یمن: بمباری میں ’120‘ ہلاک، سعودیہ کا جنگ بندی کا اعلان

اتوار 26 جولائی, 2015

 ریاض (ہمگام نیوز) یمن کے صوبے تعز میں فضائی حملوں کے نتیجے میں میں 120افراد مارے گئے ٗ سعودی عرب کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان پر عملدر آمد (آج)پیر سے ہوگا جبکہ اتحادیوں نے کہاہے کہ جنگ بندی کے دوران حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی عسکری نقل و حرکت پر اس کے خلاف کارروائی کا حق اسے حاصل رہے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کا اعلان تعز صوبے میں فضائی حملوں کے بعد ہوا ہے جہاں عام شہریوں سمیت 120 لوگوں کے مارے گئے اتحادی فوج کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں نے بحیرہ احمر کے شہر موخع میں ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا جس سے عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں۔مارے جانے والوں میں بورھے اور بچے بھی شامل ہیں۔رضاکار طبی ادارے ڈاکٹرز وداؤٹ بورڈر کے حسن بوسینین نے کہا کہ اس سے یہ واضح ہے کہ اتحادیوں کی جانب سے فضائی حملے کے کیا رجحانات ہیں انھوں نے کہا کہ اب وہ گھر ٗ بازار اور ہر چیز کو نشانہ بنا رہے ہیں تعز کے ایک رہائشی عبدالقادر الجنید نے بتایا کہ انتہائی بنیادی ضرورتوں کی شدید قلت ہے جن میں ڈیزل اور سبزیاں شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں بجلی منقطع ہے ٗ انٹرنیٹ نہیں ہے ہر چیز منقطع ہے رضاکار امدادی ایجنسیوں کے مطابق یمن پر پابندی نے انسانی بحران کو ابتر بنا دیا ہے ملک کی ڈھائی کروڑ آبادی میں سے 80 فی صد سے زیادہ افراد کو کسی نہ کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔سعودی عرب کے مطابق باغی فضائی حملوں سے بچنے کیلئے رہائشی علاقوں میں پناہ لے رہے ہیں تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ آبادی والے علاقوں میں بمباری کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔سعودی عرب میڈیا کے مطابق 5 روزہ جنگ بندی کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ جنگ زدہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچایا جاسکے جنگ بندی کا فیصلہ یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی درخواست پر کیا گیاجنگ بندی پر عملدر آمد (آج)پیر سے ہوگا سعودی اتحاد کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن میں جنگ بندی کے دوران متاثرین کو ادویات اور خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔بیان کے مطابق حوثی باغیوں نے جنگ بندی کے دوران حملہ کیا تواتحادی ممالک اس کا بھرپورجواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0