ہیرونک میں ریاستی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔ بی آر ایس او

جمعہ 10 اکتوبر, 2014

ہیرونک میں بی آر ایس او کے کارکنوں سمیت معصوم بلوچ فرزندوں پر ریاستی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔بلوچستان کی سرزمین کو بلوچ قوم کے لیے تنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔بی آر ایس او

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ ری پبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے ہیرونک میں عید کے با برکت دنوں میں بھی ریاستی فورسز کی طرف سے نہتے بلوچ فرزندوں پرظلم و جبر جاری رہا ، عید کے دنوں میں ریاستی فورسز نے ہیرونک میں نہتے بلوچ فرزندوں کو تشدد کا نشانا بنایا جسکی ہم شدید مذمت کرتے ہیں ۔گزشتہ چار دنوں سے ہیرو نک میں ریاستی درندگی جاری ہے روز ریاستی اہلکار علاقے میں آکر نہتے لوگوں پر بلہ وجہ تشدکرتے ہیں اورمعصوم بلوچوں کے گھروں پر چھاپوں کے دوران چادر اور چار دیواری کی تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔ ہیرونک میں بی آر ایس او سمیت آزاد بلوچستان کے مقدس پرچم کی بے حرمتی کرتے ہوئے ریاستی اہلکاروں نے دیواروں پر بی آر ایس او کی وال چاکنگ بھی مٹاد یئے ۔ بی آر ایس او کے مر کزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین کو بلوچ فرزندوں کے لیے تنگ کیا جا رہا ہے لوگ کافی تعداد میں مختلف علاقوں سے نکل مکانی کر چکے ہیں اور سندھ کے علاقوں میں رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے خاص طورپردشت اور ڈیرہ بگٹی سے بڑی تعداد میں لوگ نکل مکانی کرچکے ہیں اور سندھ کے علاقوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ریاستی فورسز اور خفیہ ادارے مذہبی انتہاءپسندی کو فروغ دے کر بلوچ آبادیوں کو خالی کرواکر ان علاقوں میں مذہبی انتہاءپسندوں کو محفوظ ٹھکانے فرائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بلوچستان کی تحریکِ آزادی کو کاﺅنٹر کیا جا سکے ۔جبکہ بین القوامی انسانی حقوق کے اداروں اور اقوام متحدہ کی خاموشی اس ریاست کو مزیدبلوچ قوم کی نسل کشی کا جواز بخش رہی ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0