گھرکوآگ لگی گھرکےچراغ سے،:تحریر بیروز بلند


تضادات، اختلافات، غلطیاں، تنقید، بحث مباحثے دنیا کے تمام تحریکوں میں وجود رکھتے ہیں. ماضی میں جنم لینے والے انقلابی تحریکوں سے یہ بات انتہائی سبق آموز اور قابل غور ہے کہ جب تحریکوں میں تضادات نے جنم لیا، اختلافات پیدا ہوئیں تو انکا سبب غلطیاں ہی بنیں. اختلافات، تضادات، غلطیاں صرف تحریکوں کے ہی دامن سے پیوست نہیں بلکہ یہ معاشرے میں ہمیں ہر جگہ نظر آئینگے. چائے وہ دو بھائیوں کے درمیان ہو یا ایک ملک و ملکت کے درمیان ہو. انکا ہونا اتنا اہمیت کا حامل نہیں ہوتا بلکہ انکا حل قابل غور ضرور ہوتا ہے. کیونکہ غلطیوں کا اگر ازالہ نہ کیا جائے تو غلطیاں آگے چل کر نقصان کا سبب بنتے ہیں اور اختلافات و تضادات کو حل کرنےکے لیئے اگر سنجیدگی سے غور و فکر اور ان کو جنم دینے والے غلطیوں کا ادراک نہ کیا جائے تو یہ مستقبل میں بدگمانیوں سے ہوتے ہوئے نفرت اور پھر آخر میں ایک دشمنی کی روپ دھار کر سب کو تہ و بالا کرتے ہوئے نیست و نابود کردیتے ہیں.
دنیا میں جہاں بھی انقلابی تحریکوں نے جنم لیا مگر اندرون خانہ تضادات، اختلافات اور غلطیوں سے لاپروائی برتنے پر برائے نام ہی کے انقلابی تحریک رہے. محدود وقت میں صفحہ ہستی سے مٹ گئے. منزل تو در کنار انکا انجام نہایت ہی عبرتناک ثابت ہوا. جبکہ دوسری طرف کامیاب انقلابات بھی تاریخ کے پنوں میں موجود اپنے کامیابی کے گیت سناتے ہوئے پائے جاتے ہیں. جہاں غلطیوں کی وجہ سے تضادات اور اختلافات نے جنم لیا مگر ان کو تحریک کے زبوں حالی کا موجب بننے نہیں دیا گیا بلکہ ان کا سنجیدگی سے سیاسی انداز میں حل سدباب کیا گیا. تنقیدی کلینک سے علاج معالجہ کیا گیا اور بطور میڈیسن بحث مباحثوں کا احتمام کیا گیا. اور ایک سیاسی طریقہ کار سے ایک مہلک لیکن قابل علاج مرض کا علاج ممکن بنایا گیا.
ہمارے ہاں یہ ہماری بد قسمتی ہی رہی ہے کہ جب تضاداتی آندھی تحریک میں نمودار ہوتی ہے تب ہم اس کو حل کرنے کے بجائے مزید الجھانے میں ہی پیش پیش رہیں ہیں. اختلافات و تضادات کا علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹر حضرات ہی اکثر اپنے نالائقی کی وجہ سے آپریشن ہی ناکام کر بیٹھتے ہیں اور سارے کا سارا الزام مرض پر آکر رک جاتا ہے کہ جی مرض پہلے سے ہی اتنا جان لیوا ہوچکا تھا کہ مریض کا بچانا نا ممکن سا ہوگیا تھا.
حالیہ تحریک بھی ہمارے ہی کردہ غلطیوں کے وجہ سے کثیر التعداد تضادات کا شکار ہوچکا ہے. یو بی اے کا مسئلہ، بی ایل ایف کی احمقانہ پالیسیس، گروہیت، مفاد پرستی، نمود و نمائش، جہدء آجوئی کے مشن پر کام کرنے سے زیادہ زات کی پروجیکشن ، تحریک کے بجائے نام کی آہ و بقاء، سیاسی تنظیموں میں مداخلت، اپنے کردہ بداعمالیوں سے غفلت اور دوسرے کے اچھے کاموں پر بھی اعتراض، دھوکہ دہی، اسلم و بشیر زیب کی من مانیاں یہ تضادات ہیں جن پر ہر زی شعور مرد و زن کا آج اختلاف موجود ہے اور وہ اپنے رائے سوشل میڈیا پر عوام الناس کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں.
