کٹھ پتلی حکومت کی طرف سے عام معافی کا اعلان بلوچ قوم کے ساتھ ایک مذاق ہے ،بی این ایم

بدھ 22 جولائی, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ قابض ریاست کی جانب سے پیکج، مصالحتی کوششیں اور دیگر ڈھونگ بلوچ قوم کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے،آج بلوچ اپنی قومی آزادی کی جہد میں بر سرپیکار ہے،ہزاروں فرندوں نے اپنی لہو ،ماؤں نے اپنے لخت جگر کسی مراعات یا چھ و تین نقاط کے لیے نہیں بلکہ قومی آزادی کے لیے قربان کیے ہیں، اسی طرح قابض ریاستی زندانوں میں بیس ہزار بلوچ اسیران بھی کسی ریاستی اسکیم و نواب و سرداروں،میر ومعتبروں کی خوشحالی کے لیے ریاستی اذیت و تشدد کا شکار نہیں بلکہ وہ قومی تشخص کی بحالی کیلئے قربانی دے رہے ہیں۔ دوسری طرف کٹھ پتلی حکومت کی طرف سے عام معافی کا اعلان بلوچ قوم کے ساتھ ایک مذاق ہے ، وہ ہمیں مار کر بلوچ کی نسل کشی کر رہا ہے اور ہمارے لئے ہی عام معافی کا اعلان کرتی ہے۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ1947 میں ایوان بالا اور ایون زیرین کی بلوچستان کا آزاد رہنے کا فیصلہ ایک ریفرنڈم تھا مگربزور شمشیر بلوچستان پر قبضہ کیا ، اس قبضے کے خاتمے تک ہماری جد و جہد جاری رہے گی۔ آزادی کے علاوہ بلوچ قوم کسی دھونس و جھانسے میں نہیں آئے گا۔ یہ امر تاریخ کا حصہ ہے کہ ریاست نے 1948 میں بلوچ سرزمین پر بزور طاقت قبضہ کر کے بلوچ سرزمین کو مقبوضہ بنایا اور آج بلوچ اپنی مقبوضہ سرزمین کی آزادی کے لیے ہر پلیٹ فارم پر کامیابی کے ساتھ جد و جہد کر رہی ہے،عام معافی و دیگر مراعات کا ڈھونگ چند نام نہاد اپنی کرسی و ذاتی مراعات کی خاطر رچا رہے ہیں جس سے بلوچ قوم کا نہ کوئی واسطہ تھا اور نہ ہے اور کوئی بھی خان،نواب سردار اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ وہ ریاستی کاسہ لیسی سے بلوچ قومی غلامی کومزید دوام دے سکے گا۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ ریاستی بربریت اور بلوچ نسل کشی میں ان تمام عناصر کا ہاتھ شامل ہے جو پاکستانی آئین و پاکستان کے دائرہ کار کا حصہ ہیں یاسمجھوتہ کر رہے ہیں یا پس پردہ ریاست کی قبضہ کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ بلوچ قوم کی شعوری جہد اب ان عناصر اور قابض ریاست کے خلاف آزادی پر ہی دم لے گی۔ترجمان نے آواران آپریشن کے بارے میں کہا کہ عید الفطر کو موقع بنا کر عوامی رد عمل سے بچنے کیلئے فورسز نے کولواہ کے مختلف علاقوں میں بمباری کی مگردشمن رد عمل سے محفوظ نہ ہوسکا، بلوچ قوم نے آزادی پسندوں کا ساتھ دیا۔ ان علاقوں کا گھیراؤ ختم نہ کرکے شہدا کی لاشوں کے لواحقین کے حوالے اور متاثرین کی مدد کاجلد ہی موقع نہ دیا گیا تو جلد ہی آئندہ لائحہ عمل ترتیب دیکر کولواہ کے شہدا کی تدفین اور متاثرین کی بحالی کا راستہ کھولنے کیلئے کٹھ پتلی سرکار پر دباؤ ڈالیں گے۔ پانچ دن میں علاقے کے گھیراؤ کا مقصد اپنی جرائم کا چھپانا ہے۔ دوسری طرف عالمی برادری کی خاموشی نے بلوچ نسل کشی پر چھوٹ دے رکھی ہے۔ 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0