گوریلا جنگ کے پانچ بنیادی اصول،تحریر :میران بلوچ

پیر 13 نومبر, 2017

گوریلا وار نیشنل وار کی مانند ہے۔ جو قومی آزادی کی خاطر زیادہ تر لڑا جاتا ہے اس کو ملک میں انقلاب لانے کے لیے بھی لڑا گیا ہے۔فرنچ جنگی دانشورHenri, baron de Jomini نے گوریلا جنگ کو قومی جنگ کا نام دیا ہے ،بہت سے دانشوروں کے مطابق گوریلا جنگ احتجاج کا مضبوط ترین ہتھیار رہا ہے جو قابض کے خلاف استعمال کیا گیا۔ فارس کے حکمران دارا اول جو 512تک ایک بڑی سلطنت پہ حکمرانی کررہا تھا۔ جو اپنے دور میں دنیا کا سپر پاور مانا جاتا تھا۔ جس کی مضبوط ترین فوج تھی۔ لیکن تاریخ میں پہلی بار سیکھتی لوگوں نے اس کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے ہوئے اس کی فوج کو شکست دی۔سکندر اعظم،ھانی بال،جیسے جنرلوں کو بھی گوریلا جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اور وہ گوریلا جنگ سے مشکلات میں پڑ گئے۔ گوت ھا۔اورہن نے رومن سلطنت کو گوریلا جنگ کے ذریعے شکست دیکر اپنی وطن ان سے واپس لے لی۔ Magyars نے گوریلا جنگ کے ذریعے ہنگری کو حاصل کیا۔وائی کنگ نے ائرلینڈ،انگلینڈ،اور فرانس کو گوریلا جنگی حکمت عملی کے ذریعے قبضہ کیا،منگولوں نے چین اور سنٹرل یورپ تک کو گوریلا جنگ کی وجہ سے دہشت زدہ کیا۔جدید گوریلا جنگ سیاسی اور ملٹری ناطے اور قرابت سے لڑا جاتا ہے۔اگر ملٹری سے سیاست نکالا جائے تو وہ دہشت گردی کے زمرے میں شمار ہوکر اپنی نیشنل وار اور احتجاج کی افادیت کھو کر کمزور ہوکر ختم ہوجاتا ہے۔ اور دنیا کی نظروں میں وہ ایک دہشت گرد گروہ اور پریشر کے تحت لیے جاتے ہیں۔ اور متوقع نتائج گوریلا گروپ کو نہیں مل سکتا ہے۔گورریلا جنگ کے پانچ بنیادی اصول ہوتے ہیں اگر انکی خلاف ورزی کی جائے کوئی بھی گوریلا جنگ متوقع نتائج نہیں دے سکتا ہے۔
1 ۔ پالیسی،کسی بھی گوریلا اور قومی جنگ کی پالیسی مکمل طور پر واضح ہوتی ہے۔ اور پالیسی کے بغیر کوئی بھی جنگ لوگوں میں پزیرائی حاصل ہی نہیں کرسکتا ہے۔یہ جنگ پالیسی کے تحت لوگوں اور دنیا کو دکھاتا ہے کہ یہ جنگ صحیح معنوں میں حقیقی جنگ ہے یا کہ مصنوعی جنگ ہے یا کہ منافع خوری کی جنگ ہے۔ اس کو پارٹی پالیسی واضح کرتا ہے۔
2 ۔ دوسرا بنیادی اصول عوامی حمایت ہے کسی بھی گوریلا جنگ میں عوامی حمایت بہت ضروری ہے کیونکہ گوریلا عوام سے نکلتے ہیں۔ اور عوامی حمایت ہی اس پانی کا چشمہ ہوتا ہے۔ کوئی پاگل گوریلا ہی عوامی حمایت سے خود کو دور کرسکتا ہے۔ Georgios Grivas,جو ایک گریک گوریلا تھے جس نے قبرص کی جنگ کی کمان کی۔ اس کا کہنا ہے کہ گوریلا جنگ کی کامیابی کا کسی بھی طرح کا چانس نہیں ہے جب تک اسے علاقے کے لوگوں کی مکمل حمایت حاصل نہ ہو۔
3 ۔ تیسرا بنیادی اصول مضبوط اور ڈسپلین قائم کرنے والا لیڈر کا ہونا،گوریلا جنگ کا لیڈر وہ ہو جس کو اپنے آپ اور اپنی کاز پر مکمل اور کامل یقین ہو ٹیٹو،لارنس، ماوُ، ہوچی منہ، کاسترو، لینن فلپائن کے ،Luis Taruc، اسرائیل کےMenachem Begin کنیا کے جموکنیتا، ملاین کے چن فنگ، الجیریا کے احمد بن بیلا سمیت تمام لیڈران نے اپنے ہمدردوں، حامیوں اور پیروکاروں کو اپنی پالیسیوں اور مضبوط کازکی وجہ سے گرویدہ بناکر منظم کرتے ہوئے اپنی منزل حاصل کی۔ ان لوگوں نے لگن والا، پُرجوش اور جوشیلا نظم وضبط قائم کرتے ہوئے ملٹری جنگ کو سیاست سے جوڑتے ہوئے اپنی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
