کریمہ بلوچ کی صدارت میں بی ایس او آزاد کے مرکزی کا بینہ کا اجلا س منعقد

جمعرات 9 اکتوبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی کا بینہ کا اجلا س زیر صدارت قائم ئمقام چیر پرسن کر یمہ بلو چ منعقد ہو ئی، اجلا س میں سیا سی صور ت حال تنظیمی اموار اور دیگر ایجنڈے زیر بحث ہو ئے، اجلا س سے خطا ب کر تے ہو ئے کہاکہ بلو چستان کواپنے جغر افیا ئی اہمیت کے وجہ سے بر طا نیہ نے پا کستان کی مدد سے بلو چستان کی آزادی کو چھین کر ہما ری سر زمین پر قبضہ کیا،بلوچستان قد رتی وسائل سے مالا ما ل ہے ان کو لوٹنے کی طر یقہ اپنا یا ہے ۔ پاکستان اسی مقصد کو پانے کیلئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ معاہدات کرکے بلو چ وسائل کو لو ٹ رہا ہے۔اسی طرح کئی برس پہلے سیندک پروجیکٹ معاہدہ ٹیٹھیا ن کاپرکمپنی کے ساتھ طے کرکے بلوچ قوم کی مرضی و منشا کے بغیر وسائل کو لوٹ رہے ہیں۔ نا م نہا د وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک سمیت بلوچستان حکومت کی جانب 20 رکنی وفد کا فرانس دورہ اور ریکو ڈک منصوبہ کے بارے میں ٹیٹھیان کاپر کمپنی(ٹی سی سی) سے عالمی عدالت میں کیس کیلئے جانا سب بلوچ وسائل کی لوٹ مار کے منصوبے ہیں ۔ ریکوڈک میں زیر زمین بلوچ قومی وسائل کا سودابلوچ عوام کی مرضی کے بغیر طے پا چکا ہے ،ایسی کسی بھی لوٹ مار ی کے منصوبوں کو بلوچ عوام نہیں مانتا اور انہیں روکنے اور ناکام کرنے کیلئے ہر وقت جد جہد کرتا آرہا ہے ۔نا م نہا د کٹھ پتلی وزیز اعلی ڈاکٹر مالک ریاستی نمائندہ کی حیثیت سے فرانس گئے ہیں جبکہ بلوچ قوم اپنی آزادی کی جدجہد کررہی ہے اور وہ پاکستان کو قابض مانتی ہے لہذا دوسرے ممالک سمیت ملٹی نیشنل کمپنیاں بلوچستان کے قدرتی وسائل کے حوالے بلوچ قوم کی مرضی و منشا کے بغیر پاکستان سے کو ئی معا ہد ہ نہ کریں۔ ڈاکٹر مالک سمیت بلوچستان حکومت بلوچ عوام کا منتخب کردہ نہیں بلکہ آئی ایس آئی کی آشیربادسے لائی گئی حکومت ہے اس معاہد ہ کو کوئی حیثیت حاصل نہیں،بی ایس او آزاد ایسے معا ہد ہ کو بلو چ قوم کی مرضی منشا ء کے خلا ف سمجھتی ہے ، اور انہو ں نے مزید کہا کہ تر قی کے نا م پر چائنا کے ساتھ ملکر گوادر رپورٹ کے تعمیر کے بہانے سے بلو چ ما ہی گیر وں کی سمندر میں داخلے ہر مکمل پا بندی لگا ئی گئی ہے ،قابض ریاست نہتے بلوچوں کے معاشی قتل کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے اور بلو چ مچھیروں کی روزی روٹی پر قدغن لگا کر انہیں نانِ شبینہ کامحتاج بنانے کیلئے مختلف حربے آزما رہا ہے پسنی اورگوادر میں ماہی گیروں کو سمندر سے بے دخل کرکے شکار کرنے نہ دینا پسنی اور گوادر کے غریب بلوچ جنکا ذریعہ معاش صدیوں سے ماہی گیری چلا آرہا ہے جو انکے پیٹ پالنے کا واحد ذریعہ بھی ہے۔ قابض نے اپنے قبضے کو مضبو ط کرنے کیلئے بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں نیول بیس کا مرکز بناکر بلوچوں کیلئے نو گو ایریا بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان نیوی آئے روز ان غریب ماہی گیروں کو سیکیورٹی کے نام پر سمندر میں شکار کیلئے منع کرکے ان انکی روٹی بھی چھین رہی ہے بلوچ معاش کے ایک اہم ذرائع آمدنی ماہی گیری ہے۔ ریاست یہ سب اپنی معاہدات کو تحفظ دینے کیلئے کررہی ہے ،پاکستان پہلے سے اربوں روپے کا سرمایہ داری کیلئے بڑے ٹرالرز کو سمندر میں اتار کر ٹرالرنگ کے ذریعے بلوچ ساحل کے آبی حیات کی بڑی رحمی سے نسل کشی کرکے اپنی تجوریاں بھر رہی ہے ساتھ ساتھ پاکستان نیوی بلوچستان کے آبی گزرگاہوں کو اپنے ایجنٹوں کے ساتھ مل بڑی تعدا د میں منشیات کی اسمگلنگ کیلئے استعمال کرکے بلوچ سماج میں منشیات کا زہر گول رہا ہے جو نسل کشی کا ایک اور آلہ ہے ۔