ہمگام نوشت

جمعہ 17 جون, 2016

تین ممالک ایران، افغانستان اور پاکستان میں منقسم سرزمین بلوچستان اپنی سٹریٹجک پوزیشن کی وجہ سے خطے میں معاشی طور پہ تیل و گیس کی ترسیل ، صنعتی و معدنی پیداوار اور منڈیوں کے درمیان نہ صرف ایک پل بننے جا رہا ہے، بلکہ خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی، معاشی اور دفاعی صورتحال اور نئی عالمی صف بندیوں کے پیش نظر یہ سرزمین اپنی اسی سٹریٹجک پوزیشن کے سبب مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔ چین کی گوادر بندرگاہ کی تعمیر، بھارت کی چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر اور ان بندرگاہوں سے جڑے ہزاروں کلومیٹر ریلویز، موٹر ویز و لاجسٹک سائٹس کے تکمیل پانے والے منصوبوں اور قابض ایرانی و پاکستانی مقتدرہ کی چین و بھارت کے ساتھ طے کرنے والے معاہدات میں سرزمین بلوچستان کے باسی نہ شامل ہیں، اور نہ ہی ان کی مرضی و منشا سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ ہاں البتہ بلوچ قوم کے فرزند ان منصوبوں کے مقاصد کی آگاہی ضرور رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی بلوچ فرزندوں کو محکومیت و قبضہ گیریت کی جبر سے جنم لینے والی شعوری آگاہی نے قومی آزادی کیلئے عملی جدوجہد کرنے کا راستہ دکھایا ہے۔ یہی شعوری آگاہی بلوچ قومی جہد آزادی کو پروان چڑھا رہا ہے۔ اب جبکہ چین و روس میں قائم ہونے والی سرمایہ دارانہ حکومتوں ، چین کی اپنی معاشی مقاصد کے تحت ایشیاء و افریقہ کے اہم بندرگاہوں پر براجمان ہونے ، نئی صف بندیوں کے تحت چین و روس کی امریکہ و اتحادی ممالک کے منصوبوں و پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور چین کی بحیرہ جنوبی چین میں کنٹرول حاصل کرنے و اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں نے نیٹو ممالک اور خاص طور پہ امریکہ میں نئے صدارتی انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے قیام کے بعد ان ممالک کی خارجہ پالیسیوں میں تبدیلی کے امکانات کو نمایاں کردیا ہے۔ یقیناً سرزمین بلوچستان اپنی سٹریٹجک پوزیشن کی وجہ سے ان خارجہ پالیسیوں میں نمایاں اہمیت حاصل کر لے گا۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچ قوم کے فرزند، خاص طور پہ بلوچ آزادی پسند قوتوں کو (جو کہ ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہیں) آنکھیں کھلی رکھنے کے ساتھ ساتھ بہتر حکمت عملی اپنانا چائیے۔ اس لئے آج کی یہ صورت حال بلوچ آزادی پسند قوتوں سے متحدہ پلیٹ فارم کی تشکیل کا متقاضی ہے۔وقت کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر بلوچ قوم دوست رہنما حیربیارمری نے نہ صرف اتحاد کی پیش رفت کو آگے بڑھایا، بلکہ دو اہم نقاط پیش کرنے کے ساتھ ایک کمیٹی تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا۔ لیکن دوسری جانب سے تا حال کوئی خاص پیش رفت دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ماسوائے بی ایل اے کی جانب سے کمیٹی تشکیل دینے کے اعلان کے۔ ہر چند کہ تمام آزادی پسند قوتیں متحدہ پلیٹ فارم کی ضرورت کو محسوس کررہے ہیں۔ اور بلوچ عوامی خوائش بھی یہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متحدہ پلیٹ فارم کی تشکیل میں کون سی مصلحتیں آڑے آ رہی ہیں ؟ یا کیا خوف دامن گیر ہے ؟ اگر بلوچ آزادی پسند قوتیں اپنے فکر و مقصد کے ساتھ مخلص ہیں، اگر آزادی کے حصول کیلئے جہد و اس سلسلے میں منزل پانے کیلئے ایمانداری سے قدم بڑھا رہے ہیں۔ تو پھر ان کو اس سلسلے میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اور حکمت عملی ترتیب دینا ہوگا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0