4 ۔ چوتھا بنیادی اصول تنظیم اور قیادت کا اتحاد، تنظیم کے اندر ہم آہنگی پیداکرتے ہوئے منظم انداز میں جدوجہد کو جاری رکھنا شامل ہے۔
5 ۔ پانچوان بنیادی اصول ملٹری طاقت جو جدید تربیت اور ہتھیاروں سے لیس ہوکر جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اگر یہ سب بنیادی اصول کسی بھی تحریک یا کہ گوریلا تنظیم میں ہوں وہ جنگ کو اپنے منطقی انجام تک لے جاسکتا ہے ورنہ جنگ جیتنا مشکل ہوگا۔ بلوچستان میں حیربیار مری نے پانچویں جنگ آزادی کی بنیاد رکھی۔ اس میں شروعات کے دور میں تمام بنیادی اصولوں کے مطابق کام ہوتا رہا۔ لیکن بعد میں نئی تنظیمیں بنتی گئیں۔ اور نئے چلنجز آتے گئے۔ جس سے جدوجہد ڈی ٹریک ہوتا گیا۔ اور اب قومی جنگ آزادی نیشنل وار کے بجائے عوامی حمایت سے دن بہ دن محروم ہوتا جارہا ہے۔ اور جنگ آزادی میں گوریلا پانچوں بنیادی اصول ناہونے کے برابر ہیں۔ عوامی حمایت کا سرمچاروں کی بے لگامی کی وجہ سے جنازہ نکل چکا ہے۔ عوامی حمایت بہت ہی محدود ہے۔ اور پالیسیاں ماسوائے حیربیار مری کے سب کی مبہم اور زنگ زدہ ہیں، ماسوائے بی ایل اے کے، جہاں اس کی قیادت کے سامنے سب پر ڈسپلین یکسان لاگو ہوتا ہے۔ بڑا کمانڈر ہو یا چھوٹا سب پر ڈسپلین کا یکسان نظام موجود ہے۔ جبکہ باقی پارٹیوں اور تنظیموں میں چھوٹے سپاہیاں جو غلطیاں کریں تو وارث،خلیل ساچان،عابد زمرانی،ٖفضل حیدر کی طرح ان کو موت کے گھاٹ اتارے جاتے ہیں۔ انھیں مارا جاتا ہے۔ جبکہ اسی طرح کی سنگیں غلطیاں جب کوئی کمانڈر صاحبان کریں تو ان کو غلطیوں اور بلنڈرکے بدلے جنگی ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ اور انھیں غلطی اور بلنڈر میں استثنی حاصل ہے۔ اب کیا اس طرح کی ناانصافی،حق تلفی اور دیدہ ودانستہ غفلت اور غفلت ارادی سے قومی جنگ جیتا جاسکتا ہے؟ کیا اس طرح کی تنظیموں سے قومی لیڈر ابھر سکتے ہیں؟ کیا اس طرح کی تنظیموں سے جنگی لیڈر پیدا ہوسکتے ہیں؟ کیا اس طرح کے عوام مخالف اور ڈسپلین کی دھجیاں اڑھانے والی تنطیموں سے چے، احمد بیلا، جموکنیتا، جارج واشنگٹن، ہوچی منہ جیسے لوگوں کے نکلنے کی امید کی جاسکتی ہے؟ کیا چھوٹے سے اختیارات اور طاقت کو برداشت نہ کرنے والی گروہ سے آزاد ریاست کی تشکیل کی امید کی جاسکتی ہے؟
بلوچ قومی تحریک میں گوریلا جنگ کی ان پانچ اصولوں کی پاسداری کونسی تنظیم اور لیڈر کررہا ہے، کونسا لیڈر اپنی پالیسیوں پر کوہ ہمالیہ اور چلتن کی طرح ڈٹا ہوا ہے اور کونسا لیڈر برابری کی بنیاد پر یکسان ڈسپلین لاگو کررہا ہے، کونسا لیڈر عوام اور قوم کو تحریک کے لیے مقدم سمجھ چکا ہے، اور کون سے لیڈر سے اپنی چھوٹی سی طاقت برداشت نہیں ہورہا ہے۔ اور اسے دشمن کی بجائے اپنے عوام پر استعمال کررہا ہے۔اب قوم کے شعوریافتہ لوگوں اور جہدکاروں کو ان چیزوں پر سوچنا ہوگا اور شعوری حوالے سے صحیح سمت اور راستہ کا چناوُ کرنا ہوگا تب جاکر وہ ان پانچ گوریلا اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے جدوجہد کو باقی کامیاب جدوجہد کی طرح کامیابی سے ہمکنار کرسکیں گے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0