انہو ں نے مز ید کہاکہ پاکستان قبضہ گیروں کے روش کو برقرار رکھتے ہوئے قبضے کے خلاف بولنے اور جد وجہد کرنے والے بلوچ قوم کے فرزندوں کو روز اٹھاکر لاپتہ کرنے کے بعد مسخ شدہ لاشیں پھینک رہے ہیں۔ بلو چستان کی صورتحال اس وقت انتہا ئی نا زک سطح پر پہنچ گئی ہے،ہر روز بلو چستان کے کسی نہ کسی کو نے میں بلو چ فر زند وں کی لا شیں بر آمد ہو تی ہیں۔ لاشیں اس طرح مسخ اور خستہ حال ہوتی ہیں کہ صرف ہڈیاں اور کھوپڑیاں باقی رہ گئی ہوتی ہیں حال ہی میں پنجگو ر ،پید راک ،کو ئٹہ سے جو لاشیں بر آمد ہو ئی ہیں وہ قابل شناخت نہیں ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ یہ لاشیں لاپتہ بلوچ اسیران کی ہیں لاشوں کی برآمدگی کے بعد اسیران کے لواحقین شدید تشویش میں مبتلا ہیں کہ یہ لاشیں انکے پیاروں میں سے کسی کی بھی ہوسکتی ہیں اور لاشوں کے قابل شناخت نہ ہونے کے سبب لواحقین کی تشویش میں مزید اضافہ ہوگیا ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ لاشوں کو اس طرح ناقابل شناخت بنا کر پھینک دیا گیاہو بلوچستان بھر میں ایسے درجنوں واقعات کی مثال موجود ہیں جن میں بلوچ فرزندان کی قتل کے بعد انکواس طرح مسخ کرکے پھینک دیا گیا ہے یا ویرانوں میں دفنا دیا گیا ہے کہ انکی حالت شناخت کے قابل نہ ہوئی ہوں۔ اجتما می قبر وں کی بر آمد گی جہا ں صر ف دو بلو چ فرزندوں کی لا شیں شناخت ہوئیں ۔با قی سب کو کسی نے نہیں پہچانا، اور پشین کے علاقے یا رو سے لاشوں کو بھی اس طرح دفنادیا گیا تھا کہ انکی شناخت بھی نہیں ہوپائی تھی اور گزشتہ سال جنوری میں خضدار توتک میں اجتماعی قبروں کی دریافت اور ان سے دو سو کے قریب لاشوں کی برآمدگی جو ناقابل شناخت تھے ایسے واقعات کی تازہ اور زندہ مثا ل ہے پوری دنیا میں بلوچوں کے قتل عام کیلئے رسوائی کا سامنا کرنے کے بعد اب پاکستان اور اسکے خفیہ اداروں نے بلوچ اسیران کو قتل کرنے کے بعد شواہد کو چھپا کر اپنے آپکو بری الذمہ قرار دینے کیلئے مختلف ہتھکنڈے آزمانے شروع کردیئے ہیں کبھی اغواء کیئے گئے بلوچ اسیران کو جعلی مقابلوں میں ہلاک کرنے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے تو کبھی قتل کرکے بوریوں
میں بند کرکے یا اجتماعی قبروں میں دفنا کر شواہد کو غٖائب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ اب قلا ت ،مشکے ،تمپ گو ما زی ،سو ئی ،سمیت دیگر علا قوں میں فو جی کا روائی سے نہتے بلو چوں کی قتل عام اور گھر با ر کا جلا ناانسان حقو ق کی کھلی خلا ف ورزی ہے جس کی ہم مذمت کر تے ہیں اور فو ج اور آئی ایس آئی کے اہلکا روں نے اپنی روش کو برقرار رکھتے ہوئے بلوچ فرزندان کے بلا امتیاز اغواء کے سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے لوکل بسوں کو آرمی اہلکا ر روک کر گاڑی میں سکیو رٹی کے بہا نے میں سوار ی کو تلا شی کرتے ہیںیہا ں سے اغو ا بھی کرتے ہیں اس طر ح کے واقعے روز کا معمول بن چکے ہیں پاکستانی فورسز تمام انسانی اقدار کو پاؤں تلے روندتے ہوئے بلو چ قوم کے عمر و جنس کا لحاظ رکھے بغیر تمام طبقے کے افراد کو اغواء کرکے اپنے عقوبت خانوں میں منتقل کررہی ہیں یہ بات باعث حیرت ہے، عالم انسان سے پاکستانی بربریت کے خلاف نوٹس لینے اور بولنے کی اپیل کرتی ہے۔ مزید کہا کہ پوری دنیا میں سب سے بڑی طاقت عوام ہی ہے اور ہماری امید اور طاقت بلوچ عوام ہے ہم عوام کو دنیا کی تما م جدید ہتھیاروں سے بڑی طاقت سمجھتے ہیں اور ہماری ایمان ہے کہ بلوچ قوم کی عوامی طاقت بی ایس او آزادکے ساتھ آزادی کی شاہراہ پر ہر وقت ہر پروگرام میں ساتھ رہ کرجد جہد کو قومی مقصد تک لے جائے گی۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0