گریشہ میں قابض فورسز نے علاقہ گھیرے میں لیکر لوٹ مار کی، بی ایس او آزاد

جمعہ 18 ستمبر, 2015

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بی ایس او آزاد کے مرکزی ترجمان نے آج نال کے علاقے گریشہ میں ہونے والے فوجی آپریشن اور اس کے نتیجے میں بی ایس او آزاد کے زونل صدر کمال بلوچ کی شہادت اور سینکڑوں لوگوں کی اغواء کے خلاف 20ستمبر بروز اتوار بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی فورسز نے نیشنل پارٹی کی ایماء پر بلوچ نوجوانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن ایک عرصے سے شروع کررکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج گریشہ کے مختلف علاقوں کو قابض فورسز کے زمینی و فضائی دستوں نے گھیرے میں لیکر لوٹ مار کی۔ بِدرنگ، زباد، اور مختلف علاقوں سے سینکڑوں لوگوں کو اغواء کرکے فورسز اپنے ساتھ لے گئے۔ جب کہ بی ایس او آزاد کے زونل صدر کمال بلوچ کے گھر پر چھاپہ مار کرریاستی فورسز نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی فورسزو نام نہاد قوم پرست پارٹیاں اپنی لوٹ مار و کاروباری سیاست کو بچانے کے لئے تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں سمیت آزادی پسند بلوچ عوام کو مسلسل نشانہ بنے رہے ہیں۔ رواں سال بی ایس او آزاد کے شہید شاہ نواز، شہید معراج، شہید رسول جان، شہید اعجاز و دیگر کارکنان سمیت سینکڑوں بلوچ فرزنداں ریاستی فورسز کے ہاتھوں شہید کیے جا چکے ہیں۔اور یہ سلسلہ روز بہ روز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ریاستی فورسز، اور بلوچستان میں سیاست کرنے والے نام نہاد پارلیمانی پارٹیوں کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینی چا ہیے کہ بلوچ تحریکِ آزادی ایک عوامی تحریک ہے جسے ریاستی طاقت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچ عوام کی تحریکِ آزادی سے شعوری وابستگی کو ریاستی فورسز کسی صورت ختم نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ شہید کمال بلوچ سمیت ہزاروں شہدا ئے آزادی نے اپنے مقدس خون کا نذرانہ دے کر تحریک آزادی کی آبیاری کی ہے۔بلوچ قومی بقاء و انسانی برابری کے لئے جدوجہد کرنے والے عظیم بلوچ شہدا کی قربانیاں نہ صرف بلوچ قوم کے لئے حوصلہ و فخر کا مقام ہیں بلکہ دنیا کی دیگر محکوم قومیں بھی اپنی قومی آزادی و برابری کی جدوجہد میں بلوچ شہدا کی خون سے رہنمائی لیتی رہینگی۔بی ایس او آزاد کے ترجمان نے بلوچستان بھر کے تاجر برادری ، ٹرا نسپورٹرز اور تمام کاروباری حلقوں سے اپیل کی کہ وہ 20ستمبر بہ روز اتوار ریاستی فورسز کی دہشتگردی کے خلاف ہڑتال کو کامیاب بنا کرقومی غلامی سے اپنی نفرت کا اظہار کریں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0