نیم حکیم خطرہ جان، نیم ملا خطرہ ایمان، نیم کمانڈر خطرہ تنظیم و تحریک. انہی نیم کمانڈران ( اللہ نظر، بشیرزیب، اسلم بلوچ) کی وجہ سے آج تحریک کئی مشکلات کا شکار ہوکر رہ گئی ہیں. ان کے ہی غیرزمہ دارانہ افعال اور غیر موثر حکمت عملیوں کی وجہ سے تحریک واپس وہاں جاکر ٹھر گئی جہاں ہماری بقاء، ہماری تمام تر محنت رائیگان جانے کا خدشہ بڑھتا چلا جارہا ہے.
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب مہران مری کا مسئلہ پیش آیا اور سنگت نے اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مہران سے پوچھ گچھ کے لیئے نواب خیربخش مری سے رابطہ کیا تو نواب صاحب نے اس معاملے کو اندرون خانہ حل کرنے کی تجویز دی تو سنگت نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والد کے سامنے کھڑا ہونے کی بجائے قومی سیاست سے کنارا ہوجائینگے. مگر اسلم بلوچ کی آو بقا منت سماجت کہ آپ نا رہے تو ہم سیاسی یتیم ہوجائینگے جیسے جملوں کا استعمال کرکے اس مسئلے کو خود ( اسلم بلوچ) ہینڈل کرنے کے لیئے راہ ہموار کی. سنگت نے مکمل اختیار اسلم بلوچ کو دیا جسکا زکر بشیر زیب نے اپنے آرٹیکل ” آذادی کے مختصر سفر میں __ کچھ نضادات میرے سامنے ” زکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ “جب سنگت حیربیارمری لندن میں گرفتار ہوئے انکی گرفتاری کے دوران ان کی تمام زمہ داریاں زامران مری نے سنبھال لی لیکن جب وہ رہا ہوکر باہر آئے تو ان کی رہائی کے چند مہینے بعد دوستوں کے سامنے یہ بات عیاں ہوئی کہ زامران مری اور حیربیار مری کے درمیان کرپشن کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں اور یہ مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے اسی سلسلے میں وقتاًفوقتاًمختلف دوست اس سلسلے میں نواب صاحب سے ملتے رہتے تھے اسی دوران نواب صاحب کے ہدایت پر حیربیار مری نے زامران مری کو کام کرنے کے حوالے سے ایک موقع دیا اور مسئلے کو دوستوں کے سامنے غور کرنے کے لئے رکھ دیا، لیکن اسی دوران کچھ عرصے بعد زامران مری نے پھر سے حیربیار کے زیرنگرانی کام کرنے سے انکار کردیا اور ایک سیاسی تقریب میں شرکت سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں حیربیار مری کے زیر نگرانی کام نہیں کروں گاجب اس صورتحال سے نواب صاحب کو آگاہ کیا گیا کہ تو نواب صاحب نے حیربیار مری پر یہ دباو ڈالا کہ آپ کا چھوٹا بھائی ہے کسی بھی طرح سے اسے سنبھالو پھر اچانک ایک ہفتے بعد حیربیار کا بیان سامنے آیا کہ لیڈر شپ کے درمیان اختلافات ہیں اگر اختلافات حل نہیں ہوئے تو میں تحریک سے کنارہ کش ہوجاؤنگا ۔فون کے ذریعے حیربیار سے رابطہ کرکے بیان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا زامران غیر ذمہ داری کررہا ہے کام کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ نواب صاحب بضد ہے کہ آپ ہر حالت میں اسے اپنے ساتھ چلاؤ میں نے مجبور ہوکر یہ بیان جاری کیا ہے کہ اگر یہ معاملہ ایسا ہے تو میں کنارہ کشی اختیار کرونگا لیکن دوستوں نے سنگت حیربیار مری کو یہ رائے دی کی یہ مسئلے کا حل نہیں ہے ہم دوبارہ سے نواب صاحب سے مل کر اس مسلئے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے ہمیں یقین ہے کہ یہ مسئلہ ضرور حل ہوجائیگا”.
