کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچ شہداء کمیٹی کا مظاہرہ

جمعہ 13 نومبر, 2015

کوئٹہ ( ہمگام نیوز) آج یوم شہداء بلوچ کے مناسبت سے بلوچ شہداء کمیٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک مظاھرہ کیا گیا ، جس میں بلوچ مرد و خواتین نے ہاتھوں میں بینر اور شہداء کے تصاویر اٹھا رکھے تھے ۔ مظاھرے کے وقت مظاھرین کے ہاتھوں میں شمع روشن تھے اور چہروں پر گائی فاکس ماسک چڑھا ہوا تھا، اس موقع پر مظاھرین اور میڈیا کے سامنے بلوچ شہداء کمیٹی کے نمائیندوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن پورے دنیا میں بسنے والوں اور بلوچ قومی تحریک کیلئے ایک اہم دن ہے اس دن ہر بلوچ ان تمام بلوچ شہداء کو یاد کرتے ہیں اور انکا دن مناتے ہیں جنہوں نے بلوچ قومی آزادی کے حصول کیلئے اپنی جانیں قربان کردیں ۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی میڈیا جمع ہوگئی میڈیا سے بات کرتے ہوئے مکررین نے کہا کہ آج سے 76 1سال پہلے انگریزوں کے ہاتھوں بلوچوں نے اپنی جو قومی آزادی کھوئی تھی اسے حاصل کرنے کیلئے بلوچ قوم 176 سالوں سے پہلے انگریز سامراج کے خلاف اور بعد میں پاکستانی قبضے کے خلاف جدوجہد کررہی ہے تاکہ بلوچ قوم کے بنیادی حق، حقِ آزادی کو حاصل کیا جائے اور بلوچ قوم بھی دنیا کے باقی آزاد قوموں کی طرح خودمختاری اور آزادی کی ساتھ اپنے اختیارات کا خود مالک بن کر باوقار زندگی گذار سکیں ۔ بلوچ قومی آزادی کے بحالی کے اس جدوجہد میں ہزاروں بلوچوں نے اپنی جانیں قربان کردیں ۔ آج کے دن ہم ان تمام بلوچ شہداء کو برابری اور مکمل احترام و عزت کے ساتھ کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ جب تک شہداء کا یہ مشن پورا نہیں ہوتا یہ جدوجہد اور شہادتوں کا سلسلہ جاری رہے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 176 سالہ غلامی کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے بے تحاشہ استعمال اور بربریت کے شکار ہونے کے باوجود بلوچ کٹتے رہے مرتے رہے لیکن وہ کبھی بھی اپنے بنیادی مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے ، اگر بلوچ ڈیڑھ صدیوں سے شہید ہونے کے باوجود اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے تو پھر آج ریاست کو سمجھ جانی چاہیئے کہ جس طرح سے آج اس نے مکران سے لیکر بولان تک بلوچ نسل کشی کے شدت میں اضافہ کرتے ہوئے قتل عام کررہا ہے یہ شہادتیں بھی بلوچوں کا راستہ نہیں روکیں گے ۔ اس موقع پر بلوچ شہداء کے تصایر پر پھول چڑھائے گئے اور انکے سامنے شمعیں روشن کیئے گئے بعد ازاں پریس کلب کے سامنے مظاھرین نے اسکائی لیٹرن روشن کرکے فضا میں اڑایا جس سے پورا ماحول رنگ و نور سے منور ہوگیا ، مظاھرین اپنے ہاتھوں میں بینر اٹھائے ہوئے تھے جس پر سینکڑوں بلوچ شہیدوں کے تصاویر آویزاں تھے اور بعد میں کثیر تعداد میں پمفلٹ بھی تقسیم کیئے گئے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0