یوم بلوچ شہداء ایک سنگِ میل

اتوار 16 نومبر, 2014

13 نومبر کو بلوچستان سمیت پوری دنیا میں یوم بلوچ شہداء کے نام سے منایا گیا ، اسی نسبت سے مختلف پروگرام منعقد ہوئے ۔ تمپ میں بلوچ شہداء کمیٹی کے جانب سے بلوچ شہداء کی یاد میں ایک ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین اور بچوں نے شرکت کی، کراچی میں ایک ریلی نکالی گئی جس کا اختتام کراچی پریس کلب کے سامنے ہوا جہاں شہداء کی یاد میں چراغاں کیا گیا اور ان کے تصاویر پر گل پاشی بھی کی گئی ،کراچی کے ہی علاقے ملیر میں بھی رات کے وقت بلوچ شہداء کی یاد میں چراغاں ہوا، کوئٹہ میں بھی اسی طرز کا ایک ریلی نکالا گیا جو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اختتام پذیر ہوا جہاں شہداء کی یاد میں شمع روشن ہوئے ، اسی طرح سانگان میں بھی بلوچ خواتین اور بچوں نے شہداء کی تصاویر آویزاں کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ،پنجگور اور تربت میں ریفرنسس منعقد ہوئے اس کے علاوہ مختلف بیرونی ممالک میں بھی پروگرام منعقد ہوئے جن میں قابلِ ذکر کینیڈا ، برطانیہ ، سویڈن اور جنوبی کوریا ہیں ۔ شہداء کمیٹی کے علاوہ کراچی میں بلوچ یکجہتی کونسل ، بی ایس او آزاد ، بی آر پی ، بی این ایم اور ریاستی اداروں کے ہاتھوں مغوی نبیل بلوچ کے اہلخانہ نے ایک مشترکہ ریلی نکالی جو بیک وقت بلوچ شہداء اور لاپتہ افراد کیلئے تھی ۔
بلوچستان سمیت دنیا بھر میں بلوچ شہداء کے دن کو کامیابی سے منانے اور اس دن کو عالمی پہچان دینے میں بلوچ شہداء کمیٹی نے ایک کلیدی کردار ادا کیا ۔ اسی وجہ سے یہ دن عالمی میڈیا میں توجہ کا باعث بنا خاص طور پر بلوچ شہداء کمیٹی کی کوئٹہ میں زیر اہتمام ریلی جس میں شرکاء نے گائے فاکس ماسک پہنے ہوئے تھے وسیع پیمانے پر عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب کھینچنے کا باعث بنی ۔ اس ریلی کی تصاویر مختلف معروف میڈیا سائٹس پر آویزں کی گئی آسٹریلوی اخبار دی ٹیلی گراف نے اس ریلی کے ماسک پہنے ایک تصویر کو ہفتے کے بہترین تصاویر میں جگہ دی ، امریکی اخبار لاس اینجلیس ٹائمز نے اسے دن کے بہترین تصاویر میں شامل کیا ، اسکے علاوہ خلیجی اخبار پیننسولا،معروف ویب سائٹ گیٹی امیج اور ایکسپریس ٹریبیون نے بھی اس خبر اور تصاویر کو خاص جگہ دی ، یہ پہلی بار تھی کہ عالمی میڈیا نے کسی بلوچ ریلی کو اس حد تک پذیرائی دی ہو ۔ یاد رہے کہ بلوچ شہداء ڈے کے حوالے سے بلوچ شہداء کمیٹی نے خاص آگاہی مہم چلائی تھی جس کی وجہ سے پوری دنیا اس دن کی اہمیت اور بلوچ شہداء سے آگاہ ہوا ۔ اسی حوالے سے تامل یوتھ آرگنائزیشن نے بلوچ شہداء کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے بلوچ عوام کے نام ایک خیر سگالی کا پیغام بھیجا ، کردوں نے بھی اسی نسبت سے منعقد مختلف پروگراموں میں شرکت کرکے بلوچ شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کی اس کے علاوہ آگاہی مہم کے دوران سویڈش ، انگلش ، عرب ، انڈونیشائی ، ارجنٹینین ، بھارتی ، سندھی اور پختون اقوام کی جانب سے تصاویر کھینچ کر بلوچ شہداء کو سلام پیش کرکے اپنا پیغام پہنچانے کا بھی سلسلہ جاری رہا ۔ بلوچ شہداء کے قربانیوں کا احساس دلانے اور تمام شہداء کے دن کو برابری کے ساتھ منانے کی روایت قائم کرنے کی خاطر کئی بلوچ شہداء کے لواحقین نے 13 نومبر کے اہمیت پر اپنے ویڈیو پیغامات بلوچ عوام کیلئے بھیجیں جن میں شہید نثار اور مجید کے والدہ محترمہ ، شہید میر جان میرل کی والدہ محترمہ ، شہید خلیل کی والدہ محترمہ ، شہید سلیم کی بہن ، شہید غفار لانگو کی بیٹی اور شہید درویش کی والدہ محترمہ شامل تھی ۔ جنہوں نے اپنے پیغامات میں بلوچ قوم سے اپیل کی کہ وہ یہ دن مناکر شہداء کے ساتھ تجدید عہد کریں ۔
گذشتہ چار سالوں سے پاکستانی خفیہ اداروں نے بلوچستان میں کسی بھی سیاسی سرگرمی پر غیر اعلانیہ پابندی لگائی ہوئی ہے اور کسی بھی طرح متحرک سیاسی کارکنوں کو غائب و شہید بھی کیا گیا ہے جن کا مقصد بلوچ عوام کے دلوں میں ایک خوف بٹھانا تھا لیکن اسکے باوجود بلوچ عوام کا اس وسیع پیمانے پر 13 نومبر کو بلوچ شہداء ڈے منانا بلوچ سیاست میں یقیناًایک نئے رجحان کی طرف اشارہ کررہا ہے اور اس امر کا بھی اظہار ہے کہ ان شہداء کی بلوچ عوام کے دلوں میں ایک انتہائی مقدس مقام ہے جو یقیناًان شہداء کے مقصد کے احترام کے مترادف ہے ۔ اب 13 نومبر کا دن نا صرف بلوچ عوام کے ذہنوں میں بطور یوم شہداء قبولیت حاصل کرچکی ہے بلکہ پوری دنیا اب اس دن کو تسلیم کرچکی ہے جو یقیناًآزادی پسند بلوچ سیاست کیلئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0