یہ پیراگراف اس آرٹیکل سے اقتباس کیا گیا ہے جس میں بشیرزیب لکھتے ہیں کہ ” میری تحریر میں جھوٹ یا کوئی بے بنیاد بات اگر کوئی ثابت کردے تو میں بحیثیت ایک قومی مجرم قومی عدالت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں ” . آج جس طرح اسلم بلوچ اللہ نظر اور بشیر زیب کے ساتھ مل کر سنگت حیربیار کو ان تمام واقعات کا مجرم ٹھرریا جارہا ہے تو یہ اعمال خود بشیرزیب کے کردار پر انکے لکھے گئے الفاظ پر ایک سوال بن کر اشارہ کررہی ہیں کہ کل بشیرزیب مکمل پختہ یقین کے ساتھ جو لکھ رہا تھا آج اپنے انھی الفاظ سے انکاری ہے اور کل جو ان باتوں میں زرہ برابر کی بھی جھوٹ پر قومی مجرم ہونے کو راضی تھا آج اللہ نظر اور اسلم بلوچ کے ساتھ مل کر خود اپنے الفاظ سے انحراف کرتے ہوئے خود کو قوم کے سامنے ایک جھوٹا شخص بنادیا ہے. اب سوال یہ پیدا ہوتا یے کہ کیا ایسے کردار پر عوام بھروسہ کرتے ہوئے اسکے ہاتھ مضبوط کرے؟ یا ایسے ہی کرداروں کی وجہ سے عوام تحریک سے دور ہونگے ؟ انکے خلاف بی ایل اے کے ہائی کمان کا ایکشن ایک مثبت اور مضبوط تنظیمی ڈسپلن کی عکاس ہے جہاں جھوٹوں، مکربازوں اور اپنے ہی تھوکے ہوئے کو چھاٹنے والوں کے لیئے کوئی جگہ نہیں. اور ایسے عوامل کا مرتکب ہوا۔خواہ وہ سپاہی ہو یا کمانڈر اسے احتساب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی ایک کامیاب سوچ کی عکاس ہے.
آج جس طرح اسلم بلوچ اپنا دامن پہ تمام گند کو سنگت حیربیار کے کھاتے میں ڈال رہیں ہیں کہ سنگت حیربیار نے نواب صاحب سے دشمنی کی اور یو بی اے کا جنم ہوا تو اس کے لیئے یہی دلیل کافی ہوگی کہ سنگت نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیئے مکمل اختیار اسلم بلوچ کو دیا تھا اور اس ضمن میں اسلم بلوچ کے کم و بیش 3 ملاقاتیں نواب صاحب سے ہوئی تھی. اسی بات کا اقرار بشیرزیب اپنے اسی آرٹیکل میں کچھ یو بیان کرتے ہے کہ ” ہم نے کوشش کی کہ معاملے کا کوئی حل نکالے۔استاد اسلم کو ہم نے مشورہ دیا کہ آپ باقی سارے کام چھوڑ کر نواب صاحب کے پاس جاکر مسئلے کا کوئی حل نکال لیں۔اسلم بلوچ نے بھی تمام حالات اور مجبوریوں کے باوجودنواب صاحب سے ملنے کاذمہ اٹھایااورنبی دادمری کو ساتھ لے کر نواب صاحب سے ملنے چلا گیا”.
بشیر زیب کے ان الفاظ سے یہ بات مکمل واضح ہوجاتی ہے کہ اسلم بلوچ اس تمام واقع میں سب سے زیادہ پیش پیش تھی. نواب صاحب سے ملاقات اور پھر سنگت حیربیار کو احوال اسلم بلوچ ہی دیتے تھے. اور سنگت براہ راست نواب صاحب سے رابطے میں نہیں تھے. جو کہا اسلم بلوچ نے کہا اور مسئلہ اتنا الجھا تب بھی بشیرزیب، اللہ نظر اور اسلم بلوچ ہی ان تمام واقعات میں برابر کے شریک ہیں. مگر آج یہ حضرات خود کو چائے سے مکھی کی طرح نکال کر اس معاملے کی تمام تر زمہ دار سنگت حیربیار کو بناکر خود کو بری الزمہ کرنے کی ناکام کوشش کررہیں ہیں کیونکہ سنگت گراونڈ پر نہیں تھا اور سنگت نے گراونڈ پر موجود اسلم بلوچ اور بشیرزیب اور اللہ نظر کو اس مسئلے کو سلجھانے کی زمہ داریاں دی گئی تھی. اور آج مسئلہ کس حد تک الجھ گیا یہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں.
یہاں یہ الزام بھی الزام ہی رہ جاتا ہے کہ بقول اسلم بلوچ بی ایل اے فرد واحد ( سنگت حیربیار ) کے اشاروں سے چلتا ہے. اگر سنگت واقعی میں ایسے ہوتے جیسے اسلم بلوچ اپنے انٹرویو میں سنگت پر الزام لگاتے ہیں تو کیا زامران کے اس مسئلے کو سنگت حیربیار نواب صاحب کے کہنے پر گھر کا مسئلہ سمجھ کر درگزر نہیں کرتے؟ ایک ہی خون کا رشتہ ہونے کی وجہ سے کونسا بھائی یہ چاہے گا کہ اسکے خاندان کے معاشرے میں جگ ہنسائی ہو اور لوگ اسکے بھائی کو کرپٹ کہے ؟ لیکن سنگت حیربیار نے وطن دوستی کی مثال بنتے ہوئے خونی رشتے کو تحریک پر تقویت نہیں دی بلکہ ایک ملزم کی حیثیت سے اپنے بھائی کا احتساب کروانا چاہا. اور اس بابت اسلم بلوچ بشیرزیب اور اللہ نظر کو اتنے بڑی زمہ داری سونپ دی. مگر افسوس کہ جن کو زمہ داری سونپی گئی وہی اس مسئلے کو الجھانے میں سب سے زیادہ پیش پیش نظر آئے.
