یومِ شہداء بلوچ کامیابی کے ساتھ دنیا بھر میں منعقد

اتوار 15 نومبر, 2015

طویل بلوچ جدوجہد آزادی کے دوران ہزاروں بلوچ شہید ہوچکے ہیں ، ان شہداء میں سے بہت سے وہ ہیں جو دشمن کے خلاف عسکری یا غیر عسکری جدوجہد کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے اور کئی ایسے ہیں جو دشمن کے غیر انسانی بربریت جس میں سول آبادیوں پر اندھا دھند فائرنگ ، بمباری ، گولہ باری وغیرہ کے زد میں آکر شہید ہوئے لیکن یہ سب شہداء اس راہ کے شہید ہیں جس کا منتہائے آخر مکمل بلوچ قومی آزادی اور بلوچ قومی ریاست کی بحالی ہے ۔دنیا میں تمام زندہ قومیں اپنے وطن پر مر مٹنے والے شہداء کو ہمیشہ اپنے یادوں میں زندہ رکھتے ہیں اور کماحقہ عزت و احترام سے نوازتے ہیں اور خاص طور پر وہ اقوام جنہوں نے خون کی ندیاں بہا کر اپنی آزادی حاصل کی یا اپنے آزادی کی حفاظت کی ان میں شہداء کی قدر و منزلت بہت اونچا ہوتا ہے ۔ بلوچ بھی ان اقوام میں شمار ہوتا ہے جو اپنے آزادی کیلئے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں دوسرے اقوام کے شہیدوں کی طرح بلوچ شہداء کا بھی حق اور قوم کا فرض بنتا ہے کہ ان شہداء کو کماحقہ منزلت اور عزت دیکر ہمیشہ ہمیشہ تک کیلئے یادوں میں زندہ رکھا جائے۔ حالیہ سالوں میں بلوچ شہادتوں کی تعداد میں اس حد تک اضافہ ہوچکا ہے کہ اگر بلوچ تمام شہداء کی برسیاں منانے لگیں تو سال کے دن کم پڑ جائیں۔ اس لیئے سال 2010 سے بلوچ قوم نے 13 نومبر کو اپنے شہیدوں کے دن کے طور پر منانا شروع کیا اور بہت ہی جلد پوری بلوچ قوم نے اس دن کو اپنا کر اسے منانا شروع کردیا۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی 13 نومبر کو یومِ بلوچ شہداء بلوچستان سمیت دنیا بھر میں انتہائی عقیدت و احترام اور جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی اور بلوچستان سمیت دنیا کے ہر کونے میں شہداء کے مناسبت سے کوئی نا کوئی سرگرمی دِکھائی دی۔ برطانیہ کے شہر لندن میں ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں شہداء کے کردار پر روشنی ڈالی گئی تھی ، جرمنی میں کثیر تعداد میں بلوچ جمع ہوکر جرمنی کے ایک چوراہے پر شہداء کی تصاویر آویزاں کرکے اور موم بتیاں جلاکر احترام کا اظہار کیا اور ساتھ میں بلوچستان اور شہداء کے بارے میں آگاہی مہم چلاتے رہے۔ سویڈن میں سویڈن سوشلسٹ پارٹی کی حمایت کے ساتھ بلوچوں نے شہداء کی یاد میں ریفرنس اور ایگزیبیشن منعقد کیا ، جنوبی کوریا میں بھی شہداء اور بلوچستان کے بارے میں آگاہی مہم چلائی گئی۔
بلوچستان میں ہر سال کی طرح اس سال بھی بلوچ شہداء کمیٹی نے پورے بلوچستان میں شہداء کے حوالے سے مختلف پروگرام منعقد کیئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک خاموش مظاھرہ منعقد ہوا جس میں شرکاء نے گائی فاکس ماسک پہنے ، ہاتھوں میں شمیں لیئے شہداء کے تصاویر اٹھائے ہوئے تھے جہاں بعد میں فضا میں اسکائی لیٹرن بھی اڑائے گئے ، قلات میں ایک یادگاری ریفرنس منعقد ہوا اور سبی میں بھی ایک یادگاری ریفرنس کا انعقاد ہوا جہاں بلوچ مرد و خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی جہاں پورے حال کو شہداء کے تصاویر سے سجایا گیا تھا ، اسی طرح تمپ میں بھی ایک ریفرنس کا انعقاد ہوا جس میں بلوچ شہداء کے کردار پر گفتگو ہوئی اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کی گئی ۔ بلوچستان بھر کی طرح کراچی میں بھی ایک یادگاری ریفرنس منعقد ہوا جس میں بلوچ مردو خواتین نے شرکت کی اور بلوچ شہداء اور ان شہداء کے تحریک پر اثرات پر بات ہوئی ریفرنس کے بعد فضاء میں شہداء کی یاد میں اسکائی لیٹرن جلا کر چھوڑے گئے جس نے لوگوں کی توجہ دور دور سے کھینچ کر اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوا ۔ بلوچ شہداء کمیٹی کے علاوہ بلوچ سالویشن فرنٹ اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے پورے بلوچستان میں شٹر ڈاون ہڑتال کی کال دی تھی جس کی وجہ سے جزوی ہڑتال رہی۔
جس طرح سے تمام طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچوں نے یوم شہداء بلوچ کے موقع پر اپنے شہیدوں کو یاد کیا انہیں خراج عقید پیش کی اس نے بلوچ شہیدوں کو یادوں کی صورت میں ایک بار پھر سے زندہ کردیا ، یہ دن شہیدوں سے منسلک ہوکر ان کے مقصد کے بغیر ادھورا ہے اس لیئے یہ دن اب صرف شہیدوں کا دن نہیں رہا بلکہ بلوچ قومی آزادی کیلئے تجدید عہد کا بھی دن ہے۔یقیناًاس دن کا اتنے جوش و خروش سے منایا جانا قابض ریاست اور دنیا کیلئے ایک پیغام ہے کہ جن لوگوں کو دشمن دہشت گرد قرار دیکر شہید کررہا ہے ان لوگوں کو بلوچ سماج میں کتنی زیادہ قبولیت ، عزت اور احترام حاصل ہے اسکے ساتھ ہی شہداء کا یہ ایک دن منانا بلوچ سیاست میں موجود گروہیت و انفرادیت پسند سوچ کیلئے بھی ایک جھٹکا ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0