آواران نسل کشی: ہمگام اداریہ

اتوار 19 جولائی, 2015

        بلوچستان میں قابض پاکستان کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی کی تاریخ نئی نہیں ہے ، لیکن گذشتہ طویل عرصے سے سول آبادیوں پر بمباریوں ہزاروں کی تعداد میں بلوچوں کو ماورائے قانون اغواءاور سینکڑوں کی تشدد زدہ مسخ شدہ لاشوں کو بلوچستان کے طول و عرض میں پھینکنے کے باوجود اقوام متحدہ ، مغربی ممالک اور انسانی حقوق کے علمبرادار عالمی اداروں کی حیران کن خاموشی سے حوصلے پاکر اب قابض ملک پاکستان نے بلوچ آبادیوں پر یلغار اور بلوچ نسل کشی میں ہوشربا تیزی پیدا کردی ہے اور اس پر طرہ بلوچستان خاص طور پر اندرون بلوچستان میں ہر سطح کی عالمی اور علاقائی میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کرکے بلوچوں کی آواز کو دبانے میں بھی کامیاب ہورہا ہے ۔
ان شدید ترین آپریشنوں میں سے سب سے خونریز آپریشن تادم تحریر بلوچستان کے علاقے آوران کے قصبوں ، مالار ، کولواہ ،مچی اور زیک میں جاری ہے ۔ اطلاعات کے مطابق مسلمانوں کے مقدس تہوار عید کے روز علی الصبح شروع ہونے والے اس آپریشن میں پاکستان کے گن شپ ہیلی کاپٹر ، جیٹ طیارے اور ہزاروں کی تعداد میں پیدل دستے حصہ لے رہے ہیں ۔شدید ترین بمباری کی وجہ سے تین بلوچ بستیاں مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس بمباری سے خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 100 سے زائد بلوچ شہری جانبحق اور درجنوں شدید زخمی ہیں ، لیکن ابتدائی طبی امداد نا ملنے اور علاقے کا محاصرے میں ہونے کی وجہ سے خدشہ یہ ہے کہ جانبحق ہونے والے افراد کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے ، محاصرے کی وجہ سے ایک طرف زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد نہیں مل پارہی تو دوسری طرف خوراک و پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہوگئی عینی شاھدین کے مطابق کئی لاشیں جن میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں ابتک بے گورو کفن پڑے ہوئے ہیں لیکن پاکستانی فوج میڈیا تو درکنار آس پاس کے علاقے کے لوگوں تک کو اس علاقے میں رسائی نہیں دے رہا ۔ مزید اطلاعات کے مطابق نا صرف ان علاقوں میں کئی بلوچوں کو شہید کیا جاچکا ہے بلکہ کئی بلوچ شہریوں کو جبری طور پر اغواءکرکے پاکستانی فوج اپنے خفیہ قید خانوں میں منتقل کرچکا ہے جن میں خواتین بھی شامل ہیں ، عید کے روز فضائی بمباری کے بعد پاکستانی فوج آواران کے علاقے زیک میں بھاری نفری کے ساتھ گھس گئی اور لوٹ مار کے بعد پوری بستی کو آگ لگادی اور دوسرے بلوچ مردوں کے ساتھ ساتھ ایک عمر رسیدہ خاتون سمیت اسکی بیٹی کو بھی اغواءکرکے لے گئے ۔
حالیہ دنوں میں دنیا بھر کے دہشت گردانہ واقعات کا تجزیہ کیا جائے جو سعودی عرب ، امریکہ ، تیونس ، عراق سمیت مختلف ممالک میں رونما ہوئے ، ان سب میں سے آواران نسل کشی سب سے بڑا دہشت گردانہ کاروائی ہے ، لیکن بلوچستان میں میڈیا بلیک آوٹ اور عالمی اداروں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اتنا بڑا دہشت گردانہ واقعہ جس میں دو دنوں میں سو سے زائد افراد جانبحق اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں اور جسے ایک فوج باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کررہا ہے عالمی میڈیا کجا لوکل میڈیا کی توجہ بھی نا کھینچ سکی ، اور علاقائی میڈیا بھی محض پاکستانی فوج کے جاری کردہ بیانات پر اکتفاءکررہی ہے جس میں عام شہریوں کو مزاحمت کار ظاھر کرکے اپنے گناہوں اور ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے ۔
پاکستان اور چین کے حالیہ اقتصادی معاہدوں کے بعد مبصرین و تجزیہ کار اس بات کا عندیہ دے چکے تھے کہ آنے والے دنوں میں بلوچستان میں ایک خونریز آپریشن کا آغاز کیا جائے گا اور ایک سلسلہ وار منصوبے کے تحت بلوچستان کے ان علاقوں جن کو پاکستان و چین اپنے معاہدوں کے سامنے رکاوٹ سمجھتے ہیں وہاں سے بلوچ آبادیوں کو زبردستی بیدخل کیا جائے گا ، اب یہ حالیہ آپریشن یہی ظاھر کررہے ہیں کہ پاکستان اب اپنے مکمل قوت کے ساتھ بلوچ نسل کشی میں شدید اضافہ کرکے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا شروع کرچکا ہے ۔واضح رہے کہ گذشتہ دنوں بلوچستان کے نام نہاد سیکریٹری داخلہ اکبر درانی اس بات کا اقرار کرچکے ہیں کہ پاکستان بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ڈرون طیارے استعمال کرنے اور ڈرون حملے کرنے کی تیاری کرچکا ہے اور اس مد میں پاکستانی فوج کو اسکے نام نہاد جمہوری حکومت کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے ، اس امر سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کے آنے والے دنوں میں بلوچستان میں بلوچ نسل کشی کا دائرہ اور شدت مزید وسیع ہوجائیں گے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0