اسلم بلوچ اپنے بے عزتی کو جواز بناکر نواب خیربخش مری سے بدلا لینا چاہتے تھے اور اللہ نظر اپنی تنگ نظری کی وجہ سے یو بی اے کی اس لیئے پشت پنائی کررہی تھی کیونکہ یو بی اے اللہ نظر کو تھوڑی بہت مڈی دیتا رہتا۔اور اسی بابت بشیر زیب نے اپنے آرٹیکل میں اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ” اسی دوران ہم سے ملنے کیلئے جب استاد حمل اپنے چند دوستوں کے ساتھ آئے تو دوران ملاقات دوستوں سے پتا چلا کہ بی ایل ایف اور یو بی اے استاد حمل والے کیمپ کو مشترکہ طور پر چلا رہے ہیں قادر مری کے دوست اور استاد حمل کے دوست ایک ہی کیمپ میں ایک ساتھ کام کررہے ہیں استاد حمل کے دوستوں میں شہید حکیم جان اور ان کے ایک کزن عرف کمبر میرے بہت ہی پرانے اور قابل اعتبار دوست تھے جب میں نے کمبر سے یہ پوچھا کہ یہ یو بی اے اور بی ایل ایف والا کیا چکر ہے یہ استاد حمل اور آپ دوستوں کا علاقائی فیصلہ ہے یا اس بارے میں بی ایل ایف کی قیادت اور ڈاکٹر اللہ نظر بھی علم رکھتے ہیں؟ تو کمبر نے مجھے کہاکہ یہ سب کچھ ڈاکٹر صاحب کی رضامندی سے ہوا ہے ڈاکٹر صاحب اور قادر مری کے اچھے تعلقات ہیں اورضرورت پڑنے پر ہمیں قادر مری تھوڑی بہت فوجی سازوسامان بھی مہیا کرتے ر ہے ہیں.
اس واقعے سے یہ تو عیاں ہوگیا کہ کل اللہ نظر نے بی ایل اے تھوڑنے والوں کو اس لیئے سپورٹ کی کہ یہ اللہ نظر کو مڈی مہیا کرتے ہیں اور آج اللہ نظر اسلم بلوچ اور بشیر زیب کو اس لیئے پناہ دے رہا ہے کیونکہ یہ بی ایل اے کو ایک بار پھر تھوڑنے میں اس کی مدد کر رہے ہیں اور ایک مدر آرگنائزیشن کو اپنے بچگانہ فیصلوں سے بدنام کرنے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں. اللہ نظر نے کل بھی قومی مفاد پر زاتی مفاد کو ترجیح دی اور آج بھی اللہ نظر قومی مفاد پر زاتی مفاد کو ہی ترجیح دے رہا ہے.
اعمال الفاظ سے زیادہ شور مچاتے ہیں اس کا عملی نمونہ آج اللہ نظر کے اعمال کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں. اور اسکے رنگ برنگے ٹوئیٹز اور بیانات بھی ہمارے آنکھوں کے سامنے عیاں ہیں. اپنے ہی رنگ میں اللہ نظر اسلم بلوچ کو بھی رنگ کر اپنا جیسا بناکر ایک نئی رکاوٹ تحریک کے لیئے بنا رہا ہے. اسلم بلوچ کے بارے میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ اسلم لوگوں کی باتوں میں آکر بہت جلد اپنا رائے بدلتا رہتا ہے اور یہ آج سے نہیں ایک طویل عرصے سے اسلم کے بارے میں کئی جارہی تھی مگر اب جاکر اندازہ ہوا ہے کہ اسلم بلوچ جو خود کو عقل کل سمجھتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں . جسکا اندازہ ہمیں اس بات سے ہورہا ہے کہ کل تک اسلم بلوچ اللہ نظر کو تحریک کے لیئے نقصان دہ اور رکاوٹ مانتا تھا آج نائلہ قادری کی باتوں میں آکر اس کو ہی ہمسفر بناکر سنگت حیربیار اور بی ایل اے سے دغا کررہا ہے.
