ہندو تاجروں کے اغواء کے خلاف دس اگست کو قلات میں ہڑتال ہوگی۔ بی این ایم قلات ہنکین

جمعرات 6 اگست, 2015

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل موومنٹ قلات ہنکین کے ترجمان نے اپنے ایک اخباری بیان مین کہاہے کہ قلات سے اغواءہونے والے بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگی اور ہندو تاجروں کے اغواءکے خلاف 10اگست کو قلات میں شٹر ڈاﺅن ہڑتال ہوگی قلات تاجر برادری اور عوام سے اپیل ہے کہ وہ ہڑتال میں تعاون کرکے بلوچ فرزندوں کے اغواءاور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے تاجروں کی بازیابی کے حوالہ سے احتجاج ریکارڈ کریں ترجمان نے کہاکہ قلات سے اغواءکئے گئے بلوچ فرزندوں ثناءاللہ شاہوانی باقرقمبرانی عالمگیر قمبرانی اور آغا وہاب کے بیٹے سمیت کئی بلوچ فرزندجنہیں ریاستی فورسز نے مختلف اوقات میں اغواءکرکے لاپتہ کردیا ہے جن کی بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے جبکہ اغواءہونے والے حفیظ قمبرانی کو شہید کرکے ان کی لاش پھینکی گئی تھی جبکہ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرچکاہے کہ ایک ہندو تاجر کو قلات سے اغواءکیا گیا بعدازاں ان کے بھائی راجیش کمار کو بھی اغواءکیا گیاترجمان نے کہاکہ ہندو برادری صدیوں سے بلوچستان میں رہ رہے ہیں جس طرح بلوچ اس سرزمین کا مالک ہے اسی طرح ہندو برادری اس سرزمین کو اپنی دھرتی ماں سمجھتے ہیں انہوں نے ہمیشہ بلوچستان کی حفاظت و سلامتی کے لئے قربانی دی بلوچ ریاست نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں اس سے قبل صدیوں کے تاریخ میںان کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہیں آیا لیکن اب مقامی ریاستی اشرافیہ انہیں تاوان کی غرض سے اغواءکرنے انہیں تسلسل کے ساتھ نشانہ بنا یا جارہاہے ترجمان نے کہاکہ ریاست تمام تر انسانی اقدار کو پائمال کر کے معصوم بلوچوں کو لاپتہ کررہاہے بلوچ قوم کے لئے ان کی اپنی وطن میں زمین تنگ کردی گئی ہے اس طرح کے ہتھکنڈوں سے بلوچ قوم کو ان کے منزل آجوئی سے دور نہیں کیا جاسکتا یہ ایک مرحلہ ہے گزر جائیگالیکن ریاست عالمی قوانیں کی خلاف ورزی کرکے جو جی میں آئے بلوچوں پر ظلم ڈھارہاہے اخلاقی اصول اور انسانیت کے کسی بھی رشتہ کا پاس نہیں رکھا جارہاہے ترجمان نے کہاکہ بلوچ فرزندوں اور ہندو تاجروں کے اغواءکے خلاف تاجر برادری سے 10اگست کو دکانیں بند رکھنے ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہڑتال میں بی این ایم کا ساتھ دیں

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0