلوچ رائے عامہ میں مغالطہ پیداکررہے ہیں بلکہ ان کا یہ پرفریب خیال تعجب خیز ہے ہم عرصہ سے محسوس کررہے ہیں نوجوان ارتقائی سیاسی عمل کے دوران اپنی ناپختہ سوچ خیال پرستی قومی سیاست کے رموز سے نا بلدی اور علاقائی تقسیم کے منفی خیالات سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے تجربات سے استفادہ حاصل کریں گے لیکن ظاہراً بلوچ طلباء سیاست کی زمین پر ہمیں اس کے برخلاف سوچ اور رویہ نظر آرہا ہے ۔ بی ایس او آزاد نے شروع ہی دن سے بی ایس او کے نام سے لفظ آزاد نتھی کرکے بلوچ سیاست میں ایک ابہام اور اُلجھن پیدا کی جو سیاسی منظر نامے کیلئے تعجب خیز ہے کیونکہ ان حالات میں اپنے آپ کو آزاد کہنا اور ایک سیاسی تنظیم کا ذیلی ونگ ہونے کے باوجود عوام کی اکثر یت کو مغالطے میں ڈالنا دہرا معیار کی نشانی ہے۔شروع دن ہی سے ہم نے محسوس کیا کہ بلوچ طلباء تنظیم شہید حمید کے بعد 1980کی دہائی سے مختلف سیاسی پارٹیوں کی ذیلی تنظیموں میں بٹنے کا سلسلہ بن چکا ہے۔اور ایک امید بی ایس او آزاد کے بننے کے بعد سیاسی حلقے میں پیدا ہونے کا احتمال ہوا کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرح بی ایس او آزاد سیاسی پارٹیوں کی مبینہ ذیلی تنظیم بننے کے بجائے حقیقی معنوں میں بلوچ طلباء کی نمائندگی کرنے کا یک متحدہ تنظیم کا کردار ادا کرے گا مگر افسوس کہ شروع دن سے ہی دیگر طلباء تنظیموں کی طرح بی ایس او آزاد صر ف بی این ایم خلیل کے اثر میں آکر بلوچ قومی خواہشات کو فراموش کردیا اور بی ایس او محی الدین، بی ایس او پجار اور بی آر ایس او کی طرح صرف مخصوص علاقائی اور متعلقہ سیاسی پارٹی کے اردگرد گھومتا ہوا نظر آیا جو یقیناًاس کے آزاد ہونے کے لفظ پر ایک سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچ طلباء تنظیم 1980 کے دور میں جب شہید حمید بلوچ زندہ تھاہم اس تنظیم باقاعدہ رکن اور ہم فکر سنگت تھے یہ کہنے میں ہم حق بجانب ہیں کہ ماضی میں نیشنل عوامی پارٹی’’ نیپ ‘‘اور بی ایس او کا ایک ہی متحدہ شکل میں وجود رکھتا تھا اور بلوچ قومی امنگوں کی واحد سیاسی ترجمان ہونے کی حیثیت کی بناء پر بلوچ قوم کی حقیقی معنوں پر ترجمانی کررہا تھا۔آج بی ایس او آزاد جس خوش فہمی کا شکار ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو بی این ایم کے دائر کار سے ابھی تک نہیں نکل سکا جس طرح دوسری طلباء تنظیمیں جو کسی نہ کسی پارٹی کے ساتھ کھلی طور پر وابستہ ہیں اگر بی ایس او آزاد بھی اس غلط فہمی کو دور کرنے میں پہل کرتا اور واضح طور پر اپنے آپ کو بی ایس او ، بی این ایم کے طور پر ظاہر کرتا تو اس میں کوئی ہرج نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت تو سب پر عیان ہے کہ بی ایس او آزاد بی این ایم کا ذیلی طلباء ونگ ہے اور صرف اواران کے علاقائی سیاست کا اثرورسوخ رکھتا ہے وقت اور حالات کے ساتھ ہمارا یہ خیال تھا کی بی ایس او آزاد کے موجوہ نوجوان اب مجبور ہوکر بلوچ قومی خواہشات کے مطابق تمام فکری اور سیاسی رہنماؤں حیربیار مری ، جاوید مینگل ، سردار مہران مری،شہید غلام محمد بلوچ، شہید لالا منیر،شہیداکبر خان بگٹی، خان آف قلات ،اُستاد واحد قمبر اور بزرگ سیاسی رہنماء میر عبدالنبی بنگلزئی جیسے قومی رہنماؤں کو مشترکہ طور پر قومی رہنماؤں کا درجہ دیکر ان کی مثبت پالیسیوں اور سیاسی فکر کی برابری کی بنیاد پر تقلید کرتے ہوئے اپنے آپ کو غیر جانب دار تنظیم کے طور پر ظاہر کرتے لیکن محترمہ کریمہ اسیر چیئر مین زاہد بلوچ کی بازیابی کا انتظار کرنے کے بجائے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے فوری طورپر اپنی چیئر مین شپ کا اعلان کرکے ایک دفعہ پھر بی ایس او کی حقیقی روح کے خلاف اسے ایک ذیلی تنظیم کے طور پر ظاہر کرکے ایک حقیقی تنظیم کا سوچ رکھنے والی فکری طلباء کو مایوسی کی طرف دھکیل دیا۔ چیئرمین بنتے ہی کریمہ بلوچ نے حسب روایت بی این ایم خلیل کی وفاداری کا برملا اعلان کرتے ہوئے علاقائی تنگ نظری پر مبنی سیاست کو محوربنا کر یک طرفہ بیان جاری کرکے بلوچ قومی یکجہتی اور اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہوئے ابتدائی قدم کے ساتھ دانستہ قومی نفاق کی شروات کرتے ہوئے تمام قومی رہنماؤں کے کردار پر ناحق وار کرکے اپنے آپ متنازہ کردیا اور صرف بی این ایم خلیل کو قومی فکر کا پاسبان قرار دیکر بلوچ قومی فکر کے ساتھ دانستہ طور پر بد اعتمادی کا مظاہر ہ کیا انہوں نے کہا کہ ہم شروع ہی دن سے بی این ایم اور دیگر سیاسی پارٹیوں میں رہ کر ہمیشہ اسی سوچ کو پروان چڑھانے کی کوشش کی کہ بی ایس او کو غیر جانب دار رہنا چاہئے تاکہ وہ بلوچ طلباء کے دائر کار میں رہ کر اپنا ایک مشترکہ اور مثبت سیاسی کردار ادا کرے لیکن ہماری مخلص اور دوستانہ مشوروں ہمیشہ نظر انداز کرکے ہمارے اس مثبت سوچ کی مخالفت کی گئی کہ بلوچ طلباء تنظیم پر کسی بھی سیاسی پارٹی اور سیاسی ونگ یا تنظیم کی اثراندازی یا دائراختیار نہیں ہونا چاہئے تاکہ بلوچ طلباء تنظیم اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ قومی سیاست اور اتحاد یکجہتی کیلئے اپنا سفر بہتر رکھتے ہوئے اپنے تعلیمی مسائل اور قومی فکر کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی سطح پر بھی قوم کے نونہالوں کے ایک نشاط راح ثابت ہو۔لیکن بد قسمتی سے شہید سلیم بلوچ اور شہید فدا بلوچ کے وقت سے مختلف موقع پرست لابیاں اپنے مفادات کیلئے بلوچ طلباء تنظیم کو تقسیم در تقسیم کرتے چلے گئے جس کی آج ہم مختلف شکلوں میں اور تنظیموں کی صورت میں بلوچ طلباء کی تقسیم کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کو شخصیت پرست کہنے والے آج خود شخصیت پرستی کو فروغ دے رہے ہیں ۔آج بی ایس او آزاد ایک لابی اور ایک علاقائی سوچ تک محدود ہوکر بی ایس او کو بی این ایم کا ذیلی ونگ بنا کر نئے کرداروں کے ساتھ وابستہ کرکے بی ایس او کے آئین اورمنشور کے ساتھ تاریخی بد عہدی کررہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بی ایس او بجائے ذیلی تنظیم بننے کے بجائے تمام فکری سیاسی اکابرین شہدہ اوربلوچ زبانوں سمیت بلوچستان کے تمام علاقوں کی مشترکہ طورپر ترجمانی کو ترجیح دیں اور حقیقی معنوں میں بلوچ طلباء تنظیم کی با معنی اور فکری تاریخ کو مقدم سمجھتے ہوئے اصولی سیاست کو اپنا نصب العین بنائے ۔ وگرنہ بی ایس او کانسٹی ٹیوشنل سمیت مستقبل میں شخصیات اور علاقائی طلباء تنظیم میں تقسیم ہوکر بی ایس او خاران ، بی ایس او مکران، بی ایس او چاغی، بی ایس او نصیر آباد بننے کے عمل کو شے دینے کی تمام تر ذمہ داری کریمہ بلوچ سمیت موجودہ قیادت اور سنجیدہ طلباء کرداروں پر عائد ہوگی اور یونائیٹڈ کونسل کے پلیٹ فارم سے ہم بلوچ عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ جب تک تمام بلوچ طلباء تنظیمیں ایک فکر ایک نظریہ اور ایک ہی سیاسی دائرکار کے زیر اثر نہ ہوں اور مختلف شخصیات کے ذیلی ونگوں میں تقسم در تقسیم ہونے کے بجائے متحدہ پلیٹ فارم پر نہ ہوں تو قومی فکر کی روح سے کسی بھی طلباء تنظیم کی چندہ یا دیگر طریقے سے اخلاقی مدد کرنے سے گریز کیا جائے اور بلوچستان میں بلوچ طلباء تنظیموں کے درمیان جانب دارانہ سوچ کی روکتھام کیلئے حقیقی معنوں میں اپنا کردار اداکرے۔
image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0