یہاں اسبات کا ذکر انتہائی لازمی ہے کہ ایک طویل عرصے تک بی ایل ایف کو سنگت حیربیار بلامشروط انداز میں سپورٹ کرتا رہا. اس بابت سنگت کو کئی سنگتوں نے یہ مشورہ دیا کہ اس کمک کو مشروط کیا جائے مگر سنگت نے بلا کسی شرط کے بی ایل ایف کی سپورٹ جاری رکھی. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سپورٹ کو ختم کیوں کیا گیا ؟ اسکے جواب میں لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر بات کو طویل کرنے کے بجائے میں مرکزی نقطے پر بات کرونگا. یو بی اے کا مسئلہ اور مہران کی کرپشن کے بابت اور بی ایل ایف اور بی ایل اے کو ایک نام بنانے کے لیئے بشیر زیب کچھ دوستوں کے ساتھ 3 ماہ تک اللہ نظر کے کیمپ میں قیام پزیر رہے. اور بلا کسی نتیجے کے واپس لوٹ کر بولان کیمپ تشریف لائے اور ایک رپورٹ بناکر سنگت حیربیار کو پیش کی گئی کہ بی ایل ایف کی قیادت قومی مسئلوں پر سنجیدہ نہیں ہے اور وہ بی ایل ایف کا بی ایل اے میں ضم ہونے کے حق میں نہیں ہے. اسلیئے بی ایل ایف کی غیر مشروط کمک کو روک دی جائے اور اسکے خلاف فیصلہ کن کاروائی کی جائے. اس بات سے قطع نظر کے خلیل بلوچ نے سنگت حیربیار کو بی این ایم کا چیئرمین بنانے کی دعوت دی تھی مگر سنگت نے اس سے عہدہ لینے سے معزرت کی تھی یہ بات غور طلب ہے کہ کل تک اللہ نظر اور بی ایل ایف کو ختم کرنے کے دعوے دار ( اسلم بلوچ بشیرزیب) آج اللہ نظر کے دامن میں اپنے سیاہ اعمال کو صاف کرتے ہوئے بی ایل ایف سے ایک کاغذی اشتراکی عمل کا اعلان کرچکے ہیں کاغذی اس لیئے لکھا کہ اس اشتراکی عمل کا کوئی بھروسہ نہیں یہ چائنا کی موبائل کی طرح ہے چلا تو بہت اچھا نہیں تو اسٹارٹ ہوتے ہیں ڈیڈ.
اس تحریر کی توسط سے کچھ ایسے واقعات کا ذکر اور ایسے اعمال کی نشاندہی کرنا مقصود تھا جس کو لےکر اسلم بلوچ اللہ نظر اور بشیر زیب سنگت حیربیار پر بلا جواز اپنے کیئے گناہوں کا بوجھ ڈال رہے ہیں. ایک طرف 3 سالہ تنقیدی پروگرام میں لکھے گئے اسلم بلوچ و بشیرزیب کے آرٹیکلز اور دوسری طرف آج کی ان کی انحرافی حرکات اس بات کو سمجھنے کےلیئے کافی ہیں کہ یہ حضرات کل بھی اپنے مفادات کو لیکر آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کررہی تھی اور آج پھر اپنے ہی مفادات کو تقویت دیتے ہوئے ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرے میں پیٹرول لیئے کھڑے ہیں. اور انکا ایجنڈہ آذادی نہیں بلکہ زاتی مفادات کا تحفظ ہے اسی لیئے آج اللہ نظر ایران کا پروکسی بن کر ایران کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے اسکے مظالم سے چشم پوشی کررہا ہے اور اسلم و بشیر زیب مذہبی دہشت گردوں کے آلہ کار بن کر ان سے پیسے لیتے ہیں اور تحریک میں ابہام پھیلانے کا موجب بنتے جارہے ہیں.
انکی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سنگت حیربیار اور بی ایل اے ہے جس کو کمزور کرنے کے لیئے اللہ نظر پہلے یو بی اے کا استعمال کررہا تھا اور اب اسلم و بشیر کا استعمال کرتے ہوئے بی ایل اے کو تھوڑ کر بی ایل اے کو کمزور کرنا چاہتا ہے. تاکہ اس انتشار کے عالم میں وہ اپنا راستہ صاف کرسکے.
لیکن یہ خواب خواب ہی رہے گا کیونکہ آج کا بلوچ باشعور اور حالات سے واقفیت رکھنے والا ہے اور وہ ایسے کسی بھی مکروہ عزائم کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے.